باقیاتِ کلام ِ واصف ؒ ’’شب راز‘‘ سے انتخاب

مجھے تم سے محبت ‘ توبہ توبہ
یہ گستاخی یہ جرأت ‘ توبہ توبہ

اُٹھا رکھا ہے سر پر آسماں کو
مگر بارِ امانت ‘ توبہ توبہ

چلا ہے شیخ میخانے کی جانب
مجھے کر کے نصیحت ‘ توبہ توبہ

سلگتا ہے ابھی تک ذرّہ ذرّہ
ترے عاشق کی تُربت ‘ توبہ توبہ

سرِ بازار رُسوائی کے ڈر سے
ہوئے عشاق رخصت ‘ توبہ توبہ

بڑی مدت کے بعد آنا ہوا ہے
مگر جانے میں عُجلت ‘ توبہ توبہ

نہ پوچھو کس لئے روتا ہے واصفؔ
’’گناہوں پر ندامت‘‘ ، توبہ توبہ