حضرت واصف علی واصف ؒ کا یہ غیر مطبوعہ کلام ادارے کو وسیم احمد وسیم کی وساطت سے موصول ہوا۔
یہ کلام معروف قوال نصرت فتح علی خان نے حضور داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر پیش کیا

ہے دل میں عشقِ نبی کا جلوہ
نظر میں داتاؒ سما رہے ہیں
بڑے اَدب کا مقام ہے یہ
حضور تشریف لا رہے ہیں

کسی کا ہوگا کوئی سہارا
ہے ایک داتاؒ فقط ہمارا
یہی غلاموں کی بندگی ہے
ہم اپنا داتاؒ منا رہے ہیں

نگر نگر میں کرو منادی
ہے آج داتاؒ پیا کی شادی
ہمارے داتاؒ بنے ہیں دولہا
غلام محفل سجا رہے ہیں

عجیب داتاؒ کے سلسلے ہیں
فریدؒ گھٹنوں کے بل چلے ہیں
وہی مدینے کا راستہ ہے
جو راہ داتاؒ دکھا رہے ہیں

ہمارے داتاؒ کے سب سوالی
کوئی گیا آج تک نہ خالی
ہمارے داتاؒ کی شان دیکھو
وہ سب کی بگڑی بنا رہے ہیں

ہر اک نظر میں بھری ہے مستی
بدل دی داتاؒنے سب کی ہستی
یہ مست داتاؒ کے پی رہے ہیں
نظر سے داتاؒ پلا رہے ہیں

یہاں شہنشاہ ادب سے آئیں
یہاں تو خواجہؒ بھی سر جھکائیں
وہی ہوئے سرفراز واصفؒ
یہاں جو بن کے گدا رہے ہیں