توبہ کی حقیقت

حضرت مخدوم سید علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش علیہ الرحمتہ
کی لا زوال تصنیف’’کشف المحجوب‘‘ سے انتخاب

جاننا چاہیے کہ سالکانِ راہِ حق کا پہلا مقام توبہ ہے،جیسا کہ طالبانِ حق کا پہلا عمل درجۂ طہارت ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ عزّاسمہـــــ‘ نے فرمایا ہے’’اے ایمان والو!اللہ کی جناب میں سچی توبہ کرو تا کہ تم فلاح پائو‘‘ رسول اللہA نے فرمایاہے:’’اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنے والے جوان سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں‘‘ حضورA نے مزید فرمایا ہے:’’گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس پر کوئی گناہ نہیں‘‘ پھرآپA نے فرمایا کہ’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو دوست رکھتاہے تو کوئی گناہ اس کو نقصان نہیں دیتا‘‘ پھرآپA نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوںکو دوست رکھتا ہے‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ’’توبہ کی علامت کیا ہے؟‘‘تو آپA نے فرمایا کہ’’ندامت و پشیمانی‘‘،لیکن یہ جو آپA نے فرمایا کہ دوستانِ حق کو گناہ نقصان نہیں دیتا،تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ گناہ سے کافر نہیں ہوتا اور گناہ کرنے سے اس کے ایمان میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا… تو اس نافرمانی کانقصان جس کا انجام نجات ہو‘حقیقت میں نقصان نہیں ہوتا۔جاننا چاہیے کہ توبہ کے معنی لغت میں رجوع کرنا ہیں،چنانچہ عرب کہتے ہیں تاب یعنی اس نے رجوع کیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی ’’نہی ‘‘یعنی وہ فعل جس کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ‘ سے محض اللہ تعالیٰ کے خوف سے باز آجانا،توبہ کی حقیقت ہے اور پیغمبرA نے فرمایاہے:ــ ’’فعلِ بد سے پشیمانی توبہ ہے‘‘اوریہ ایک ایساقول ہے جس میں توبہ کی تمام شرطیں موجود ہیں کیونکہ توبہ کی ایک شرط تو مخالفتِ احکامِ الٰہی پر افسوس کرنا ہے،دوسری شرط لغزش کو فوراًچھوڑ دینا ہے اور تیسری شرط معصیت کی طرف نہ لوٹنے کا قصد کرنا ہے۔ یہ تینوں شرطیں ندامت کے ساتھ وابستہ ہیں کیونکہ جب دل میں کیے پر ندامت پیدا ہوتی ہے تو باقی دو شرطیں اس کے ساتھ خودبخود آجاتی ہیں اور اپنے کیے پر ندامت و پشیمانی کے تین اسباب ہیں،جیسا کہ توبہ کی تین شرطیں ہیں:ایک تو یہ ہے کہ جب عذاب کا خوف دل پر غلبہ پاتا ہے اور بُرے افعال پر دل میں غم پیدا ہوتا ہے تو ندامت حاصل ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ نعمت کی خواہش دل پر غالب آجائے اور معلوم ہو کہ بُرے فعل اور نافرمانی سے وہ نعمت حاصل نہیں ہو گی تو بُرے فعل سے پشیمانی حاصل ہو گی اور تیسرے یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور تمام مخلوق کے سامنے اپنی بے نقابی کے تصور سے خائف ہوکر بُرے افعال پر نادم ہو۔پس ان میں سے پہلا تو تائب،دوسرا منیب اور تیسرا اَوّاب کہلاتا ہے، نیز توبہ کے مقام بھی تین ہیں:پہلا توبہ ‘دوسرا اَنابت ،تیسرا اَوبت ۔پس توبہ کا مقام عذاب کے خوف کے لیے،انابت کا مقام طلبِ ثواب کے لئے اور اَوبت‘ فرمانِ حق کی رعایت کے لئے ہوتا ہے۔اس لئے کہ توبہ عام مومنین کا مقام ہے اور وہ کبیرہ گناہ سے ہوتا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’اے ایمان والو!اللہ کی جناب میں سچی اورپکی توبہ کرو‘‘ انابت اولیاء و مقربانِ حق کا مقام ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:’’جو شخص رحم کرنے والے اللہ سے بِن دیکھے ڈر گیا اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا دل لے کر آیا‘‘ اَوبت انبیاء و مرسلین علیہم السلام کا مقام ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والا ہے‘‘ پس توبہ گناہ ِ کبیرہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے حضور میںرجوع کرنا ہے، اَنابت صغیرہ گناہوں سے اللہ سے محبت کرنے کے باعث رجوع کرنا ہے اور اوبت اپنی ذات کو چھوڑ کر خداوند تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے۔پس جو شخص فواحش یعنی کبیرہ گناہوں سے حکمِ الٰہی کی اطاعت کرتے ہوئے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو شخص محض صغیرہ گناہ اور فاسد اندیشے سے اللہ تعالیٰ کی خالص محبت رکھنے کے باعث اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور جو شخص اپنی خودی کو ترک کر کے ذاتِ حق کی طرف رجوع کرتا ہے،ان تینوں میں بڑا فرق ہے۔افضل توبہ اللہ تعالیٰ کی جھڑکیوں یعنی تنبیہات و وعید سے بچنے،خوابِ غفلت سے دل کی بیداری اور اپنے حال کے عیب کو دیکھنے سے حاصل ہوتی ہے۔جب بندہ اپنے بُرے احوال اور بُرے افعال میں غور کرے اور ان سے خلاصی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ کے اسباب اس پر سہل کر دیتا ہے۔اس کو معصیت کی بدبختی سے رہائی دے دیتا ہے اور اُسے عبادت کی حلاوت تک پہنچا دیتا ہے۔

اہلِ سنت و جماعت اور تمام مشائخِ معرفت کے نزدیک یہ بات قابلِ قبول ہے کہ اگر کوئی شخص ایک گناہ سے توبہ کرے لیکن دوسرے گناہ کرتا رہے تو خداوندتعالیٰ اس ایک گناہ سے باز رہنے کی وجہ سے بھی اس کو ثواب دے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس ایک گناہ سے توبہ کی برکت سے وہ دوسرے گناہوں سے بھی باز آ جائے جیسا کہ کوئی شخص شراب خور اور زانی ہو اور زنا سے توبہ کرے اور شراب خوری کرتا رہے تو اس ایک گناہ سے توبہ‘ باوجود دوسرے گناہ کے ارتکاب کرنے کے بھی‘ درست ہے۔معتزلہ میں سے بہتمی کہتے ہیں کہ جب تک تمام کبیرہ گناہوں سے بیک وقت پختہ توبہ نہ کی جائے،توبہ کرنا فضول ہے کیونکہ بعض گناہوں سے توبہ کرنا اور بعض گناہوں میں مبتلا رہنا‘یہ توبہ کی توہین ہے لیکن یہ قول محال ہے اس لئے کہ اُن تمام معاصی پر جو بندہ کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کو عذاب دیتا ہے۔جب اُن معاصی میں سے ایک معصیت کو ترک کر دے گا تو وہ بندہ اُس معصیت کے عذاب سے محفوظ اور بے خوف ہوجائے گا اور لامحالہ اس کی وجہ سے وہ تائب ہو گا۔نیزاگر کوئی شخص بعض فرائض ادا کرتا ہے اور بعض ادا نہیں کرتا تو لامحالہ جو ادا کرتا ہے اس کا اسے ثواب ملے گا جیسا کہ اس فرض کے بدلے میں جو وہ ادا نہیں کرتا،اسے عذاب ہو گا اور اگر کسی کو معصیت کا آلہ حاصل نہ ہو اور اس کے اسباب مہیا ہوں اور وہ اس معصیت سے توبہ کرے تو وہ بھی تائب ہی ہو گا اس لئے کہ توبہ کا ایک رکن پشیمانی ہے۔ اس کو اس توبہ کی وجہ سے گزشتہ پر ندامت حاصل ہو جائے گی اور فی الحال وہ اِس جنسِ معصیت سے اعراض کر رہا ہے اور ارادہ رکھتا ہے کہ اگر معصیت کا آلہ موجود ہو جائے اور اسباب بھی مہیا ہو جائیں تو بھی میں ہرگز اس معصیت کی طرف نہیں جائوں گا۔
یادرکھو کہ توبہ کے وصف اور اس کی صحت میں مشائخ کا کچھ اختلاف ہے۔ حضرت سہل بن تستری رحمتہ اللہ علیہ اور صوفیا کی ایک جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ توبہ یہ ہے کہ تُو اپنے گناہ کو نہ بھولے اور ہمیشہ اس کی پریشانی میںرہے تا کہ اگرچہ تُوبہت عمل رکھتا ہے،اس پر مغرور نہ ہو۔اس لئے کہ بُرے کام پر ندامت اور پشیمانی نیک اعمال پر مقدم ہوتی ہے اور وہ شخص جو گناہ کو فراموش نہیں کرتا،اپنے اعمال پر کبھی غرور نہیںکرتا۔ پھر حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ اور ایک جماعت اس پر متفق ہیں کہ اَلتّوبَتہُ اَن تَنسیٰ ذَنبَک یعنی ’’توبہ یہ ہے کہ تُو اپنے گناہوں کوبھول جائے۔‘‘اس لئے کہ توبہ کرنے والا محبّ ِالہٰی ہوتا ہے اور محبّ ِ الہٰی مشاہدے میں ہوتا ہے اور مشاہدے میں گناہ کا یاد کرنا ظلم ہے۔کچھ عرصہ تو وفا کے ساتھ ہوگا مشاہدے میں اور پھر کچھ عرصہ عین وفا میں جفاکے ذکر کے ساتھ ہو گا۔جفا یعنی ظلم کا ذکر وفا یعنی مشاہدے میں وفا سے حجاب ہوتا ہے۔اس اختلاف کا تعلق مجاہدہ و مشاہدہ سے ہے اور اس کا مفصل ذکر حضرت سہل تستریؒکے مکتبۂ فکرکے بیان میں تلاش کرنا چاہیے۔جو شخص تائب کو قائم مقام بخود کہتا ہے ‘وہ گناہ کے بھول جانے کو اس کے لئے غفلت جانتا ہے اور جو شخص اس کو قائم بحق کہتا ہے،وہ گناہ کے یاد کرنے کو اس کے لئے شرک سمجھتا ہے۔فی الجملہ اگر تائب کی صفت باقی ہو تو اس کے اسرار کا عقدہ حل نہیں ہوا ہوگا اور جس کی صفت فنا ہو گئی ہو،پھر اپنی صفت کا ذکر کرنا اس کودرست نہ ہوگا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے صفت کی بقا کی حالت میں فرمایا : تُبتُ اِلَیکَ(میں نے تیری جناب کی طرف رجوع کیا)اور رسول اللہ A نے صفت کے فنا کی حالت میں فرمایا:لَا اُحصِی ثَنَآئً عَلَیکَ ( میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا)۔الغرض قربِ حق کے محل میں وحشت کا ذکر وحشت ہوتا ہے لہٰذا تائب کو چاہیے کہ اپنی خودی کو بھی یاد نہ کرے۔بھلا اس کو اپنا گناہ کس طرح یاد آئے گا ۔درحقیقت گناہ کا یاد کرنا خود گنا ہ ہے۔اس لئے کہ وہ اعراض کا محل ہے اور جیسا کہ گناہ خدا تعالیٰ سے رُوگردانی کا محل ہے،اس کا ذکر بھی حق تعالیٰ سے رُو گردانی کا محل ہے اور جیسا کہ جرم کا ذکر جرم ہوتا ہے ویسا ہی جرم کا بھول جانا بھی جرم ہے۔اس لئے کہ ذکر و نسیان دونوں کا تعلق تجھ سے ہے۔حضرت جنید ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سی کتابیں پڑھی ہیں کسی چیز میں مجھے اتنا فائدہ نہیں ہوا جتنا اس شعر میں ہوا ہے:

اِذا قُلتُ مااَذنبتُ قالت محبۃً
حَیاتُک ذَنب’‘ لایُقاسُ بِہٖ ذنب‘

(ترجمہ : جب میں نے محبوب سے کہا کہ میں نے تو کوئی گناہ نہیں کیا تو اس نے جواب میں کہا کہ تیری زندگی خود ایسا جرم ہے جس کے مقابلے میں کسی دوسرے جرم کااندازہ نہیںکیا جا سکتا۔)جب دوست کا موجود ہونا دوست کے حضور میں جرم ہے تو اس کی صفت کی کیا قیمت رہ جاتی ہے؟الغرض توبہ ‘توحیدِربّانی ہے اور گناہ ‘ فعلِ جسمانی ہے۔ جب دل میں پشیمانی آ گئی تو جسم میں کوئی آلہ ایسانہیں ہوتا جو دل کی پشیمانی کو دُور کر دے۔ جب فعل کی ابتداء میں اس کی پشیمانی توبہ کو دفع نہیںکرتی تو جب ندامت آ جاتی ہے تو انتہا میںبھی اس کا فعل توبہ کو روکنے والا نہیں ہوتا۔خداوند تعالیٰ نے فرمایا ہے: فتاب علیہط انّہ ھو التوّاب الرّحیم(پس اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول فرمائی۔بلاشبہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا،نہایت رحم والا ہے)۔ اس کی مثالیں کتاب اللہ میں بہت ہیں اور اتنی مشہور ہیں کہ ان کے بیان کی یہاں ضرورت نہیں۔پس توبہ تین طرح کی ہوتی ہے: ایک توبہ گناہ سے نیکی کی طرف،دوسری نیکی سے زیادہ نیکی کی طرف،تیسری قسم اپنی خودی سے حق تعالیٰ کی طرف۔جو توبہ خطا سے نیکی کی طرف ہوتی ہے،اس کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَالّذین اِذا فَعَلو فَاحِشۃً اَو ظَلَمُو اَنفُسَہُم ذَکَرُواللّٰہ فَاستَغفِرُو لِذُنُوبِہِم (تر جمہ :اور وہ لوگ کہ جب انہوں نے کوئی برا فعل کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا،اللہ تعالیٰ کو یاد کیا پھر اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی)۔ جو توبہ نیکی سے زیادہ نیکی کی طرف ہوتی ہے،اس کی مثال وہ ہے جو موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:(میں نے تیری طرف رجوع کیا) اور جو توبہ اپنی خودی سے حق تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے،اس کی مثال وہ ہے جو پیغمبرA نے فرمایا: وانّہ لییھان علَیّ حتّٰی اِنّی کُنتُ اَستغفر اللّٰہ فی کُلّ یومٍ سبعین مرّ ۃً ( ترجمہ :توبہ مجھ پر آسان کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ میں ہر روز ستر بار اللہ سے معافی مانگتا ہوں)۔ خطا کا ارتکاب کرنا برا اور قابلِ مذمت ہے اور خطا سے نیکی کی طرف رجوع کرنا اچھا اور قابلِ ستائش ہے اور یہ توبہ عام ہے اور اس کا حکم ظاہر ہے۔ جب تک زیادہ نیکی حاصل نہ ہو، معمولی نیک کام پر قرار پکڑنا اور راستے میں ٹھہر جانا ایک حجاب ہے۔نیکی سے زیادہ نیکی کی طرف رجوع کرنا اہلِ ہمت اور اولیاء کے درجے میں بہت ستائش کے قابل ہے اور یہ توبہ خاص ہے اور محال ہے کہ اللہ کے خاص بندے معصیت سے توبہ کریں کیونکہ وہ معصیت کرتے ہی نہیں،بلکہ وہ نیکی سے توبہ کر کے زیادہ نیکی کی طرف رجوع کیا کرتے ہیں۔ کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ سارا عالم تو خداوند تعالیٰ کی رویت کی حسرت میں ہے،لیکن موسیٰ علیہ السلام نے رویت سے توبہ کی۔اس لئے کہ انہوں نے رویتِ حق اپنے اختیار سے طلب کی اور محبت میں اپنا اختیار حیرانی ہے اور حیرانی کو ترک کرنا خلقت کے لئے حق کو اختیار کرنا ہے،اس لئے آپ نے دیدارِ الٰہی کو ترک کر دیا۔اپنے آپ کو ترک کر کے حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا درجۂ محبت میں ہے یا جیسا کہ بلند تر مقام کی محبت کی وجہ سے مقامِ بلند پر ٹھہرنے سے توبہ کرے اور تمام مقامات و احوال سے بھی توبہ کرے جیسا کہ حضور مصطفیA کے مقامات ہمیشہ ترقی پذیر تھے۔ آپ A جب بلند تر مقام پر پہنچتے تھے تو اس سے نیچے کے مقام سے استغفار اور اس مقام کے دیکھنے سے توبہ کرتے تھے،واللہ اعلم۔

توبہ کرنے کے بعد ارتکابِ معصیت :

جاننا چاہیے کہ معصیت کی طرف رجوع نہ کرنے کا پختہ ارادہ صحیح ہونے کے بعد توبہ پر ہمیشہ قائم رہنا شرط نہیں ہے۔اگر توبہ کرنے والے کی توبہ میں کوئی فتور واقع ہو جائے اور ایامِ گزشتہ میں پختہ ارادے کے صحیح ہونے کے بعد پھر معصیت کی طرف رجوع کرے تو اس کو اس توبہ کا ثواب ملے گا۔سلوکِ طریقت کے مبتدیوں میں سے توبہ کرنے والے کچھ ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں کہ انہوں نے توبہ کر لی،پھر ان کی توبہ میں کچھ فتور آ گیا اور گناہ کی طرف رجوع کیا پھر وہ کسی تنبیہہ کی وجہ سے درگاہِ حق تعالیٰ کی طرف واپس آ گئے۔یہاں تک کہ مشائخ میں سے ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ میں نے ستر بار توبہ کی اور پھر گناہ کی طرف رجوع کیا یہاں تک کہ اکہترھویں بار مجھے استقامت نصیب ہوئی۔ حضرت ابو عمر و جنید ؒ نے فرمایا ہے کہ میں نے ابتدا میں حضرت ابو عثمان حیری ؒکی مجلس میں توبہ کی اور کچھ مدت اس توبہ پر قائم رہا،پھر میرے دل میں معصیت کی خواہش پیدا ہوئی تو میں نے اس خواہش کو پورا کیا اور اس رہنما کی صحبت سے اعراض کیا اور جہاں کہیںمیں ان کو دُور سے دیکھتا تو ندامت کی وجہ سے بھاگ جاتا تھا تا کہ وہ مجھے نہ دیکھیں۔ایک روز میں آپ کے پاس پہنچ گیا تو آپ نے فرمایا:’’بیٹا!اپنے دشمنوں کی صحبت اختیار نہ کر مگر اس وقت کہ تُو بالکل بے گناہ ہو۔اس لئے کہ دشمن تیرا عیب دیکھتا ہے اور جب تُو عیب دار ہو گا تو دشمن خوش ہو گا اور جب بے گناہ ہو گا تو وہ غمگین ہو گا اور اگر تجھے معصیت کا ارتکاب کرنے کی ضرورت ہے تو ہمارے پاس آ جا‘تا کہ تیری بلا ہم اٹھا لیں اور دشمن کی خواہش کے مطابق ذلیل نہ ہو‘‘ آپؒ نے فرمایا ہے کہ اس پر میرا دل گناہوں سے بالکل سیر ہو گیا اور میری توبہ درست ہو گئی۔نیز میں نے سنا ہے کہ کسی شخص نے گناہ سے توبہ کی،پھر گناہ کی طرف رجوع کیا،پھر اس سے پشیمان ہوا۔ایک روز اپنے دل میں کہنے لگا۔اگر درگاہِ الٰہی میں واپس جائوں گا تو میرا کیا حال ہو گا؟ہاتف نے آواز دی:’’ تُو نے ہماری فرماں برداری کی تو ہم نے تجھے قبول کیا پھر تُونے ہمارے حکم کو چھوڑ دیا تو ہم نے تجھے مہلت دی۔پس اگر تُو ہماری طرف واپس آ جائے تو ہم تجھے قبول کریں گے‘‘
اب ہم توبہ کے متعلق مشائخ ؒ کے اقوال کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

توبہ کے متعلق مشائخ کے اقوال:

حضرت ذوالنون مصری ؒ فرماتے ہیں:’’عوام کی توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور خاص لوگوں کی توبہ غفلت سے ہوتی ہے‘‘ اس لئے کہ عوام سے ظاہر حال کی نسبت پوچھیںگے اور خواص سے عمل کے حقیقی طور پر ادا کرنے کی نسبت پُرسش ہو گی،کیونکہ غفلت عام آدمیوں کے لئے تو نعمت ہوتی ہے لیکن خاص لوگوں کے لئے حجاب۔ حضرت ابو حفص حداد ؒ فرماتے ہیں:’’بندے کو توبہ میں کچھ دخل نہیںہوتا،کیونکہ توبہ حق تعالیٰ کی طرف سے بندے کو وہبی طور پر ملتی ہے نہ کہ بندے کے اپنے اختیار سے‘‘ پس اس قول کے مطابق ضروری ہے کہ توبہ کسبی نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی بخششوں میں سے ایک بخشش ہو اور یہ حضرت جنید بغدادی ؒ کا مکتبۂ فکر ہے۔
حضرت ابو الحسن بو شیخہؒ فرماتے ہیں:’’جب تُوگناہ کو یاد کرے اور اس کے یاد کرنے سے لذت نہ پائے پس یہی توبہ ہے‘‘ اس لئے کہ گنا ہ کا ذکر تو حسرت کی وجہ سے ہوتا ہے یا دلی خواہش کی وجہ سے۔جب کوئی شخص حسرت و ندامت کی وجہ سے اپنی معصیت کو یاد کرے تو تائب ہوتا ہے اور جو شخص ارادے سے معصیت کو یاد کرتا ہے تو گناہ گار ہوتا ہے،کیونکہ گناہ کے کرنے میں اتنی حیرانی نہیں ہوتی جتنی کہ اس کا ارادہ کرنے میں، اس لئے کہ اس کا فعل تو ایک وقت ہوتا ہے لیکن اس کی محبت ہمیشہ ہوتی ہے۔پس جو شخص گھڑی بھر جسم سے گناہ کرے،وہ ایسا نہیں ہوتا جیسا کہ وہ شخص جو رات دن دل سے اس گناہ کا ارادہ رکھے۔ حضرت ذوالنون مصری ؒفرماتے ہیں:’’توبہ دو قسم کی ہوتی ہے:ایک توبہ انابت ‘یعنی رجوع کرنے کی وجہ سے اور دوسری توبہ استحیائ‘ یعنی شرم کی وجہ سے‘‘ پس خدا کی طرف رجوع کرنے کی توبہ یہ ہے کہ بندہ عذاب کے خوف سے خدا کی طرف رجوع کرے۔پس‘توبہ بوجہ خوف‘ جلالِ الٰہی کے کشف سے ہوتی ہے اور توبہ بوجہ حیا ‘اللہ تعالیٰ کے جمال کے مشاہدے سے ہوتی ہے۔پس ایک تو جلالِ الٰہی میں خوف کی آگ سے جل رہا ہے اور دوسرا جمالِ حق میں حیا کے نور سے روشن ہو رہا ہے،گویا ایک مست اور دوسرا بے ہوش ہوتا ہے اور اہلِ حیا اصحابِ سکر ہوتے ہیں اور اہلِ خوف اصحابِ صحو۔ اس کے متعلق کلام بہت طویل تھا لیکن میں نے مختصر کر دیا ہے …اور توفیق قبضۂ الٰہی میں ہے۔

Got something to say? Go for it!