حضرت واصف علی واصف ؒ کے مضامین پرمشتمل کتاب ’’قطرہ قطرہ قلزم‘‘ سے انتخاب

سورۃ ق ٓ میںخالقِ کائنات ِاصغرواکبر کا ارشاد ہے:’’بے شک ہم نے انسان کو تخلیق کیا اور ہم اس کے نفس میں پلنے والے وسوسوں کو خوب جانتے ہیں‘ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘ … اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یقین کے قافلوںپر گمانوںکے لشکر یلغارکرتے رہتے ہیں‘ مگرراہِ حق کے مسافر ہیںکہ اپنے حدی خواں کی تان پرسر دھنتے ہوئے مست الست محوِ سفررہتے ہیں… یہاں تک کہ وہ یقین کی منزل کے شہ نشیں ہوجاتے ہیں۔ گمانوں کے لشکر سے گھائل ہوکر آدھے رستے میں پڑائو کے قائل ہوجانے والے قافلے میں پڑے رہنے سے تو کہیں بہتر ہے کہ خیال کا مسافر چلتارہے … کہ اِس کا کام چلنے سے ہے اور چلتے رہنے سے اِسے کام ہے…مگر یہ کام اس وقت تک آسان نہیں ہوتا جب تک اسے اپنے رہبر کی پہچان نہ ہو…اور پہچان کا ذریعہ چہرہ ہوتاہے یا آواز!!… زیرِ نظر مضمون میں اپنے یقین کا چہرہ بھی دیکھا جاسکتاہے اور اپنی باطنی سماعتوں کواُس آوازسے آشنا بھی کیا جاسکتاہے …جو شہ رگ کے قریب سے کہیں آتی ہے اور وہم وگمان کی دوئی کوکافور کر دیتی ہے۔ (مدیر)

اللہ نے یتیم کو کھانا کھلانے کا حکم دیا ہے۔ ہم یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اللہ نے اُسے یتیم ہی کیوں کیا ہے۔ اللہ اُسے خود ہی کیوں نہیں کھانا عطا کرتا۔ شکوک و شبہات کی دنیا میں سوال ابھرتے ہیں۔ یہ کیوں ‘ ایسا کیوں نہیں ‘ ایسے ہونا چاہیے تھا۔

یقین سے محروم انسان صرف سوال ہی کرتا رہتا ہے کہ اللہ نے یہ کیوں کیا ‘ ایسے کیوں نہیں۔ صاحبِ یقین یتیم کو کھانا کھلاتا ہے اور اسے اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے۔ عقیدے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا‘ اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ اللہ کا ثبوت اپنی ہی پیشانی میں ذوقِ سجدہ کی شکل میں ملتا ہے۔ اگر ذوقِ جبیں سائی نہ ہو ‘ تو عقیدوں کے محل مسمار ہو جاتے ہیں۔ مابعد پر صرف اعتماد ہی کیا جا سکتا ہے، اس کی حقیقت کو ثابت کرنا مشکل ہے۔

آج کے انسان اور مسلمان کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہے کہ وہ اپنے عقیدے کو محفوظ رکھے۔ عقیدہ قدم قدم پر ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ اللہ ہی رزق دینے والا ہے۔ ہم سوچتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ رزق کی تقسیم نا منصفانہ ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے کچھ انسانوں کو صرف غریب رہنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ اللہ جس نے سب کے لیے یکساں زندگی پیدا کی ، سورج کی روشنی سب کے لیے ہے ‘ سب انسانوں کو ایک ہی صورت عطا ہوئی ہو‘ پیدائش ایک جیسی اور موت بھی سب کے لیے یکساں۔ اُس کے خزانے سب کے لیے ہیں‘ لیکن معاشی ناہمواری کا سبب کیا ہے؟ کون ہے جو حق سے زیادہ حاصل کرتا ہے اور کون ہے جو حق سے محروم رہتا ہے۔

شک ‘ ایمان کی نفی ہے۔ وسوسہ ‘ یقین کا گھُن ہے۔ اگر عاقبت اور خدا پر یقین نہ ہو ‘ تو خیال پراگندہ ہو جاتا ہے۔ پراگندہ خیال سماج میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے عقیدے پر مکمل اعتماد اور اعتقاد نہ ہو ‘ وہ حقیقت کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے

ستم کی بات تو یہ ہے کہ امیر آدمی اپنی دولت کو اللہ کا فضل بیان کرتا ہے۔ امیر انسان ناجائز ذرائع سے دولت کماتا رہتا ہے اور ساتھ ہی اعلان کرتا رہتا ہے کہ اس کی عبادت منظور ہو گئی‘ اللہ نے رحم فرما دیا‘ وہ بڑا مہربان ہے ۔ یتیم کا مال کھانے والا حج کرتا ہے اور خدا کے گھر میں داخل ہوتا ہے‘ بڑے یقین کے ساتھ۔ اللہ کا حکم نہ ماننا اور اُس کے رُوبرو ہونا‘اُس کے دُو بدو ہونے کے برابر ہے۔ امیر آدمی کا غلط یقین ‘ غریب انسان میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ غریب سے عبادت کی دولت بھی چھِن جاتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اللہ تو بس امیر کا اللہ ہے، امیر کی نافرمانیوں کو سزا دینے کی بجائے اُنہیں انعام دیتا ہے۔ غریب کو صرف غریبی برداشت کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ یہاں سے عقیدے میں دراڑ پڑتی ہے۔ امیر کی دولت اوردولت کی نمائش غریب کو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دیتی ہے‘ لیکن عقیدہ پُختہ ہو توانسان ہر حال سے گزر جاتا ہے، وہ مایو س نہیں ہوتا۔

گمانوں کی تاریک راتوں میں یقین کے چراغ جلتے ہی رہتے ہیں۔ دولت مند انسان میں اگر خوفِ خدا نہ ہو ‘ تو اس کی عاقبت فرعون جیسی ہوتی ہے۔ غریب کا یقین محفوظ رہے‘تو اس کے لیے رحمتیں ہیں۔ رزق صرف پیسہ ہی نہیں ہے ‘ ایمان بھی رزق ہے۔ مال فنا ہو جاتا ہے لیکن ایمان قائم رہتا ہے‘ ہمیشہ کے لیے۔
اللہ کو ماننے والے ہر حال میں راضی رہتے ہیں۔ وہ صحت اور بیماری دونوں میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ صاحبِ یقین ہر حال میں صاحبِ یقین ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس دنیا میں اللہ کریم نے ہر رنگ کے جلوے پیدا فرمائے ہیں۔ امیر کے لیے الگ بیماریاں ہیں۔ اُس کے الگ اندیشے ہیں۔ اُس کی عاقبت الگ مخدوش ہے۔ غریب انسان کے لیے غریبی باعثِ ندامت نہیں۔

گمانوں کی تاریک راتوں میں یقین کے چراغ جلتے ہی رہتے ہیں۔ دولت مند انسان میں اگر خوفِ خدا نہ ہو ‘ تو اس کی عاقبت فرعون جیسی ہوتی ہے۔ غریب کا یقین محفوظ رہے‘تو اس کے لیے رحمتیں ہیں۔ رزق صرف پیسہ ہی نہیں ہے ‘ ایمان بھی رزق ہے۔ مال فنا ہو جاتا ہے لیکن ایمان قائم رہتا ہے‘ ہمیشہ کے لیے !!
امیر غریب کی بحث نہیں‘ ہر انسان بیک وقت امیر بھی ہے اور غریب بھی۔ جو اپنے نصیب پر خوش ہو ‘ وہی خوش نصیب ہے۔ جس انسان کی آرزو حاصل سے زیادہ ہو ‘ وہ غریب ہی ہے۔ دیکھنے والی بات صرف اتنی ہے کہ کون اپنے حال پر مطمئن ہے۔ کون ہے جو اپنی حالت پر راضی ہے۔ کون ہے جو اپنے ما حول میں صاحبِ یقین ہے۔ کون ہے جو گمانوں کے لشکر میں گھِرا ہے۔ کس کا دل اُس کی یاد سے آباد ہے۔ کون ہے جو عارضی زندگی پر مغرور ہے۔ کیا صرف دولت ہی نے انسان کو اپنے رب کے سامنے مغرور کر رکھا ہے۔ امیر ‘ غریب ختم نہیں ہو سکتے۔ عقیدے کے قیام کے ساتھ بھی یہ طبقے قائم رہتے ہیں۔ زکوٰۃ دینے والا تب ہی ہے‘ جب لینے والا ہو۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کون ہے ‘جو امیر ہو کر خوفِ خدا رکھتا ہے اور کون ہے جو غریبی میں یقین کی دولت سے مالا مال ہے۔ تخلیق میں رنگینی اور حُسن اسی وجہ سے ہے کہ کوئی کسی کے برابر نہیں۔ کوئی کسی کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کوّا کوّا رہے گا اور مور مور۔ اچھا امیر بھی بہت اچھا ہے، بُرا غریب بھی بہت بُرا۔ اللہ کے ہاں تقویٰ کی عزت ہے۔

یہ کتنے غور کی بات ہے کہ جس انسان پر اللہ درود بھیجتا ہے‘ اُس کو یتیمی اور غریبی سے گزرناپڑا۔ عجب بات ہے کہ نبیوں کے نبیؐ ہیں ‘ پیغمبروں کے پیغمبرؐ ‘دنیا کے ہر انسان سے زیادہ معزز ہیں اور وادیٔ طائف سے زخمی ہو کر نکلے ہیں اور اللہ آپؐ کے ساتھ ہے۔ بات تقرّب کی ہے‘ تعلق کی ہے‘ ثروت و دولت کی نہیں۔ اگر گھر میں چراغاں ہو اور دل میں تاریکی ‘ تو کیا حاصل۔ اگر غریبی میں سرمایۂ یقین مل جائے‘ تو ایسی غریبی پر ہزار خزانے قربان۔

صاحبِ یقین خوف و حُزن سے آزاد ہے۔ اسے نہ آنے والے کا ڈر ہے‘ نہ جانے والے کا ملال۔ وہ صرف اپنے مالک کے عمل کو دیکھتا ہے۔ دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ وہ شکر کرتا ہے کہ اسے شکر کرنے والا بنایا گیا۔صاحبِ یقین خرد کی گتھیاں بھی سلجھاتا ہے اور گیسوئے ہستی بھی سنوارتا ہے۔ صاحبِ گمان اپنے وسوسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسے نہ یہ زندگی راس آتی ہے‘ نہ وہ زندگی‘ جس کے بارے میں اسے شک ہے
آج کا دور سائنس اور فلسفے کی وجہ سے بے یقینی کا شکار ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ کثرتِ مال کے اندر تنگی ٔ حال موجود ہے۔ انسان کو غافل کر دیا ہے‘ کثرتِ مال نے‘ حتیٰ کہ وہ قبر میں جا گرتا ہے اور پھر اُن مسرتوں پر افسوس ہوتا ہے‘ جو غریب کو اُس کے حق سے محروم کر کے حاصل کی گئیں۔

آج کا ذہن شبہات کی آماجگاہ ہے۔ شکوک پرورش پا رہے ہیں‘ گمان پَل رہے ہیں۔ دل سوز سے خالی ہو گیاہے۔ انسان خدا سے دُور ہوتا جا رہا ہے‘ کیونکہ وہ دولت کے دیوتا کا پجاری ہے۔ کوئی انسان دو آقائوں کا غلام نہیں ہو سکتا۔ آج کا انسان کئی آقائوں کا غلام ہے۔ دولت کا غلام ‘ اسلحے کا غلام‘ جمہوریت کا غلام‘ ہر خواہش کا غلام۔ انسان اپنی آرزو کے آگے سجدہ کرتا ہے‘ خدا کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ ایک سجدہ جو ہزار سجدوں سے نجات دلاتا ہے‘ آج کے انسان کو حاصل نہیں ہوا۔

لاکھوں مساجد میں صبح شام ‘ دن رات‘ لاؤڈ سپیکر پر اسلام پھیلایا جارہا ہے اور تاثیر کا یہ عالم ہے کہ معاشرہ پراگندہ ہے۔ کیا نہیں ہو رہا۔ کیا نہیں ہو چکا۔ مبلّغ یقین سے محروم ہو ‘ تو تبلیغ تاثیر سے محروم ہو جاتی ہے۔ آج بے یقینی ایک وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے ۔ جس انسان کو اپنے آپ پر یقین نہ ہو ‘ وہ خدا پر کیا یقین رکھے گا۔

ہم محروم ہو گئے ہیں ‘ اُن حقیقی مسرتوں سے جو یقین اور صرف یقین سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ جو شخص روزہ نہ رکھے‘ وہ عید کی مسرت کیسے حاصل کرے۔ عید کی خوشی دولت سے حاصل نہیں ہوتی‘ یقین سے ہوتی ہے۔ روزے کے انکاری جب عید مناتے ہیں‘ تو اُن کے چہرے بے نور ہوتے ہیں‘ اُن کے دل بے حضور ہوتے ہیں۔ روزے دار کا چہرہ تابدار ہوتا ہے‘اُس کا دل حقیقی مسرتوں سے ہمکنار ہوتا ہے‘ اُس کا سینہ یقین سے پُر نور ہوتا ہے‘ اُس کی آنکھ میں سُرور ہوتا ہے‘اُس کے لیے عید کی نماز سجدۂ نیاز ہے‘ بے نیاز کے حضور۔
یہ کتنے غور کی بات ہے کہ جس انسان پر اللہ درود بھیجتا ہے‘ اُس کو یتیمی اور غریبی سے گزرناپڑا۔ عجب بات ہے کہ نبیوں کے نبیA ہیں ‘ پیغمبروں کے پیغمبرA ‘دنیا کے ہر انسان سے زیادہ معزز ہیں اور وادیٔ طائف سے زخمی ہو کر نکلے ہیں اور اللہ آپ A کے ساتھ ہے۔ بات تقرب کی ہے‘ تعلق کی ہے، ثروت و دولت کی نہیں۔ اگر گھر میں چراغاں ہو اور دل میں تاریکی ‘ تو کیا حاصل۔ اگر غریبی میں سرمایۂ یقین مل جائے‘ تو ایسی غریبی پر ہزار خزانے قربان !!

دنیا کی تاریخ کا غور سے مطالعہ کیاجائے تو اس میں یقین اور شکوک کے معرکے نظر آتے ہیں۔ صاحبِ یقین آگ میں چھلانگ لگا دیتا ہے اور صاحبِ گمان دیکھ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ آگ گلزار کیسے ہو گئی۔ یقین کے جلوے ایمان والوں کا اثاثہ ہیں۔

صاحبِ یقین خوف و حُزن سے آزاد ہے۔ اسے نہ آنے والے کا ڈر ہے‘ نہ جانے والے کا ملال۔ وہ صرف اپنے مالک کے عمل کو دیکھتا ہے۔ دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ وہ شکر کرتا ہے کہ اسے شکر کرنے والا بنایا گیا۔
صاحبِ یقین خرد کی گتھیاں بھی سلجھاتا ہے اور گیسوئے ہستی بھی سنوارتا ہے۔ صاحبِ گمان اپنے وسوسوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسے نہ یہ زندگی راس آتی ہے‘ نہ وہ زندگی‘ جس کے بارے میں اسے شک ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹتا رہتا ہے اور پھر شکستہ جہاز کو کوئی ہوا بھی راس نہیں آتی۔

یقین کی طاقت پتھروں سے نہر نکالتی ہے۔موت سے زندگی نکالتی ہے ۔یقین کچّے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلات میں رہ کر لرزتا ہے‘ خوفزدہ ہوتا ہے‘ سراسیمہ رہتا ہے۔

یقین کے ساتھ اللہ ہے اور گمان کے ہمراہ شیطان۔ آج کی دنیا میں صاحبِ کرامت ہے وہ انسان‘ جوصاحبِ یقین ہو۔ آج کے دور کی آگ سرمایہ پرستی کی آگ ہے‘ ہوس پرستی کی آگ ہے ‘ خود پرستی کی آگ ہے۔ آج کا ابراہیم وہ انسان ہے ‘ جو اس آگ میں گلزار پیدا کرتا ہے، جس کی نگاہ خیرہ نہیں ہوتی،جس کی آنکھ میں یقین کے جلوے ہیں،جس کے دل میں اعتماد ہے اُس ذات پر ‘ جو اس کی مسجود ہے‘اس کی محبوب ہے‘ جو ہمہ حال موجود ہے۔

الہٰی ! ہمیں عطا کر‘ پھر سے کوئی صاحبِ یقین راہنما۔ ہم اپنی آرزوئوں کی کثرت کا شکار ہو گئے ہیں۔یقین کی وحدت عطا فرما۔ یقین کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔ اُس کے پائوں ڈگمگاتے نہیں۔ اُس کے اعتقاد میں لغزش نہیں آتی۔ اسے کوئی دبدبہ ڈرا نہیں سکتا۔ اُسے کوئی پیشکش لُبھا نہیں سکتی

ہم من حیث القوم بھی یقین سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم میں بلند فکری کا فقدان ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ ہم آپس میں بحث مباحثہ کرتے ہیں ‘ الجھتے ہیں۔ صوبوں کی بحث ہے‘ زبان کی بحث ہے۔ اقتدار کی ہوس نے ہمیں یقین سے محروم کر دیا۔ ہم کوشش کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نصیب پر اعتماد نہیں۔ گدھا ہزار کوشش کرے‘ گھوڑے کا نصیب نہیں حاصل کر سکتا۔ ہم دوائی کو صحت سمجھتے ہیں اور صحت کو زندگی کا دوام۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اس فنا کے دیس میں کسی چیز کو قیام نہیں۔ نہ صحت ہمیشہ رہ سکتی ہے ‘ نہ زندگی۔ ہمیںیقین کیوں نہیں آتا۔ ایک عارضی‘ مقرر شدہ قیام کے بعد نہ فرعون رہ سکتا ہے‘ نہ موسیٰ ؑ۔ نہ کمزور ٹھہر سکتا ہے ‘ نہ توانا۔ ہم اُس زندگی کے لیے جوابدہ ہیں جو ہمیں ملی۔ ہم دوسروں کے جوابدہ نہیں ہیں۔ کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ کسی سے وہ سوال نہیں ہو گا‘ جو اُس سے متعلق نہ ہو۔ ہمیں اپنی پیشانی اور اپنے مسجود سے غرض ہے۔ اپنے ایمان اور اپنے یقین سے کام ہے۔

ہمیں اپنے وسوسوں سے نجات چاہیے۔ ہمیں اپنے دل سے اپنے عقیدے پر اعتقاد کرنا ہے۔ خدا سے دولتِ یقین کا سوال کرنا ہے۔ الہٰی ! ہمیں پھر سے وہی یقین دے۔ ہمیں پھر سے اپنا بنا۔ ہمیں پھر وہی جلوے دکھا۔ ہمارے دلوں کو پھر سے نورِ ایمان عطا کر۔ ہمیں ہمارے گمانوں سے بچا۔ ہم شبہات کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ ہم شکوک کے تاریک راستوں پر آ نکلے ہیں۔ الہٰی ! ہمیں عطا کر‘ پھر سے کوئی صاحبِ یقین راہنما۔ ہم اپنی آرزوئوں کی کثرت کا شکار ہو گئے ہیں۔یقین کی وحدت عطا فرما۔ یقین کبھی متزلزل نہیں ہوتا۔ اُس کے پائوں ڈگمگاتے نہیں۔ اُس کے اعتقاد میں لغزش نہیں آتی۔ اسے کوئی دبدبہ ڈرا نہیں سکتا۔ اُسے کوئی پیشکش لُبھا نہیں سکتی۔

گمانوں کے لشکر میں یقین کاثبات ایسے ہے ‘ جیسے یزیدی فوج کے سامنے امام حسین ؑ کا ایمان‘تاریکی کے حصار میں روشنی کا گلاب‘ یقینِ بے گماں کا کرشمہ‘ دولتِ لازوال کا معراجِ کمال۔