یہ کائنات ایک سوال ہے۔ سوال در سوال، اور ہر سوال کا جواب صرف خالقِ
کائنات کے پاس ہے کیونکہ وہ ہر عمل میں با اختیار ہے ‘ جس کا جواز بھی اُس کے پاس ہے۔ صاحبِ جواز ہی صاحبِ جواب ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلا سوال بھی اس نے خود ہی اٹھایا کہ میں نے کائنات کو تخلیق کیوں کیا؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا کہ ’’ میں ایک مخفی خزانہ تھا ‘ میں نے چاہا کہ پہچانا جائوں، سو میں نے کائنات کو پیدا کیا‘‘ دوسرا سوال انسان کی تخلیق پر فرشتوں کی طرف سے اعتراض کی صورت میں سامنے آیا: اے رب العزت! انسان دنیا میں فساد پیدا کرے گا ‘ تو صاحبِ جواز نے فرمایا:’’ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے‘‘
سوال اعتراض ہے ‘ جواب اطمینان ہے۔ سوال اضطراب ہے‘ جواب سکون ہے۔ سوال تجسس ہے اور جواب حاصل ہے۔ ایک اعتراض ابلیس نے کیا کہ آگ مٹی سے بہتر ہے تو آدمؑ کو سجدہ کیوں کروں۔ خدا تعالیٰ نے الفاظ کی صورت میں اس کا جواب دینے کی بجائے ابلیس کو بزمِ لامکاں سے نکال کر زمین پر بھیج دیا کہ جائو انسانوں کے درمیان اس سوال کا جواب تلاش کرو کہ تم بہتر ہو یا اولادِ آدم؟
حضرت عزیرؑ نے زندگی بعد از موت کا سوال کیا تو خدا نے براہِ راست مشاہدے کے لیے ان پر تین سو سال تک موت طاری کر دی اور حضرت ابراہیم ؑ کو اُن کے سوال کے جواب میںچار پرندے ذبح کر کے پہاڑ پر رکھنے کا حکم فرمایا۔ دوسری طرف حضرت موسیٰ ؑ نے سوال کیا کہ مجھ سے زیادہ بھی کسی کے پاس علم ہے تو خدا نے انہیں حضرت خضرؑ سے ملا دیا۔ انبیاء ؑ براہِ راست خدا سے سوال کرتے ہیں لیکن اُمت کے سوال ہمیشہ انبیاء کے توسط سے ہی خدا کے حضور پیش ہو سکتے ہیں۔خدا بھی اپنے بندوں سے کبھی یا ایہاالناس اور کبھی یاایہاالمومنون کے خطاب سے سوال کرتا ہے کہ ’’ تم میری کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے‘‘ یا جب انسانوں کو ان کی آفرینش سے آگاہ کرنا چاہتا ہے تو پوچھتا ہے : ’’ کیا میں نے تمہیں کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا نہیں کیا‘‘
انسان خود بھی ایک سوال ہے اور سوال کرنا اس کی سرشت میں موجود ہے اور خدا کبھی کبھی الہام کے ذریعے ‘کبھی وحی کی صورت میں ‘ کبھی القاء کی شکل میں نسلِ انسانی کے ہر سوال کا جواب دے رہا ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے سب سے اعلیٰ اور قابلِ یقین صورت ‘انسان کے لباس ہی میں پیدا فرمائی ہے۔ سلسلۂ نبوت ختم ہونے کے بعد اہلِ قلم ‘ اہلِ بیان اور صاحبِ باطن اولیاء کرام نے یہ منصب سنبھال لیا۔
حضور سرورِ کائنات Aکے علاوہ صحابہ کرام ؓ میں صرف باب العلم حضرت علی المر تضیٰ کرم اللہ وجہہ کا اعلان تھا کہ سوال کرو‘ زمین و آسمان کے بارے میں‘ زندگی اور موت کے متعلق‘ ہر قسم کے سوال ۔ ایک دفعہ آپ مسجد میں تشریف لے جارہے تھے اور نماز کا وقت قریب تھا ۔ ایسے نازک موقع کی تلاش میں چند یہودیوں نے آپ کا راستہ روک کر سوال کر ڈالا کہ کون سے جانور انڈے دیتے ہیں اور کون سے بچے۔ آپ نے بغیر کسی تردد کے چلتے چلتے برجستہ جواب دیا کہ جن جانوروںکے کان باہر ہیں وہ بچے دیتے ہیں اور جن کے کان اندر ہوتے ہیں وہ انڈے۔
تاریخِ تصوف میں صوفیاء و اولیاء کرام کے خطبات ‘ اقوال ‘ احوال اور نصائح تو ملتے ہیں ‘ محافلِ سماع و اذکار یا ذاتی مسائل کے حل اور دعائوں کے اجتماعات کا ذکر بھی موجود ہے۔ مفسرین ‘ محدثین ‘ فقہا اور اہلِ علم کی محفلیں صدیوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ تفسیر و شرح ِاحادیث یا مسائل فقہ کے بعض موضوعات پر سوال و جوابات بھی ہوتے تھے۔ اولیاء کرام کے ملفوظات بھی مختلف اقسام کے سوالات و جوابات سے مزین ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے ہاں بھی عوام و خواص کی محافل آراستہ ہوتی تھیں جہاں حالاتِ حاضرہ‘ مدنیت ِ اسلام اور سیاسیات ِ عالم کے علاوہ علمی سوالات بھی کیے جاتے تھے لیکن یہ ایک باقاعدہ محفلِ سوال نہیں تھی اور ایسی کسی بھی نامور شخصیت کے ہاں ایسی باقاعدہ محفل کا سراغ بھی نہیں ملتا‘ جہاں صرف سوال کرنے کی دعوت دی جاتی ہو۔ لیکن حضرت واصف علی واصفؒ کا اعلان تھاکہ سوال کرو‘ بولو‘ صرف وہ سوال جن کا جواب کتاب میں نہ ہو۔ یہ تاریخ میں ایک غیر معمولی اور منفرد اعلان ہے ۔ آپ ؒؒ بھی خدا کی طرف سے سوالوں کا جواب دینے پر مامور تھے۔ آپؒ اپنے دولت کدے پر ایک ہفتہ وار محفل میں حاضرین کو باقاعدہ دعوت ِ سوال دیتے۔ان کی یہ نظم بھی دعوتِ سوال کی حسبِ حال ہے:
محشر کی صبح کا ہی ذرا تذکرہ سہی
گزرے گی کیسے شام کوئی بات کیجیے
گزری ہے ان پہ کیا جو چمن سے بچھڑ گئے
امواجِ خوش خرام کوئی بات کیجیے
کچھ دیر مجھ غریب کی محفل میں بیٹھ کر
یارانِ خوش کلام کوئی بات کیجیے
واصفؔ نکل ہی آئے گی باتوں سے کوئی بات
ان سے برائے نام کوئی بات کیجیے
انسان کو قدم قدم پر سوالات کا سامنا ہے۔ اپنی حیثیت کے بارے میں ‘ خدا تعالیٰ کی ذات و صفات کے متعلق‘ مرگ اور بعد از مرگ کا سوال ‘ حلال و حرام کا سوال ‘ شریعت و طریقت کا سوال‘ بادشاہ ‘ اولی ا لامر اور مرشدِ کامل کا سوال ‘ خالق و مخلوق کے تعلق کا سوال‘ انسان اور انسانی رشتوں کا سوال‘ اپنی ابتداء انتہا کا سوال۔ یہ تمام سوالات اہلِ فکر و عمل کی جان کا روگ ہیں۔ یہ ایک الجھی ہوئی ڈور ہے جسے سلجھانے کا کام صدیوں سے جاری ہے۔ لیکن اس ڈور کو کوئی ناخن گرہ کشا ہی سلجھا سکتا ہے۔ حضرت واصفؒ گرہ کشائی میں مصروف ہیں اور عقل و خرد کے اندھیروں کو اجالنے پر مامور ہیں ۔ اہلِ محفل اپنا اضطراب سوال کی صورت میں اُن تک پہنچاتے ہیں اور اُدھر سے یہ اضطراب سکون بخش جواب میں ڈھل کر سینوں میں منتقل ہو جاتاہے ۔ اُن کے دولت کدہ پر آراستہ محفلِ سوال کے سامعین و حاضرین آج بھی نہ صرف ہم میں موجود ہیں بلکہ ان کے جوابات بھی مکمل طور پر محفوظ ہیں جنہیں آئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لیے ان کے عقیدت مندوں نے صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کا عمل جاری کر رکھا ہے۔
صاحبِ علم کتابوں کے مطالعے اور نظری مشاہدے کا محتاج ہے‘ پھر بھی ہر علم کی انتہا حیرت ہے‘ علم کے پاس دلیل تو ہے ‘ یقین نہیں ‘ حقیقی مشاہدہ صرف عشق کے پاس ہے۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
علم کی حد سے پرے بندۂ مومن کے لیے
لذتِ شوق بھی ہے نعمتِ دیدار بھی ہے
ہر سوال کا جواب کون دے سکتا ہے۔ اس کا جواب بھی حضرت اقبالؒ کے اس شعر میں پوشیدہ ہے۔
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحبِ اَسرار کرے
یعنی حقائق کی تہہ تک پہنچنے کے لیے صاحبِ اَسرار ہونا ضروری ہے۔ ’’گفتگو ‘‘کے اب تک چھبیس(۲۶) والیم قارئین تک پہنچ چکے ہیں جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایک طرف کے انسان کتنے بے خبر ہیں اور دوسری طرف کا انسان کس قدر با خبر۔ حقیقت یہ ہے کہ صاحبِ اَسرا رہی صاحبِ خبر ہو سکتا ہے۔ حضرت واصفؒ نے اپنی ایک نظم میں اپنے باخبر ہونے کاراز فاش کیا ہے‘ فرماتے ہیں:
میرا نام زینتِ داستاں ‘ میں کسی کے حسن کا پاسباں
میں کسی کی بزم کا ہوں نشاں ‘ میں دیارِ یار کی بات ہوں
میں خبر کے دام کا دام ہوں ‘ میں خرد کدے کا امام ہوں
میں علی ؑ ولی کا غلام ہوں ‘ اسی تاجدار کی بات ہوں
باخبروہی ہو سکتا ہے جسے صاحبِ خبر تک رسائی حاصل ہو ۔ ایک سرچشمۂ خبر‘ عرش نشیں … یعنی خدائے ذوالجلال ‘ دوسرے صاحبِ خبر‘ فرشِ زمین پر فروکش …یعنی مخبرِ صادق A …اوراِن کی نسبتِ حقیقی کا نام علی ؑ ہے اور حضرت واصفؒ …غلامِ علی ؑ ہیںکہ باب العلم کی نگاہِ فیض کے بغیر اِن مشکل ترین سوالات کے جواب نہیں دیے جا سکتے۔
کسی نے حضرت واصفؒ سے سوال کیا کہ شریعت اور طریقت میں کیا فرق ہے؟
آپؒ نے فوراََ جواب دیا:’’شریعت میں محبت داخل کر دو تو طریقت بن جاتی ہے‘‘
سوال کیا گیا غیر اللہ کسے کہتے ہیں؟ مختلف مکاتبِ فکر صدیوں سے اس بحث میں ہیںلیکن حضرت واصفؒ نے نہایت سہولت سے اس کی وضاحت فرما دی : ’’ جو آپ کو اللہ سے دور لے جائے وہ غیر اللہ ہے اور جو آپ کو اللہ سے ملا دے وہ غیر اللہ نہیں ہو سکتا۔
کسی نے سوال کیا : ’’اللہ اور اللہ کے حبیب Aمیں کیا فرق ہے؟‘‘
آپؒ نے فرمایا : ’’جب تک انسان عاشق نہیں بنتا تو ان دونوں میں فرق رہتا ہے ‘ عاشق بن جائے تو فرق نہیں رہتا کیونکہ عاشق کو پتہ نہیں ہوتا کہ فرق کیا ہوتا ۔ عشق کا مطلب کسی عاشق سے پوچھو تو وہ کہے گا کہ عشق صرف محبوب ہے‘‘
کسی نے سوال کیا کہ کیسے پتہ چلے کہ دل میں اللہ اور اللہ کے حبیب Aکی محبت پیدا ہو گئی ہے؟ آپؒ نے فرمایا: ’’بات یہ ہے کہ اگر کسی کی سوچ پر اللہ اور اللہ کا رسولA غالب آ گئے تو اس سے پہلے جو بے شمار سوچیں ہوتی ہیں ‘وہ ختم ہو جاتی ہیں۔ جب نگاہوں میں وہی صورت سما جائے تو اسی کا نام محبت ہے‘‘… یہی بات آپؒ نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمائی ہے:
صورت مری آنکھوں میں سمائے گی نہ کوئی
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکار ؐ کی صورت
کسی نے سوال کیا کہ علیحدہ نماز پڑھنے اور با جماعت نماز میں کیا فرق ہے؟
آپؒ نے فرمایا :’’ میں آپ کواس کا راز بتاتا ہوں ۔ اجتماعی عبادت اجتماعی فارمولا ہے اور علیحدہ عبادت علیحدہ فارمولا ہے۔ علیحدہ تعلق کا علیحدہ قانون ہے… اور اب آپ کا اگر اجتماعی تعلق ہے تو اجتماعی قانون ہو گا۔ اس لیے آپ اجتماعی فارمولا بھی رکھو اور اللہ کے ساتھ علیحدہ قانون بھی رکھو۔ اس سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کیا کرو۔ علیحدہ عبادتیں بھی کیا کرو۔ پھر بات ٹھیک ہو جائے گی‘‘ سوال کیا گیا کہ انسان صاحبِ حال کیسے بنتا ہے؟ حضرت واصفؒ نے فرمایا ’’ صاحبِ حال سے تعلق صاحبِ حال بنا دیتا ہے‘‘
سوال کیا گیا :’’ اللہ والے کون ہوتے ہیں؟ ‘‘
آپؒ نے فی البدیہہ جواب دیا :’’ اللہ انسانوں سے بے نیاز ہے لیکن اللہ والے بے نیاز نہیں ہوتے۔ اسی لیے تو وہ اللہ والے کہلاتے ہیں‘ یعنی اللہ والے انسانوں والے بھی ہوتے ہیں۔ اللہ کا قرب ملتا ہی انسانوں کی خدمت اور ان کی محبت سے ہے‘‘
جب سے انسان نے الٰہیات کے بارے میں سوچنا شروع کیا ہے تقدیر اور تدبیر کے متعلق فکری اشکال میں الجھتا رہا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں آپؒ نے فرمایا: ’’تقدیر اپنا بیشتر کام انسانوں کے اپنے فیصلے میں ہی مکمل کر لیتی ہے انسان راہ چلتے چلتے دوزخ تک جا پہنچتا ہے یا وہ فیصلے کرتے کرتے بہشت میں داخل ہو جاتا ہے۔ بہشت یا دوزخ انسان کا مقدر ہے لیکن یہ مقدر انسان کے اپنے فیصلے کے اندر ہے‘‘
کسی نے سوال کیا : ’’خوشامد کسے کہتے ہیں؟‘‘آپؒ نے فوراً جواب دیا : ’’ دو انسانوں کے مابین ایسے الفاظ جسے سننے والے سچ سمجھ لیں اور کہنے والا جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے ‘ خوشامد کہلاتا ہے‘‘
سوال کیا گیا :اہلِ قرآن کون لوگ ہوتے ہیں؟
آپؒ نے فرمایا ’’مسلمانوں کے لیے اہلِ قرآن ہوناکافی نہیں ‘ حاملِ قرآنِ مبین A کے ساتھ نسبت کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ:
’’جس ذات پر نزولِ کلامِ مجید ہو وہ ذات کم نہیں ہے مقدس کتاب سے‘‘
برسوں پر محیط سوال و جواب کے اس بحرِ ذخّار کو ایک مضمون میں سمیٹنا تو ممکن نہیں لیکن جوابات کی نوعیت دیکھ کر یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ سوال علم ہے اور جواب عشق ہے‘ سوال مخلوق ہے اور جواب خالق ہے کیونکہ یہ خالقِ کائنات کی طرف سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے انسانوں کے سوال کا جواب دینے کے لیے انسان ہی مامور کر رکھے ہیں ‘ وہ انسان جو باخبر ہوں ‘ جو محرم راز ہوں ‘ جن کے سینے کے فانوس روشنی سے منور ہوں ‘ دیارِ عشق میں جن کا مقام متعین ہو چکا ہو اور حضرت واصف علی واصفؒ ان تمام فیوض سے مالا مال تھے۔آپؒ نے اپنے تمام مجموعۂ اشعار میں جگہ جگہ کہیں کھل کر اور کہیں استعارے میں لپیٹ کر یہ راز فاش کر دیا ہے کہ:
کیا بتائوں کہ کون ہے واصفؔ
بات کس کے جہاں کی کرتا ہے
ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
ورق ورق میری نظروں میں کائنات کا ہے
کہ دستِ غیب سے لکھی ہوئی کتاب ہوں میں
’’شب چراغ‘‘ اور’’ شب راز‘‘ میں تو کئی جاگتی راتوں کے راز پوشیدہ ہیں‘ اسے پڑھنے والا حضرت واصفؒ کی حقیقت سے آشنا ہو سکتا ہے۔ فرماتے ہیں:
ذوقِ نظر ملے تو تماشا ہے کائنات
ہر ذرے میں چھپے ہیں کئی آفتاب سے
پہلے تو اپنے آپ کو اک آئینہ بنا
وہ خود نکل کے آئیں گے اپنے نقاب سے
حضرت واصفؒ ہر سوال کا جواب ہیں‘ ہر الجھن کی سلجھن ہیں‘ ہر گرہ ان کے ہاتھ سے کھلتی ہے‘ آپؒ ہر درماندہ راہرو کی منزل ہیں۔ ان کے جوابات عقل کے نشتر سے لگائے ہوئے ہر زخم کا مرہم ہیں۔ وہ انسانوں کے بھٹکے ہوئے قافلے کے حدی خواں ہیں۔ حضرت اقبالؒ نے اپنے قافلے کو جس مقام پر چھوڑا تھا وہیں سے حضرت واصفؒ نے اس کی مہار تھام لی… کیونکہ دونوں کا وِرد اور مرکز ِعقیدت مشترک ہے ‘ آپؒ نے فرمایا:
میرا نام واصفؔ باصفا ‘ میرا پیر سیدِ مرتضیٰ ؑ
میرا وِرد احمدِ مجتبیٰ ؐ ‘میں سدا بہار کی بات ہوں

Share thisGoogle+FacebookTwitterLinkedInPinterestStumbleUpon