عالمِ اَمن…اور اَمن ِ عالم

ڈاکٹر اظہر وحید

ہم میں سے ہر شخص ایک دوسرے کے حقوق کی امانت اٹھائے ہوئے ہے … جب تک ان امانتوں کوپوری دیانت داری سے ہم حقداروں کو لوٹانہیں دیتے ‘ امن ِ عالم ایک خواب کاعالم رہے گا۔حق دار کو حق لوٹانا‘ کسی قانون یا سزا کے ڈر سے نہ ہونا چاہیے … کہ نیت میں اگر خیانت دَر آئے گی ‘ توقانون میں ترامیم بھی دَر انداز ہوتی چلی جائیں گی ۔جب تک نیت میں دیانت کو جگہ نہیں ملتی … کسی حقدار کو اس کی امانت نہیں ملتی۔ ایک بدیانت شخص اپنے اردگرد بہت سی محرومیوں کا باعث بنتاہے… اورچھوٹی چھوٹی محرومیاں ‘بڑے بڑے جھگڑوں کاسبب بن جاتی ہیں ۔

قیام ِ امن کاپہلا جنیوا … ایک فرد ہے ‘جسے ایڈریس کیے بغیر عالمی امن کا کوئی کنونشن کامیاب نہیں سکتا۔ فردکو پُرسکون کرنا‘معاشرے کو امن کی بنیاد فراہم کرناہے۔ حالت ِ امن کا قائم ہونا … کسی انقلاب کے برپا ہونے سے کم نہیں… اوریہ اِنقلاب سب پہلے ایک فرد کے قلب میں رُونما ہوتاہے ۔

کوئی فرد ہو‘یا قوم…جب تک احساسِ تفاخر سے باہر نہیں نکلتی… اَمن سلامت نہیں رہ سکتا۔ دوسروں سے بالا ہونے کا احساس خود کو قانون سے بالاترسمجھنے پر مجبور کر دیتاہے۔ احساسِ تفاخر ایک زعم کے سوااور کیاہے… اور کتابِ معنی میں زعم اور وہم … سراب کے ہم معنی ہیں۔زعم … حسب کا ہو یا نسب کا … حقیقت میں عالی ہونے کے باوجود… حقائق سے دُور لاپھینکتاہے۔ کسی زعم میں مبتلا انسان کہیں کانہیں رہتا۔وہ انسانوںکی دنیا سے دُور خود پسندی کے ایک ایسے جزیرے میں بن باس لے بیٹھتا ہے جہاں تنہائی اُسے مزید تنہاکر دیتی ہے ۔ وہ جسے ہم اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں ‘ اگر اُس کا وجودمٹ جائے تو ہم نامکمل رہ جاتے ہیں۔ہمارے وجود کی وحدت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک باہر موجود کثرت سلامت نہ ہو۔ زعم کیلئے نہ کوئی مرتبہ وعلم ہی دلیل ٹھہرتا ہے اور نہ دولت اور عقل ہی حجت قرار پاتی ہے۔مرتبہ ‘دولت ‘ علم اورعقل دراصل درجہ بدرجہ ذمہ داریوں کی دلیلیں ہیں۔اگرکوئی مرتبے میںعالی ہے تو وہ کمتررُتبے میں رہنے والوں کی خدمت کرے …اگرکوئی دولت میںدوسروں سے بڑھ کر ہے‘ تووہ بڑھ کراپنی دولت میں غریبوں شامل کرے …اگرکوئی علم و عقل میں عالی ہے تو وہ جاہلوں کی بے عقلی خندہ پیشانی سے برداشت کرے ۔ اپنے سے کم رتبہ لوگوں کی سب سے پہلی خدمت یہ ہے کہ اُن کے ساتھ تواضع سے پیش آیا جائے ۔ تواضع … دوسروں کی عزت ِ نفس کا احترام کرنے کوکہتے ہیں۔ تکبر … دوسروں کی اَنا کواپنے مرتبے کے بوٹوں تلے روندتے چلے جانے کانام ہے… مگر اپنے سے کم تر کا خیال رکھنے کی یہ سب باتیں اُسے ہی نظر آتی ہیں‘ جو اپنے حال اورماضی پر زعم سے نجات حاصل کرچکاہو۔نجات حاصل کرنے کیلئے خود سے لڑنا پڑتا ہے۔ گویا جدوّ جہد کا آغاز اپنے گھر سے ہوتاہے۔جو اَپنے اندرخود سے لڑتارہتاہے … مخلوق اُس سے اَمن میں رہتی ہے…اور جو اپنے اندر شکست کھاجاتاہے ‘ اُس کی لڑائی باہر بازاروں اورچوراہوں پر آجاتی ہے۔

آج کل اِصلاح کے نام پراَمن کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں۔مشرق … مغرب کی اصلاح کرنا چاہتاہے اور مغرب … مشرق کو سبق سکھانا چاہتاہے … غالباً تہذیب کاکوئی سبق … یوں مشارق و مغارب باہم متحارب ہیں۔ سورج آسمان کا ہو‘ یا تہذیب کا … مشرق سے اُبھرتاہے اور مغرب میں غروب ہوتاہے۔ درحقیقت خود کو اصلاح یافتہ سمجھنا بھی ایک درجۂ غرور ہے۔ دوسروں کی اصلاح کرنے کا دعویٰ کرنے والا خود اصلاح یافتہ ہونے کے زعم میں
مبتلاہوتاہے۔

اَمن کی تمنا ایک خواب رہے گی جب تک طاقتور کمزور کا احترام کرنے کی تہذیب سے آشنانہیں ہوجاتا۔ امن ِ عالم اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا‘جب تک انسان دوسرے انسانوں کی عزت ِ نفس کوتقدیس اور تکریم کی نگاہ سے دیکھنے کا عادی نہیں ہو جاتا۔ دراصل جھگڑا شروع ہی اس وقت ہوتاہے جب کسی فریق کو شبہ ہوجائے کہ اس کی توہین کی جارہی ہے ۔ دوسروں کی توہین کرنے کا سبب … غرور ہوتاہے یا کوئی تعصب ۔ درحقیقت تعصب بھی ایک درجۂ غرور ہے … اپنی قوم قبیلے پر غرہ… اپنے قبیلے کی زبان ‘ رنگ ‘ نسل اورتہذیب پر غرور!! ہر مغرور شخص دوسروں کی توہین کا مرتکب ہوتاہے ۔ جھگڑا ختم کرنے کا ایک تیر بہدف نسخہ یہ ہے کہ دوسرے فریق کو ہر طریقے سے یہ باور کروادیا جائے کہ وہ قابل ِ عزت ہے۔ اپنی اَناکا بت منہ کے بل گِرا دیا جائے تو جھگڑا کھڑانہیں ہوتا۔ جھگڑا ہمیشہ اپنی اَنا کا گھوڑا آگے بڑھانے پر ہوتاہے …یہ جھگڑا پہلے بھی تھا اور یہی آج بھی قوموںاور قبیلوں کے درمیان جنگ کا باعث ہے ۔فرد ‘فرد کا اور قوم‘ قوموں کااِحترام کرنا سیکھ لے … عالمی اَمن قائم ہو جائے گا۔ بصورتِ دیگر ‘اَمن … بقول مرشدِ صادق حضرت واصف علی واصف ؒ …دوجنگوںکے درمیان وقفے کانام رہے گا۔

انسان عظیم ہے …اِ سلیے اس کیلئے طاقت کا حصول ہی کافی نہیں … اِسے عظمت بھی چاہیے۔ کسی عظمت کے بغیرطاقت ‘ غرور کا ایک ابولہول ہے۔غرور مہذب دنیامیں غیر مہذب ہونے کاایک چلتاپھرتااشتہار ہے۔ طاقت اپنی عظمت کو نہ پہنچے تو بجائے عزیمت کے ہزیمت کوپہنچتی ہے۔ طاقت میں عظمت اُس وقت آتی ہے ‘جب یہ جھکنے کا فن سیکھ لیتی ہے۔ طاقت کی عظمت ‘ اِس کا عجز ہے۔ عجز‘ علم ہے… تکبر‘جہالت !!
علم … روشنی ہے … مگر یہ جس قندیل سے نکلتی ہے اسے محبت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا علم‘ محبت کی قندیل سے تعلق قائم کرناہے … اور سب سے بڑاجہل‘ شمعِ محبت سے رُگردانی کرناہے۔ محبت سے محروم ہونا … علم سے محروم ہوناہے۔محبت سے محروم انسان تعصب اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتاہے۔ محبتوں اور محبوبوں کامنکر ‘ جاہل ِ مطلق ہوتاہے۔ محبت ایک ولایت ہے … اور یہ ولایت انہیں عطاہوتی ہے جو ہر غرض سے پاک ہوتے ہیں۔ بے غرض انسان حالتِ امن میں ہوتاہے اور اُس سے اَمن ِ عالم کوکوئی خطرہ نہیںہوتا۔ نفرت ‘ حسد ‘بغض اور کِبر… انسانی نفس کی متفرق اور متکثراغراض ہیں … اور انہی اغراض ومقاصد کا ٹکرائو ‘جنگ کا طبل ہے۔محبت … وحدت ہے۔ نفرت… تکثیر … بلکہ وحدت کی تکفیر! محبت جمع کرتی ہے … نفرت … تقسیم در تقسیم ! نفرت … بھائیوں کے درمیان پہلے دیوار کھینچتی ہے … پھر تلوار !!

وسائل پر تصرف کی اندھی خواہش انسان کو طاقت کی لاٹھی گھمانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اپنے اندر قناعت اور سکون کی دولت سے محروم ہوجانے کے سبب افراد اور اقوام ایک دوسرے کے ساتھ بے سمت اور بے مصرف مقابلے میں مصروف ہیں…یہی مقابلہ مجادلے سے ہوتاہوا مقاتلے تک پہنچتاہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ ہم نے باہم مقابل اور متحارب رہنے کانام ’’عمل ‘‘ رکھ لیا ہے۔ گویا ہماری ’’عملی زندگی‘‘… عملی طور پر مسلسل جنگی جنون میں مشغول رہنے کانام ہے ۔ جنگی جنون میں مبتلا ہونا … شعور سے نکل کر شور اور شورش میں مبتلا ہونا ہے ۔ قوموں کے درمیان وسائل پر جھگڑاتصادم کی شکل اختیار کر لیتاہے… اور تصادم میں سب سے پہلے جس چیز کا خون ہوتاہے ‘ وہ انسانی وقار ‘ عقل اور شعورہے۔ جب تک حالت ِ اَمن اندر نافذ نہ ہو … باہر اَمن کی حالت کا نفاذ ممکن نہیں۔ باالفاظِ دیگر جنگ وجدل سے نجات‘ خواہش سے نجات حاصل کئے بغیر ممکن نہیں۔

اَمن … امان دئیے بغیر ممکن نہیں … اور اَمان ایک طاقتور ہی کمزور کو دے سکتا ہے … یوں قیام ِامن کی ذمہ داری ہمیشہ طاقتور کے سرہی رہے گی۔ اَمان… معافی اورخدمت کی طرح غیرمشروط ہوتا ہے۔ مشروط امان کو باجگزاری کہتے ہیں… مشروط خدمت کا نام تجارت ہوتاہے۔ اَمن کا قیام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طاقت کی تلوار تہذیب کی نیام میں ڈالنے کی تمنا بیدار نہیں ہوجاتی۔
اَمن کاخرمن… بِیا کاگھونسلہ ہے … برداشت اور رَواداری کا تنکا تنکا جمع کرنے سے بنتاہے۔ایک شعلۂ استکبار … اَمن کے خرمن کو جلاکر راکھ کر دیتاہے۔

اِسلام … ا کا سلام ہے ‘مخلوق کے نام ! السّلامُ علیکم… سلامتی کا پیغام ہے … اگر کوئی قبول کرے!!کتنی بڑی رحمت کابادل انسانیت کے سروں پر اُمڈآیا تھا اُس روز… جب رنگ‘ نسل اورزبان کے تعصبات یک قلم مٹی میں ملا دیئے گئے تھے… … جبلِ رحمت پررحمت ِ عالم مجسم ہو گئی تھی… پوری انسانیت کیلئے پیغام ِ رحمت … امن ‘ سکون اور سلامتی کا پیغام ‘عرفات کی فضائوں اور ندائوں کو عطر بیز کر رہا تھا۔ عالمِ انسانیت میں یہ کس شان کی وحدت تھی اور کیسی وحدت کی شان تھی کہ رنگ ‘ نسل اور زبان کے فخرو مباہات اور تعصبات… وقوفِ عرفات کے روز موقوف ہو گئے۔ اِستحصال کا ہر ممکنہ پہلو قلم زد کر دیاگیا… سُودکاتمام کاروباربلاتخصیص ِسُود وزیاں قلم زد کر دیا گیا۔اَمانتوں کو اُن کے حقداروں تک پہنچانے کاحکم فی الفورنافذ کردیاگیا۔ آج اِنسانی مذاہب کی تاریخ نے اپنے صفحات میں ایسی لبرل بات محفوظ کرلی ‘ جو کُل عالمِ اِنسانیت کیلئے یکساں قابلِ قبول بھی ہے اور قابلِ عمل بھی ! بانی ٔ دینِ مبیں ؐایک عام مسلمان کی جان‘ مال اور آبرہ کو ہر مقدس دن ‘ مقدس مہینے اور مقدس شہر کی طرح محترم قرار دے رہیں ہیں۔ اس سے پہلے انسانی لہو معبدوں کی حرمت پر بہتا چلا آیاتھا۔آج دُنیا ئے عالم کے مذاہب کی تکمیل اِس بات پر ہو رہی ہے کہ انسان کی حُرمت اُولیٰ ہے … انسان ہی لائقِ تقدیس ہے …انسان کی تکریم اَولیٰ ہے۔ آج فکر ِ انسانی کو نیا رُخ دیا جاتاہے … انسان مقدم ہے اور ہر وہ چیز مؤخر … جو انسان کی تکریم کی راہ میں حائل ہے … یہاں تک کہ نماز باجماعت حاصل کرنے کیلئے بھی دوڑ کر شامل ہونے کی ممانعت ہے …کہ دوڑ خواہ کیسی ہی ہو‘ اِنسانی وقارکے منافی ہے۔

خطبہ ٔ حجتہ الوداع ہر دورمیں پوری انسانیت کیلئے اَمن کاپیغام ہے ۔ یہ اَمن وسلامتی کا پیغام‘ اَمن ِ عالم کی ضمانت ہے … اُس ذات کی طرف سے ‘جو رحمت اللعالمین ؐ ہے …محبو ب ِ ؐربّ العالمین ہے۔ اِس لیے جو قوم بھی اِس پیغامِ اَمن کو … جس کی روح امانت ‘ دیانت ‘ انصاف اور انسان کی قدر شناسی ہے… اپنی روحِ عمل کا حصہ بنائے گی ‘وہ اَمن و سلامتی کے ثمرات سمیٹ لے گی !