توشہ ٔ انتخاب

اُمت کے لیے مجموعی طور پر دعا کروکہ:یا اللہ ! یا رب العالمین ! حضور پاک A کی امت کو فلاح دے‘ ‘ تو جن کی امت ہے وہ تم پر کوئی نہ کوئی جلوہ آشکار کر جائیں گے …تم لوگ سرکار A کی امت کے لیے دعا کرو‘ یہ کہو کہ یا اللہ! ہم جیسے بھی ہیں‘ کچے ہیں ‘ پکے ہیں‘ بریلوی ہیں یا دیو بندی ہیں‘ کچھ بھی ہیں سب کی خیر ہو جانی چاہیے۔ مسلمان سارے پریشان ہیں‘ رحم کے قابل ہیں‘ نادان ہیں‘ لیکن اس کے نام لیوا ہیں … یا اللہ! ہمارا بن اور ہمیں اپنا بنا‘ ہمیں معافی دے دے …آپ روز مجھ سے فارمولا پوچھتے ہیں کہ کوئی گُر بتائیں ‘ جاگنے کا نسخہ بتائیں یا وظیفہ بتائیں۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اور کچھ نہ کرو ‘ صرف امت کی فلاح کے لیے دعا کرو اور کہو کہ یا اللہ! اُمت پریشان ہے‘ اس پر رحم فرما! یہ حضور پاکA کی امت ہے۔ دعا کرو کہ وہ وقت کبھی نہ آئے جب حضور پاک A کو ہمارے حوالے سے سننا پڑ جائے کہ حضور پاک A کیا یہ آپ ہی کی امت ہے؟ تو ہم کیا جواب دیں گے کہ آپ A ہی کی امت ہے۔ میاں محمدصاحب ؒ نے کہا ہے کہ:
آکڑ تے مغروری ساری نکل جاوے گی تیری
جس دن پاک محمد A کیہا ایہہ نہیں امت میری
آپ اپنی بڑی دانائیاں بند کر دو اور چھوٹی دانائی کے ساتھ چلو‘ چھوٹی دانائی یہ ہے کہ آپ دود شریف پڑھتے جائو اور اس امت کی فلاح کے لیے دعا کرتے جائو۔ اگر امت میں ایسا آدمی ہے جس کے اسلام میں کمی بیشی ہے‘ اسے ایمان کی کمی ہے‘ عارضہ ہے تو اسے بھی Accomodate کرلو‘ تو سب کو ساتھ لے کر چلو‘ اُس کو بھی اور اِس کو بھی ساتھ لے چلو‘ تو اِن کے لیے دعا کرو ‘ ساری کی ساری اُمت کی مجموعی طور پر فلاح کے لیے آپ دعا کریں۔ آپ امت کی دعا کے لیے اگر رات لگا دو تو میں آپ کو یقین سے کہتا ہوں ‘ جس کی امت ہے وہ آپ کو نظر انداز نہیں کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ !
حضرت واصف علی واصفؒکی محافل پر مبنی کتب ’’گفتگو ۲۲‘‘ سے انتخاب …صفحہ ۔۱۰۱

مرسلہ… ثانیہ سلیم … لاہور

سوال : سر ! یہ تو محبوب کا اعجاز ہے کہ وہ محبوب رہے ۔ کیا پریکٹس سے بھی محبوب بنایا جاسکتاہے ؟
جواب : محبوب کے اعجاز کو اگر آپ مانتے ہو ‘ تو صرف ایک ہی محبوبِ حقیقی ہے اور اسی کااعجاز قائم ہے۔ اگر آپ اعجاز کی بات کرتے ہیں‘ تو اعجاز پھر اُسی کا ہے… بلکہ ساری کرامتیںاور سارے معجزے اُسی کے ہیں۔ اولیائے کرام بھی اُ س کے کمال کے تحت ہیں ۔ یہ سب چراغ اُسی کے جلائے ہوئے ہیں۔ آپ کے دل میں جو محبت ہے ‘ یہ اُسی محبوب کی ہے، تو گویا یادِ حق … یادین ِ حق … ہو نہیں سکتا‘ جب تک محبت ِ محبوب ِ حقA نہ ہو۔ وہی ہیں محبوب جو سب چراغ جلاتے ہیںاور وہی روشنی کرتے ہیں… اور وہی آپ کو دین دے رہے ہیں۔ اب بھی سب کچھ آپA ہی دیتے ہیں۔ ساری کہانی اُدھر سے ہے ۔ اس لیے اُدھر رجوع رکھا کرو۔ یہ سب انہی کا اعجاز ہے۔ سب فقیر انہی کے دم چلتے ہیں ، سب درویش اُن ؐکے ہیں ، سب مال اُن کا ہے۔ ساری بات آ پA کی طرف سے ہے ۔ انسان کا اس میں کچھ نہیں!!
حضرت واصف علی واصفؒکی محافل پر مبنی کتب ’’گفتگو ۳ ‘‘ سے انتخاب …صفحہ ۲۸۶

مرسلہ…انجم اقبال …اٹک

اِسلام وحدت ِ ملت کا پیغام لایا اورہم اسلام کے نام پر تفریق کر رہے ہیں۔ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں میں وحدتِ عمل کی کمی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک تمام فرقے اور تمام شارحین ِ اسلام اکٹھے نہیں ہوتے ‘ وحدتِ ملت کا تصور تک ممکن نہیں ………ا گر یہ مان بھی لیا جائے کہ سب فرقے اپنے اپنے مقام پر صادق ہیں‘ تو بھی فرقہ سازی کاعمل خوبصورت عمارت کو اینٹ اینٹ میں تقسیم کردے گا اور اِ سلام کا رعب ِ جمال جو باعث ِ عروج و کمال تھا ‘ اضمحلال و زوال کا شکار ہوجائے گا، مناسب معلوم ہوتاہے کہ ہر فرقہ وحدتِ ملّت کی طرف سفر کرے اور ایک بار پھر وہی مقام حاصل ہوجائے جو اِسلام کا حق ہے اور یہ حق برحق ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒکی کتاب ’’دل دریا سمند ر‘‘ کے مضمون ’’اسلام + فرقہ = صفر‘‘ سے اقتباس

مرسلہ…وسیم احمد وسیم …کاہنہ نو

دراصل کسی شئے سے اُس کی فطرت کے خلاف کام لینا ظلم ہے۔ جو شئے جس کام کیلئے تخلیق کی گئی ہے ‘ اس سے وہی کام لینا چاہئے۔اس کے برعکس ظلم ہے۔کسی انسان سے اس کے مزاج کے خلا ف کام لینا ظلم ہے‘ جبر ہے۔…… کسی انسان سے اس کے معاوضے سے زیادہ کام لینے کا نام بھی ظلم ہے۔معاوضہ ‘ دینے والے کی ہستی کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ سب سے بڑاظلم کسی کی محنت کو رائیگاں کرناہے۔……کسی انسان میں وسوسہ پیدا کرنا بھی ظلم ہے۔ قوم کو تذبذب میں گرفتار کرنا بھی ظلم ِ عظیم ہے ۔ کسی راہی کو سفر کے دوران ‘ اُس کی مسافرت سے بیزار کرنا ظلم ہے۔ آدھا رستہ طے کرنے کے بعد یہ سوچنا کہ ہمیں کس سفر پر روانہ ہونا ہے ‘ ظلم ہے۔ کسی غریب کی عزتِ نفس کو غریب سمجھنا اُس پر ظلم ہے۔……ظلم کا پہیہ اس وقت تک جام نہیں ہوتا‘ جب تک معاف کرنے اور معافی مانگنے کا حوصلہ اور شعورنہ پیداہو۔ بدلہ لینے کی تمنا ‘ ظلم کی اساس ہے ۔ معاف کر دینے کی آرزو ‘ ظلم کا خاتمہ کرنے کیلئے ضروری ہے۔ ظلم توڑنے والے ‘ پرانی باتوں کو چھوڑنے والے ہوتے ہیں۔ …… اگر معاشرے میں معافی مانگنے اور معاف کرنے کا عمل شروع ہوجائے‘ تو ظلم کا عمل رُک جاتا ہے۔ خود پسندی ترک ہوجائے ‘ تو ظلم رُ ک جاتاہے۔ اَنا کا سفر ختم ہوجائے ‘ تو ظلم کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔ ہر وہ شخص جو اللہ سے معافی کا خواستگار ہے‘ اُسے سب کو معاف کردینا چاہیے۔ جس نے معاف کیا ‘ وہ معاف کردیا جائے گا۔ دوسروںپر احسان کرنے سے ظلم کی یاد ختم ہو جاتی ہے۔ حق والے کا حق ادا کر دو‘ بلکہ اسے حق سے بھی ماسوا دو‘ بس اتنے سے عمل سے ظلم ختم ہوجائے گا۔ جس معاشرے میں مظلوم اور محروم نہ ہوں ‘ وہی معاشرہ فلاحی ہے۔
حضرت واصف علی واصفؒکی کتاب ’’قطرہ قطرہ قلزم ‘‘ میں مضمون ’’ظلم ‘‘ سے انتخاب …صفحہ : ۷۰

مرسلہ : سجاد علی … شکر گڑھ

Got something to say? Go for it!