گفتگو

رمضان شریف کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اگر آپ قرآن پڑھ نہیں سکتے تو رمضان شریف میں ایک بار قرآن ضرور سُن لو۔یہ ہر آدمی اپنے لئے فرض بنا لے

روزے کے آداب

روزہ او رسجدہ انسان کو اللہ کے بہت قریب کر تے ہیں۔

واصف ؒشناسی اور عصر ِحاضر

واصفؒ شناسی کے سفر پر میرا پہلا پڑاؤ اُن کا گھر فردوس کالونی ،گلشن راوی لاہور تھا۔کاشف اُن کا فرزند‘ میرا میزبان تھا۔کاشف نے واصف ؒصاحب کے بارے میں موجود دستاویزات تک مجھے رسائی دی ۔ان کی تحریروں کے مطالعے کے دوران میری نظر روزنامہ ـ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے ایک ایڈیشن پر رک گئی:
’’پاکستان نور ہے ،نور کو زوال نہیں … واصف علی واصف ! ‘‘

خِرد کی گُتھیاں سلجھا گیا وہ

خرد کی گتھیاں سلجھا گیا وہ
جنوں کا راستہ دکھلا گیا وہ

Shaping the Future of Pakistan

پاکستان میںتعلیمی نظام کیسے درست کیا جاسکتاہے
چند تجاویز…تعلیماتِ واصفؒ کی روشنی میں !!

گلہائے عقیدت

بجُز خیال کے طیبہ دکھائی دیتا ہے
محبتوں کو یہ رستہ دکھائی دیتا ہے

واصف علی واصفؒ …ایک سچائی

رہنما بہت ہوئے،ولی بہت ہوئے،فقیر بہت،اللہ والے بھی بہت،نبی پاک ﷺ سے محبت کرنے والے بھی بہت پیدا ہوئے اور نامور بھی ہوئے۔کیا یہ سب لوگ ناموری کے لئے آئے‘ یااُنہوں نے وہ کچھ کیا جس سے اِبتلا سے نجات ملی ہو‘گھروں میں سدھار آیا ہو ‘یا ہمارے اعمال سُدھر گئے ہوں۔

کتابِ ہستی کے سارے عنواں

کتابِ ہستی کے سارے عنواں ‘ بنامِ احمدﷺ بنامِ احمدﷺ
نصابِ مستی کے سارے اِمکاں ‘ کلامِ احمدﷺ کلامِ احمدﷺ

حضرت واصف علی واصفؒ اور پاکستان

عصرِ حاضر میں قبلہ واصف علی واصفؒ صاحب ایک نابغۂ روزگار شخصیت ہیں جن کی تعلیمات کا خاصہ ہے کہ یہ ہمیں روح و حقیقتِ دین و دُنیا سے روشناس کراتی ہیں۔ یہ تعلیمات ہمارے لئے اِس فانی زندگی اور اُس ابدی حیات کے ہر ہر شعبے میں مشعلِ راہ ہی نہیں‘مینارۂ نُور ہیں۔اخلاقیات کی تعلیم اور خیال کے مسافروں کی تربیت کا اس قدر حسین امتزاج کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے

BOTH WING THEIR WAY THROUGH THE SAME ATMOSPHERE

At some stage, as they wheeled somewhere high above the world, the vulture and the falcon came together. As they sailed through the air, side by side, it was but natural that they should have a chat.

Making of a Diamond

Intent precedes thought and thought then proceeds to make actions. Action is a fruit of thought; intent is a food for thought.

حرف ِآغاز

دنیا دار کی نیکی کی کوکھ میں ایک برائی پوشیدہ ہوتی ہے … یہ برائی اس وقت جنم لیتی ہے جب وہ اپنی من مرضی کی نیکی کرتا ہے یا پھر نیکی میں من مرضی کرنا چاہتا ہے …کہ اس من مرضی کاتعلق من سے نہیں ٗ تن سے ہوتا ہے ۔ من مرضی کاسیدھا مطلب ہے من مانی کرنا …

اِس نامِ محمد ﷺ کے صدقے

انوار برستے رہتے ہیں اُس پاک نگر کی راہوں میں
اک کیف کا عالم ہوتا ہے طیبہ کی مست ہوائوں میں

اس نامِ محمد ﷺ کے صدقے بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے
اس کو بھی پناہ مل جاتی ہے جو ڈوب چکا ہو گناہوں میں

صداقت

دوست نے دوسرے سے پوچھا’’بھئی آپ نے زندگی میںپہلا جھوٹ کب بولا‘‘۔دوست نے جواب دیا’’جس دن میں نے یہ اعلان کیا کہ میںہمیشہ سچ بولتا ہوں‘‘۔سچ اور جھوٹ ہماری زندگی میں کچھ اس طرح شِیروشکر ہو گئے ہیں کہ ان کو جدا کرنا مشکل سا ہے۔کاذب ماحول میں صادق کی زندگی ایک کربلا سے کم نہیں۔

غزل

کل تک جو کر رہے تھے بڑے حوصلے کی بات

ہے ان کے لب پہ آج کٹھن مرحلے کی بات

جس کارواں کے سامنے تارے نِگوں رہے
صحرا میں اُڑ گئی ہے اُسی قافلے کی بات

الفاظ

ہر خیال اپنے مخصوص پیرہن میں آتا ہے۔یہ پیرہن الفاظ سے بنتا ہے۔خیال نازل فرمانے والے نے الفاظ نازل فرمائے ہیں۔الفاظ ہی کے دم سے انسان کو جانوروں سے زیادہ ممتاز بنایا گیا ۔انسان اشرف ہے اس لئے کہ وہ ناطق ہے۔

محفل

سوال : اللہ تعالیٰ گناہ تو بخش دیتا ہے لیکن گناہ نیکی میں کیسے بدل جاتے ہیں؟

اقتباساتِ گفتگو

ہم نیکی رضائے الٰہی کے لیے کرتے ہیں اور اس کے نتائج اور اس کی شہرت دنیا میں تلاش کرتے ہیں ۔ یہی بنیادی خامی ہے ۔ اگر زمانہ تاریک ہے تو جگنو کو خوش ہونا چاہیے۔ جھوٹے ماحول میں سچا آدمی اذیّت میں نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟ معاشرے میں اذیّت ہی اِس کی داد ہے۔

فرزندِ ذی وقار زمین ِ خوشاب کا

ہے سلسلہ عجیب سوال و جواب کا
وہؒ بابِ التفات شہِ بوتراب ؑ کا

اک لذّتِ دوام ہے ان کے کلام میں
الفاظ سے ٹپکتا ہے نشّہ شراب کا

صاحب ِ بیان

’’کُن‘‘ بیان ہے‘اولین امر و فعلِ الٰہی۔خالق و مالکِ کائنات کی زبان سے نکلا ہوا پہلا لفظ۔عدم ہو یا وجود…جہاں تک ’’کُن‘‘ کی حکمرانی ہے…بیان کے جھنڈے گڑے ہیں۔