حرف ِآغاز

Naa’at By Hazrat Ali r.a

Shab-e-Furkat

حرف ِآغاز

ہم میںسے ہر شخص ایک دوسرے کے حقوق کی امانت اٹھائے ہوئے ہے … جب تک ان امانتوں کوپوری دیانت داری سے ہم حقداروں کو لوٹانہیںدیتے ‘ امن ِ عالم ایک خواب کاعالم رہے گا۔حق دار کو حق لوٹانا‘ کسی قانون یا سزا کے ڈر سے نہ ہونا چاہیے

سنگِ درِ حبیب ﷺ ہے

سنگِ درِ حبیب ﷺ ہے ‘ اور سر غریب کا
کس اوج پر ہے ‘ آج ستارہ نصیب کا

آدھا رستہ

ذوق ِ یقیں میسر نہ ہوتو انسان‘ نظرنہ آنے والی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتاہے۔یقین کہ جب بھی تحقیق کی کٹھالی میں ڈالا جائے گا ہمیشہ تسلیم کا دوسرا رُوپ نکلے گا۔ یقین زندگی ہے

فیصلہ

آدھا رستہ طے کر آیا ،
اب کیا سوچ رہا ہے آخر !

سرِ عرش نعرہ بپا ہوا

سرِ عرش نعرہ بپا ہوا‘ کہ یہ کون ہے اِسے کیا ہوا
کوئی منچلا ہے کہ دل جلا‘ یا وجودِ ہست فنا ہوا

گمانوں کا لشکر ‘ یقیں کا ثبات

سورۃ ق ٓ میںخالقِ کائنات ِاصغرواکبر کا ارشاد ہے:’’بے شک ہم نے انسان کو تخلیق کیا اور ہم اس کے نفس میں پلنے والے وسوسوں کو خوب جانتے ہیں‘ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘

ؑحسین

سایۂ مصطفیٰؐ حسین
ہدیۂ مرتضیٰؑ حسین

توبہ کی حقیقت

جاننا چاہیے کہ سالکانِ راہِ حق کا پہلا مقام توبہ ہے،جیسا کہ طالبانِ حق کا پہلا عمل درجۂ طہارت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عزّاسمہـــــ‘ نے فرمایا ہے’’اے ایمان والو!اللہ کی جناب میں سچی توبہ کرو تا کہ تم فلاح پائو‘‘

گفتگو

بشرطیکہ توبہ قبول ہو جائے۔کافر جو اپنے کفر میں ہے وہ اپنے کفر سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو گیا‘تو اگر اب وہ مرتا ہے تو پاک ہو کے مرے گا‘اب اُسے ماضی کی

توبہ توبہ

مجھے تم سے محبت ‘ توبہ توبہ
یہ گستاخی یہ جرأت ‘ توبہ توبہ

خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے

واصف علی واصفؒ صاحب کے ساتھ میری ایک ہی ملاقات تھی‘ میں اس وقت صحافت میں نیا نیا آیا تھا‘ میں نے واصفؒ صاحب کی ’’دل دریا سمندر‘‘ پڑھی ہوئی تھی‘ میرا ایک کولیگ واصفؒ صاحب کا مرید تھا‘

چل خسروؒ گھر اپنے

میں ماٹی کی مورتی ، ماٹی میرا دیس
ماٹی موری جات ہے ، مَیں لائی سندیس

واصفیات

الہامی علم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نازل فرمائے۔ ایسا علم اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف نشاندہی کرتاہے اور بار بار پڑھے جانے کے قابل ہوتاہے۔اس لحاظ سے حضرت واصف علی واصفؒ کی کتابیں الہامی علم سے متصف ہیں۔

توشہ ٔ انتخاب

اُمت کے لیے مجموعی طور پر دعا کروکہ:یا اللہ ! یا رب العالمین ! حضور پاک A کی امت کو فلاح دے‘ ‘ تو جن کی امت ہے وہ تم پر کوئی نہ کوئی جلوہ آشکار کر جائیں گے

مکاتیب ِ واصف ؒ

آپ کی عنایت کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے اپنی مجلس میں میری حاضری کا اہتمام فرمایا۔آپ کی گفتگو کے فیض سے بہت سے سوالوں کے جوابات از خود مل گئے اور دل کو گونہ سکون حاصل ہوا۔تاہم اس مختصر سی حاضری نے تشنگی اور بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ آپ مزید نظرِ کرم فرمائیں گے تا کہ آپ کا قرب زیادہ سے زیادہ حاصل ہو اور میری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔آمین۔

گلہائے عقیدت

مجلس فکرِ واصفیہؒ لاہور کے زیرِ اہتمام ماہانہ محفل (نعتیہ مشاعرہ )میں پیش کیاگیا نعتیہ کلام

عید مبارک

افسردہ ہیں افلاک و زمیں‘عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں‘ عید مبارک