مکاتیب ِ واصف ؒ

حضرت واصف علی واصف ؒ کے خطوط پر مبنی کتاب ’’گمنام ادیب‘‘ سے انتخاب
گرامی قدر واصف صاحب !

سلامِ عقیدت !
آپ کی عنایت کا بے حد ممنون ہوں کہ آپ نے اپنی مجلس میں میری حاضری کا اہتمام فرمایا۔آپ کی گفتگو کے فیض سے بہت سے سوالوں کے جوابات از خود مل گئے اور دل کو گونہ سکون حاصل ہوا۔تاہم اس مختصر سی حاضری نے تشنگی اور بڑھا دی ہے۔امید ہے کہ آپ مزید نظرِ کرم فرمائیں گے تا کہ آپ کا قرب زیادہ سے زیادہ حاصل ہو اور میری بخشش کا ذریعہ بن جائے۔آمین۔
طالبِ نظرِ کرم…غلام رسول
غلام رسول صاحب !

السّلامُ علیکم !
آپ کا خط پڑھ کر خوشی ہوئی۔انسان‘انسان کی خدمت کے لئے ہی تو بنا ہے۔ عبادت خدا کی‘محبت محبوبِ خداA کی‘خدمت انسان کی اور عاقبت اپنی۔یہی نسخۂ کیمیا ہے۔انسان زندگی میںجو کچھ حاصل کرتا ہے‘جو نوادرات جمع کرتا ہے‘جو مال سمیٹتا ہے‘ دراصل اس میں کسی نہ کسی انسان کا حصہ ہوتا ہے۔حاصل کرنا بڑی بات نہیں‘لیکن حق‘ حق دار کو نہ پہنچانا بہت غلطی کی بات ہے۔اپنی جمع کی ہوئی دولت ضرور اپنا نصیب تھا‘لیکن اس نصیب کو خوش نصیبی بنانے کے لئے اس میں محروم لوگوں کو شامل کرنا بہت ضروری ہے اور اگر کسی کو شامل نہ کیا جائے تو یہ اپنی انا کا نذرانہ بن جاتا ہے اور یوں یہ بدنصیبی بن کے رہ جاتا ہے۔ہم اپنی اولاد سے زیادہ حد تک وابستہ ہوتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ یہ سارا کرم اولاد دینے والے کا ہے۔اگر اولاد میں یا اس کے کردار میں یا اس کی اطاعت میں کمی بیشی ہے‘ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم سے ہی کوئی خطا ہو گئی ہے کہ ہم ان کو مناسب ادب شناس نہ بنا سکے۔ہم انگریزی سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ نتیجہ وہی ہوتا ہے جو ہونا چاہیے۔لیکن اللہ کا فضل جو پہلے کام آیا‘ہر دور میں کام آیا‘ہر مشکل میں کام آیا‘پھر کام آئے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام ایک دفعہ قید خانے میں گھبرائے۔سوچ رہے تھے کہ یہاں سے کیسے نکلیں گے تو کہنے والے کہتے ہیںکہ انہیں ایک آواز آئی‘یہاں سے تمہیں وہی نکالے گا جس نے کنوئیںسے نکالاتھا۔آپؑ سجدے میں گر گئے۔سلام ہو حضرت یوسف علیہ السلام پر‘انبیائے کرام علیہم السلام پر اور ہدیۂ درود وسلام ہو حضورA کی بارگاہ میں۔بس!یہی ہمارا حاصل ہے اور اسی کی ہمیں ضرورت ہے۔جو چیز یہاں رہ جائے گی‘اس کو اب چھوڑ ہی دیا جائے تو بہتر ہے۔اس سے پہلے کہ ہم سے سب کچھ چھِن جائے‘ہم خود ہی اسے چھوڑ دیتے ہیں اور جو کچھ ساتھ جانا ہے‘اسے ہم ابھی سے ساتھ لے لیں تو یہی بہتر ہے۔
میں آپ کے خط سے نکل کر نہ جانے کس خیال میں کہاں چلا گیا۔اللہ آپ کو دولتِ سکون عطا فرمائے اور آپ سے جلد ملاقات ہو گی۔رُوبرو بات ہو گی اور انسان‘ انسان کے کام آنے کے لئے جو کچھ ہو سکا‘کرے گا۔سب لوگ‘لوگوں پر Depend کرتے ہیںسب کو سب کی ضرورت ہے بلکہ ہر انسان‘سب انسان ہیں۔میں ‘میں نہیں رہتا اگر میرا گردوپیش قائم نہ رہے۔میں اپنے ماحول کو میں کہتا ہوں۔یہی میرا ’’میں‘‘ ہے۔ میرا ماضی جو گزر گیا‘میرا’’میں‘‘ہے۔وہ مستقبل جو ابھی آیا نہیں‘وہ بھی ’’میں‘‘ ہے۔ میری حسرتیں ‘میری آرزوئیں بلکہ میری عبادتیں اور میرے کردہ اور ناکردہ گناہ بھی ’’میں‘‘ہی ہے۔یہ ’’میں‘‘کبھی افلاک چیر جاتا ہے اور کبھی خاک نشین ہو جاتا ہے۔ ’’میں‘‘جو جلوے دیکھتا ہوں‘وہ میرے لئے ہیں۔میرا خدا سب کا خدا لیکن میرا خدا ہے۔ ہر طرف میں ہی ہوں اور سچ پوچھو تو میں کہیں نہیں۔میں پھر کہوں گا کہ میں آپ کے خط سے باہر نکل چکا ہوں۔لہٰذا اس بات کو یہیںAbruptly روک دیناہی بہتر ہے کہ آگے خاموش رہنے کا حکم ہے۔صرف آپ کو یہ بتانا ہے کہ آپ حوصلہ رکھیں‘اس کی مزید رحمتیں حاصل کرنے کے لئے۔آپ ایک مناسب انسان ہیں۔اپنے پر غرور نہ کرو‘ عاجزی کرو، لیکن اپنی تحقیر بھی نہ کرو۔خداآپ کو‘بس سلامت رکھے!!
والسّلام

واصف علی واصف

Got something to say? Go for it!