سعدی ؒ اور واصفؒ

حکایت ِ سعدیؒ

میں نے سنا کہ ایک فقیر تنگ جگہ پر تھا۔حضرت عمرث کا پائوں اس کے پائوں پر جا پڑا ۔درویش کو کیا معلوم کہ وہ کون ہیں …کہ رنجیدہ شخص دشمن اور دوست میں تمیز نہیں کرتا… وہ درویش اُن پر غصے سے پل پڑا کہ کیا تو اندھا ہے ؟
سالار عادل عمر ؓ نے جواب دیا!میں اندھا نہیں لیکن افسوس کہ مجھ سے بھول ہو گئی۔میں بے خبر تھا ‘میری خطا معاف کر۔ہمارے دین کے بزرگ لوگ کیسے منصف مزاج تھے کہ وہ کمزوروں کے ساتھ اس طرح سلوک روا رکھتے تھے کہ تواضع کرنے والے ناز کریں گے اور پہلوانوںکے سر شرم سے جھکے ہوں گے۔اگر تُو روزِ حساب سے ڈرتا ہے تو جو تجھ سے ڈرتا ہے اس کی خطا معاف کر۔اے بیباک شخص!ناتوانوں پر ظلم نہ کر کہ تیرے ہاتھ کے اوپر بھی ایک ہاتھ ہے۔

اقوال ِ واصفؒ

ز… آپ برداشت کرنا سیکھ جائو اور معاف کرنا سیکھ جائو‘توڈیپریشن ختم ہوجائے گا
ز…سب سے بڑی قوّت ‘ قوّ تِ برداشت ہے ۔
ز…ہم ایک عظیم قوم بن سکتے ہیں اگر ہم معافی مانگنا اور معاف کرنا شروع کر دیں۔
ز…جس نے معاف کیا ‘ وہ معاف کر دیا گیا۔
ز…چھوٹے آدمی کو چھوٹا نہ سمجھو ‘ بڑاآدمی بڑا نہ رہے گا۔
ز…اپنے سے کم تر کا خیال رکھنا ‘سکونِ قلب کا ذریعہ ہے۔

2 Comments on "سعدی ؒ اور واصفؒ"

  1. M.AFZAL ASIF says:

    I JUST SAY.
    JAZAK ALLAH HO KHAIRA.
    I WANT TO BECME THE REGULAR READER OF WASIF KHAYAL MAGZINES.SEND THE DETAILS ON ABOVESAID MENTIONED E.MAIL.
    THANKS AND REGARDS.

  2. UMAR says:

    GREAT EFFORT

Got something to say? Go for it!