اِجماعِ اُمت

ایک روز ایک شخص حضرت واصف علی واصف ؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میرا سوال ذرا لمبا ہے‘اجازت ہو تو میں عرض کروں۔آپ میں جو بے شمار خصوصیات تھیں‘ان میں سے ایک خاص وصف یہ تھا کہ ہر کسی کی بات بڑے تحمل سے سنتے رہتے تھے۔

واصف علی واصفؒ اور اُردو انشائیہ

آج مجھے یہ سعادت حاصل کرنے کاموقع ملا ہے کہ میںایک ادیب ہونے کے ناطے جناب واصف علی واصفؒ کی یاد کے دیپک روشن کروںاور اس کے ساتھ ساتھ اُ ن کی تحریر کا اُردو انشائیہ کے تناظر میں ایک ادبی جائزہ پیش کروں۔

گنجینہ ٔ معانی

فکرِ واصفؒ سے پہلا تعارف۲۰۰۱ میں ہوا۔ کتب بینی کا شوق بچپن سے تھا۔ ایک دوست کے پاس ـ’’بات سے بات‘‘ پڑی دیکھی تو اٹھا لایا۔ پہلی نظر میں اقوال زرّیں کا مجموعہ لگا۔جب آدھی سے زیادہ کتاب پڑھ لی تو احساس ہوا کہ یہ توایک ہی شخص کی باتیں ہیں۔ حیرت کے ایسے مقام سے کم ہی گزر ہوا تھا

خیال کے مسافر

خیال کے مسافر دراصل خالقِ خیال کے مسافر ہیں۔خیال کا سفر لا محدود ہے۔ خیال کے مسافر’’ اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی کسی اور دنیا میں رہتے ہیں‘‘۔خیال کے مسافر ’’لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون‘‘کی منزلوں کے راہی ہوتے ہیں۔خیال ایک بہت بڑی دولت ہے‘ایک انمول خزانہ ہے۔خیال کے مسافر خوش نصیب ہوتے ہیں… اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔

باطن

محمد وقار حیدر
سوچ میں ڈوبانہیں جا سکتا کیونکہ سوچ ہمیشہ الجھن میں ڈالتی ہے۔جسے ہم سوچ میں ڈوبناکہتے ہیںوہ دراصل ایک نقطے پر اپنے آپ سے متفق ہو کرہم اپنے آپ میں ڈوبتے ہیں۔

حکایت

ایک سال ہشام بن عبدالملک بن مروان حج کے لئے آیا۔طوافِ کعبہ کر رہا تھا اور چاہتا تھاکہ حجرِ اسود کو بوسہ دے لیکن اژدہام میں وہاں تک پہنچنے کی راہ نہ ملتی تھی۔ جب وہ منبر پر خطبہ دینے کھڑا ہوا تو حضرت زین العابدین بن الحسین بن علی رضوان اللہ علیھم اجمعین مسجدِ حرام میںاس جاہ و جلال سے داخل ہوئے

شعلۂ طُور آیا ہے

عشق والوں کے دل و جاںپہ سُرور آیا ہے
اُس مہِ کاملؐ کا پھر ماہِ ظہور آیا ہے

لے کے اَفلاک سے خود تحفۂ قرآنِ مبیں
ظلمتِ دہر مٹانے کو وہ نورؐ آیا ہے

باخدادیوانہ باشد بامحمدﷺ ہوشیار !!

ڈاکٹر اظہر وحید دیانت کیاہے … اور خیانت کیاہے؟ دیانت کی ابتداعمل سے پہلے قول سے شروع ہوتی ہے اور قول سے پہلے خیال سے ۔ جو شخص خیال میں خیانت کا مرتکب ہوتاہے ‘ وہ کسی عمل اور عقیدے میں دیانتدار نہیں ہوسکتاہے۔ لفظ کہناایک عہد کو دہرانے کے مترادف ہے … وہ عہدRead more…

السّلام اے سبز گنبد کے مکیں !

نعت تو بڑے مقدر کی بات ہوتی ہے۔ہمیں تو سرکار ﷺ کی مدح میں کالم کے چند فقرے ہی نذر کرنے کی توفیق مل جائے تو شکر گزاری سے روح اور قلب سرشار ہو جاتے ہیں۔اسی سوچ میں سرگرداں‘میںزمان اور مکان کی گردش میں جسمانی سطح پر محوِ سفر تھا

خاک وطن محو دُعا

نورِ خدا ظاہر ہوا ‘ صل علیٰ صل علیٰ
شاخِ زماں پہ کِھل گیا ‘ صل علیٰ صل علیٰ

کیسے بنے کون و مکاں ‘ اتنی سی ہے یہ داستاں
نورِ اَحد ‘ واحد ہوا ‘ صل علیٰ صل علیٰ

حضرت واصف علی واصف ؒ اور پاکستان

گذشتہ دنوں ۱۶ جنوری ۲۰۱۱ء ’’واصفؒ خیال سنگت‘ گوجرانوالہ ‘‘ کے زیرِاہتمام ملک کے نامور ادیب،شاعر،صوفی دانشور حضرت واصف علی واصف علیہ الرحمتہ کی یاد میں ایک عظیم الشان سیمینار گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔

NEARNESS TO ALLAH II

What a strange thing it is that those who are near to Allah live among human beings. Can it be that one’s nearness to the people denotes nearness to Allah? Everyone knows the blight that overtook him who was near only to Allah and refused to be near to man.

Nearness to His Highness

Had his Highness been a physical reality, proximity could have been enough for the seeker. Had the Seeker been a physical entity, the physical nearness alone would have furnished the decorum of Love.

حرف ِآغاز

کوئی انسان اس وقت تک کسی کی تعریف نہیں کر سکتاجب تک وہ خودبھی اس تعریف کا اہل نہ ہوجائے۔کسی کی عظمت کا معترف ہونے والا خود بھی ایک عظمت کا حامل ہوتاہے … اور کسی انسان کی عظمت کا منکردراصل خود کسی تعریف کے قابل نہیں ہوتا۔ جو کسی انسان کا معترف نہیںہوتا‘ وہ خود معتبر نہیںہوتا۔

میلاد النّبی

مبارک صد مبارک بانی دینِ مبیں آئے مبارک اہلِ ایماں کو کہ ختمُ المرسلیں آئے
چراغِ طو ر آئے، زینت ِ عرشِ بریں آئے مبارک ہو کہ دنیا میں شہِ دنیا و دیں آئے

عید میلاد النبی صلى الله عليه وسلم کیسے منایاجائے؟

پہلے تو آپ یہ دیکھو کہ آپ یہ کہہ رہے ہو کہ آج کے دن حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی ولادت ہوئی یعنی آپ صلى الله عليه وسلم آج کے دن آئے۔لیکن حضور پاک آج کے دن تو نہیں آئے۔آج جو دن ہے وہ ۱۹۸۷ء کے نومبر کے مہینے کادن ہے۔حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی ولادت کا دن تو ایک تھا

چہرہ

جس طرح آسمان کی بسیط وسعتوں اور عمیق پہنائیوں میں کروڑوں ستارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں‘جمیل و جسیم ستارے اور سیارے حسنِ کائنات کے انوکھے پُر تاثیر مظاہر ہیں‘اسی طرح حیاتِ ارضی میں کروڑوں چہرے اپنے اپنے خیال اور اپنی اپنی ضروریات کے مدار میںسرگرمِ عمل ہیں‘مصروفِ عمل ہیں‘مصروفِ سفر ہیں۔پُر تاثیر مؤثر چہرے حسنِ زندگی کی تفسیرِ مُقدس کے مظاہر ہیں۔

آنکھیں

عجائباتِ دہر میں سب سے بڑا عجوبہ انسانی آنکھ ہے۔ یہ ایک کیمرے کی طرح ہے لیکن اس کی ساخت میں قدرتِ کاملہ نے کمال دکھایا ہے ۔یہ چہرے کی زینت ہونے کے ناطے سے بھی انسان کی شخصیت کا طرّئہ امتیاز ہے۔

خیالِ پنہاں

حضرت واصف علی واصفؒ دورِ حاضر کے ایک معروف صوفی دانش ور ہیں ۔ ٓآپ ؒنے اپنی تحریر اور گفتگو کے ذریعے عصرِحاضر کے ادب پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیںجو وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتے جارہے ہیں۔ آپ کی تحریریں اپنے اندر ایک تحیر لئے ہوئے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے اُن کے اندر علم کاایک سمندر سمایا ہوا تھا

حضور نبی کریم صل اللھ علیھ وسلم کی رحمت و شفقت

اے لوگو!تمہارے پاس ایک رسول آیا ہے جو خود تم میں سے ہے اور تمہارا نقصان میں پڑنا اس کے لئے شاق ہے‘تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے وہ شفیق اور رحیم ہے۔اس سے زیادہ اور کیا سند ہو سکتی ہے کہ حضور پاک کی رحمت اور شفقت کا اعلان اللہ کریم نے خود فرمایا ہے