ملک دے معروف شاعر ‘ ادیب‘ دانشور‘ قانون دان تے سیاستدان جناب اعزاز احمد آذرؔدے نال اثرؔچوہان ہوراں دااک مکالمہ
’’پاک بھارت سرحدی لکیر نوں ہور گاڑھا
تے گوڑھا کر دینا چاہیدا اے‘‘
ملک دے معروف شاعر ‘ ادیب‘ دانشور‘ قانون دان تے سیاستدان جناب اعزاز احمد آذرؔدے نال اثرؔچوہان ہوراں دااک مکالمہ
’’پاک بھارت سرحدی لکیر نوں ہور گاڑھا
تے گوڑھا کر دینا چاہیدا اے‘‘
نادانوں کا دان ہے واصفؒ
دل والوں کی جان ہے واصفؒ
تیرا نام واصفِؒ با خبر ‘ تو خبیرعالم ِ لامکاں
تری کائنات پہ ہے نظر ‘تو کتابِ معنیٔ دو جہاں
It is the duty of the leadership to inculcate the passion for a journey. A leader ought to create a spirit of awareness in the nation. The passion for journey is a divine blessing.
I may not be able to express what I wish to say andwhat I am about to say is perhaps not what I intended in the first place. This is where I find myself at a loss and this happens to be the predicament which typifies my era. We are passing through excruciating circumstances.
Action without thought is a stray bullet. A thought without action is a seed lying dormant in the ground. Thought is the trail on which actions tread the way towards a destination. Thought is a preamble of every Genesis of action.
کام میں اخلاص یہ ہے کہ اسے اپنی ذات کا حصہ بنالیا جائے … مگر اپنی اَنا کا نہیں۔ کام میں اِخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ جب سونپ دیا جائے تو اِسے قبول کرنے میں متامّل نہ ہو… جب واپس لے لیا جائے تو مزاحم نہ ہو …اور جب اپنے سے بہتر انسان میسر آجائے تو اُس کے سپرد کر دینے میںمتردّد نہ ہو۔
چار سُو نُور کی برسات ہوئی آج کی رات
احد اور احمد ﷺ کی ملاقات ہوئی آج کی رات
علی ؑ عرفان کا در ہے‘علی ؑ گویا ولی گر ہے
علی ؑمستی کا ساگر ہے‘ علی ؑوارثِ پیمبرﷺ ہے
میرا آج کا موضوع ہے ’’اقبالـؒ اور خودی‘‘
پیر رومیؒ کی قیادت میںعشقِ مصطفیٰ ﷺ کی عظیم دولت سے مالا مال ہو کر اقبالؒ جب عرفانِ ذات کے سفر پر روانہ ہوا تو اُس پر وسیع و جمیل کائنات کے راز کچھ اس طرح منکشف ہونا شروع ہوئے‘جیسے عجائبات کا دبستاں کھل گیا ہو۔
آفتابِ رُوئے احمدﷺ کی درخشندہ کرن
ماہتابِ کشورِ عرفاں ‘معینُ الدّیں حسنؒ
ملکی سطح پر دیکھیں یا بین الاقوامی سطح پر‘ تادمِ تحریر ہر طرف ہنگامے افراتفری اور شورش کی بنیادی وجہ مقتدر طبقوں کی طرف سے زیردست طبقوں کے حقوق کی پامالی ہے۔
دولتِ سکون کے لئے کوئی خاص نسخہ تو نہیں۔کیونکہ یہ دولت نصیب سے ملتی ہے‘ جیسے انسان کو خوبصورت چہرہ نصیب سے ملتا ہے۔لیکن بالعموم دولتِ سکون حاصل کرنے کے دوچار اصول ہیں۔آپ غور کر لیں:
حقوق وفرائض کی ادائیگی میں انتہائی عدم توازن نے پاکستانی معاشرے میں ایک ہیجانی کیفیت برپا کر دی ہے ۔ دورِ حاضر ایک ایسے اضطراب سے عبارت ہے جو آج سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
وہ اصحاب جو واصفؒ صاحب سے بِالوجود موجودگی کے دوران ملاقات کا شرف حاصل نہیں کر سکے، اکثر واصفؒ صاحب کی محفلوں کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں۔ایسے حضرات کے لیے واصفؒ صاحب کی روحانی محفلوں کی کشفی کیفیت کو کیسے بیان کیا جائے؟
حضرت علی بن عثمان الجلابی ثم الہجویری المعروف داتاگنج بخش ؒکی ہزار سالہ قدیم شہرہ ٔآفاق تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ سے ایک باب… یکے از نوادراتِ علم وعرفانیات… رمضان المبارک کی مناسبت سے قارئین کی نذر !
یہاں یہ ذکر قابلِ محل ہوگا کہ حضرت واصف علی واصف ؒ اپنی محافلِ گفتگو میں ’’ کشف المحجوبــ‘‘ کااکثر ذکر کرتے ،
رمضان شریف کے لئے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اگر آپ قرآن پڑھ نہیں سکتے تو رمضان شریف میں ایک بار قرآن ضرور سُن لو۔یہ ہر آدمی اپنے لئے فرض بنا لے
روزہ او رسجدہ انسان کو اللہ کے بہت قریب کر تے ہیں۔
واصفؒ شناسی کے سفر پر میرا پہلا پڑاؤ اُن کا گھر فردوس کالونی ،گلشن راوی لاہور تھا۔کاشف اُن کا فرزند‘ میرا میزبان تھا۔کاشف نے واصف ؒصاحب کے بارے میں موجود دستاویزات تک مجھے رسائی دی ۔ان کی تحریروں کے مطالعے کے دوران میری نظر روزنامہ ـ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے ایک ایڈیشن پر رک گئی:
’’پاکستان نور ہے ،نور کو زوال نہیں … واصف علی واصف ! ‘‘