محمد علی واصفی

الہامی علم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ نازل فرمائے۔ ایسا علم اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف نشاندہی کرتاہے اور بار بار پڑھے جانے کے قابل ہوتاہے۔اس لحاظ سے حضرت واصف علی واصفؒ کی کتابیں الہامی علم سے متصف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایسی کتابیں ہیں جو ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھے جانے کے قابل ہیں۔ ہر عمر کے لوگوں میں بلکہ ہر دور میں پڑھی جانے کے قابل ہیں، یعنی جس زاویے میں بھی ہیں ‘ہر دور پر محیط ہیں۔

واصف ؔ مجھے ازل سے ملی منزلِ ابد

ہر دَور پر محیط ہوں ‘ جس زاویے میںہوں
’’کرن کرن سورج‘‘ امید کا ایسا سورج ہے‘ جس کی کرنوں سے اداسی اور مایوسی کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں۔ جس طرح ’’دریا ایک دفعہ جہاں سے گزر جائے اپنے پیچھے نشان چھوڑ جاتا ہے‘‘، اسی طرح ’’دل دریا سمندر‘‘ اپنے قاری کے دل و دماغ میں انمول اور انمٹ نشان اور نقش چھوڑ جاتی ہے۔ ’’قطرہ قطرہ قلزم‘‘ میں قطرہ کی قلزم کے ساتھ شناسائی اور آشنائی کا راز پنہاں ہے۔ یعنی انسان اپنے خالقِ حقیقی کا قرب اور تقرب محسوس کرتا ہے۔ آپؒ نے حقیقت کو لفظوں میں یوں ڈھالا کہ ’’حرف حرف حقیقت‘‘ بن گیا۔آپ ؒ ہی کے بقول…

ڈھلتارہا خیال مرا حرف وصوت میں
تحلیلِ جاں کے بعد ملا گوہرِ سخن

’’شب چراغ‘‘ ،’’شب راز‘‘ اور ’’بھرے بھڑولے‘‘ کہنے کو شاعری کی کتابیں ہیںلیکن اپنے اندرایک ایک مصرعے میں تصوف کادیوان سموئے ہوئے ہیں۔ ان میں موجود تعلیمات دل میں موجود خواہشات کے بتوں کو توڑ کررکھ دیتی ہیں جس سے دل کعبہ کی صورت ہوجاتاہے ۔ غزل کاہر شعرراہِ طریقت کے مسافر کے دل میں منزل کا ذوق عطا کرتاہے… اور منزل وجہ اللّٰہہے۔ آپ ؒ کااپنا ہی ایک قول ہے کہ ’’راہنما کا کام ذوقِ سفر پیداکرنا ہے ‘‘۔ یوں آپ ؒ کی کتب مسافرانِ راہ ِحق کیلئے راہنمائی کافریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔
’’گفتگو‘‘ تو بس گفتگو ہے ‘ آج بھی جاری و ساری ہے۔ ’’گفتگو‘‘ میں آپؒ انفرادی سوالوں کو اجتماعی شکل میں اس طرح ڈھالتے ہیںکہ سوال ایک کا ہوتاہے اور تشنگی سب کی دُور ہوجاتی ہے ۔ آپؒؒ کے بیشترمضامین انفرادیت سے شروع ہو تے ہیں اور اجتماعیت سے خطاب کرتے ہیں۔ اسی طرح آپؒ کی کتابیں ’’دل دریا سمندر‘ قطرہ قطرہ قلزم اور حرف حرف حقیقت‘‘ انفرادیت سے اجتماعیت کا رنگ اختیار کرتی ہیں۔ انسان کی کائناتِ باطن سے ابتدا کرتی ہیں اور باطنِ کائنات کااحاطہ کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ آپ ؒ کی تحریر انسان جوں جوں پڑھتا ہے وہ خود کو اللہ اور اللہ کے حبیبA کے قریب سمجھتا ہے۔ حقیقت میں ولی کی شان یہی ہے کہ وہ انسان کوواصل باللہ کردے۔

حضرت واصف علی واصفؒ کی ہر بات ‘ باتوں کا وصف ہے ۔ آپؒ کا ہر لفظ قلوب کی مردہ زمین کو اس طرح زندگی بخشتا ہے ‘ جس طرح بارش کاپانی بنجر زمین کو زرخیز کرتاہے۔ آپ ؒ کے کلام سے دل کی مرجھائی ہوئی کلی یوں کھِل جاتی ہے جیسے شبنم کے قطروں سے صبح دم پھول کھِل اُٹھتے ہیں،جیساکہ آپؒ خود فرماتے ہیں :

مجھے فطرت نے بخشی چشمِ بینا
میں رنگوں کی صدا سنتارہاہوں

آپؒ کے کلام کا مرتبہ آپؒ کے رُتبے کی ترجمانی اور نشاندہی تو کرتا ہے لیکن احاطہ نہیں کر سکتا۔ آپؒ کے مرتبے کے تعارف کے لیے آپؒ کا اپناہی بیان کردہ ایک فقرہ کافی ہے :’’اگر وسعتِ بیان مل بھی جائے ‘ تو بیانِ وسعت ممکن نہیں‘‘