Table of content
- امانت .... دیانت .... حکومت
- حمدِ باری تعالیٰ
- بعد اَز خدا بزرگ توئی
- اِمام حسینؑ
- اِسلام + فرقہ = صفر
- قیادت
- پاکستان نور ہے‘ نور کو زوال نہیں
- حضرت واصف علی واصف ؒ اور عصرِ حاضر کے تقاضے
- تشریح عنواناتِ کتب حضرت واصف علی واصفؒ
- رُوپوشی
- سعدیؒ اور واصفؒ
- صاحب ِ خیر
- واصفِ ؒ باخبر
- نعت ِ رسولِ مقبولﷺ
- LEADERSHIP
- A COMMON MAN’S PHILOSOPHER
امانت …. دیانت …. حکومت
امانت اور دیانت ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح لازم و ملزوم ہیں …. جس طرح جسم کے ساتھ روح ۔ دیانت امانت کی روح ہے ۔جو اپنے اندر دیانت نہیں رکھتا‘ وہ امانت رکھنے کا اہل نہیں۔ کوئی خاندان ہو یا خانقاہ ….مملکت ہو یا معیشت …. دیانت کے جوہر کے بغیر اپنے وجودکاطول وعرض برقرار نہیں رکھ سکتی ۔
حکومت بھی ایک امانت ہے …. امانت نااہل کے سپرد ہوجائے تو سلامت نہیں رہتی۔ حکومت ….عوام کی طرف سے حکمرانوں کے پاس جمع شدہ چھوٹی بڑی بہت سی امانتوں کا ایک مجموعہ ہوتی ہے۔ یہ امانتیں حقوق کی شکل میں بھی ہو سکتی ہیں۔ مملکت کا حکمران مالک الملک کی منشاءکے مطابق ایک منشی بن کر عوام کی امانتوں کے بہی کھاتوں کی نگرانی کرتاہے ۔

