بعد اَز خدا بزرگ توئی

یا نبی تیرا کرم درکار ہے
آزمائش میں مرا کردار ہے

اِمام حسینؑ

السّلام اے نُورِ اوّل کے نشاں السّلام اے راز دارِ کُن فکاں السّلام اے داستانِ بے کسی السّلام اے چارہ سازِ بےکساں السّلام اے دستِ حق ، باطل شِکن السّلام اے تاجدارِ ہر زماں السّلام اے رہبرِ علمِ لدُن السّلام اے افتخارِ عارفاں السّلام اے راحتِ دوشِ نبی السّلام اے راکبِ نوکِ سناں السّلام اےRead more…

اِسلام + فرقہ = صفر

اگر کلامِ الہٰی یا قرآنِ کریم میں کسی لفظ کا اضافہ کر دیا جائے یا کسی لفظ کی تخفیف کر دی جائے، تو وہ قرآن نہیں رہے گا اور تحریف کرنے والا واجب القتل ہو گا۔قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے اور اتنا مکمل ہے کہ اس میں اللہ کے لفظ کا بھی اضافہ ممکن نہیں ۔

قیادت

جب قائدین کی بہتات ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ قیادت کا فقدان پیدا ہو گیا…. قائدین کی کثرت ‘ ملت کو تقسیم کر کے راستے کے تعیّن کو دشوار بنا دیتی ہے…. وحدتِ مقصد ختم ہو جائے تو کثیرالمقصدیت پیدا ہو جاتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منزل کا مفہوم ہی مُبہم ہو کر رہ جاتا ہے۔

پاکستان نور ہے‘ نور کو زوال نہیں

۴۸۹۱ محترم عطاءالحق قاسمی نے بزم اقبال ؒ ( ایم ۔اے ۔او۔ کالج ) اور ایوانِ وقت (روزنامہ ”نوائے وقت “) کے زیر اہتمام ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ۔ مذاکرے کا موضوع ”پاکستان“ تھا۔ اس مذاکرے میں علم و ادب کے حوالے سے ملک کی نامورشخصیات نے شرکت کی۔ کہنے کو تو یہ ایک مذاکرہ تھا ‘ لیکن درحقیقت یہ سوال و جواب کی ایک نشست تھی ‘ جس میں شریک ِ محفل دانشور حضرات نے آپؒ کے روحانی علم سے اکتساب ِ نور کیا۔
تشکیک کی پُر خار وادیوں سے نکل کر یقین کے نخلستان میں قدم رکھنا بلاشبہ فیض کا پہلا مرحلہ ہے۔

حضرت واصف علی واصف ؒ اور عصرِ حاضر کے تقاضے

محمداقبال انجم حضرت واصف علی واصفؒ ۵۱ جنوری کو دنیا میں تشریف لائے اور ۸۱ جنوری کو اپنے رفیقِ اعلیٰ کے پاس واپس چلے گئے۔ گویا انہیں تین دن کی زندگی ملی۔ بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا: عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں دنیاRead more…

تشریح عنواناتِ کتب حضرت واصف علی واصفؒ

شب چراغ : شعری مجموعہ شب چراغ ذو معنی اصطلا ح ہے: اس کے دو معنی یوںہیں۔ ( ۱) شب چراغ ….یعنی وہ شب جو چراغ بھی ہو۔(۲) شب چراغ…. یعنی وہ چراغ جو رات کو جلتاہے۔چراغوں بھری رات وہ رات ہوتی ہے ‘جس میں ستارے چراغ کی طرح چمکتے ہوں…. اور یہ اندھیری راتوںRead more…

رُوپوشی

میں واصفؒ صاحب پر بات کرنے کی اہل تو نہیں لیکن کاشف اس بات پر مُصر ہیں کہ جو کچھ بھی ہے ‘اسے منکشف کیاجائے ۔ کچھ سال ادھر کی بات ہے

سعدیؒ اور واصفؒ

حکائت ِ سعدی ایک دفعہ ایک عورت اپنے شوہر کے پاس فریاد لائی کہ گلی کے غلہ فروش سے دوبارہ غلہ، روٹی وغیرہ نہ خریدنا بلکہ گندم بیچنے والوں کے بازار میں جانا۔کیونکہ گلی کا غلہ فروش تو گندم نما جَو بیچتا ہے۔ اس کے پاس گاہک نہیں جاتے۔ مکھیوں کے ہجوم کی وجہ سےRead more…

صاحب ِ خیر

آج کل موت کی خبر اتنی عام ہے جتنی صبح کا اخبار ، مگر کبھی کبھی کسی خبر کی تلاش میں شام کے وقت اخبار دیکھنا پڑ جاتا ہے۔ واصفؒ صاحب خاص طور پر زندہ آدمی تھے۔ موت ان کی بھی ایک عام خبر بن گئی۔ وہ جانتے تھے کہ باخبر آدمی اور صاحبِ خبرRead more…

واصفِ ؒ باخبر

تیرا فرمایا مولیٰ کا فرمان ہے واصفِؒ باخبر تیری کیا شان ہے گفتگو تیری تفسیرِ قرآن ہے مرشدِ باہُنر تیری کیا شان ہے تیرے دَر پہ خرد جھک کے سجدہ کرے تو بھی شانِ سلونی کا سلطان ہے واصفِؒ باخبر تیری کیا شان ہے تیرے دَر سے حقیقت کا عرفاں ملے تیرے دم سے کنولRead more…

نعت ِ رسولِ مقبولﷺ

مری قبول ہوئی ہر دُعا مدینے میں بہت قریب تھا مجھ سے خُدا مدینے میں ہوئی قریب تو جھُک کر سلام کر کر کے بڑی تمیز سے گزری ہوا مدینے میں خُدا ، رسول ، سبھی انبیاؑء، صحابہ کرامؓ کہ اُن کے فیض سے کیا کچھ ملا مدینے میں وہ روضہ آنے سے پہلے ہیRead more…

LEADERSHIP

Selection from OCEAN IN A DROP Translation of Hz.Wasif Ali Wasif’s book Qatra Qatra Qulzam When there are too many leaders around, know for certain that an absence of leadership has become too pronounced.  The diversity of leadership divides the nation and makes it difficult to determine the way to be followed.  When the unityRead more…

A COMMON MAN’S PHILOSOPHER

Ali Faraz Ali Amongst a large number of Wasif Ali Wasif’s readers, a very few, in spite of their wish, ever met him personally. He never went to any public gathering and seldom invited anyone home. He once said, “I feel the best in solitude. I tolerate meetings.” Even in a gathering he could beRead more…