جاوید چودھری

واصف علی واصفؒ صاحب کے ساتھ میری ایک ہی ملاقات تھی‘ میں اس وقت صحافت میں نیا نیا آیا تھا‘ میں نے واصفؒ صاحب کی ’’دل دریا سمندر‘‘ پڑھی ہوئی تھی‘ میرا ایک کولیگ واصفؒ صاحب کا مرید تھا‘ وہ مجھے اُن کے پاس لے گیا ‘ میں اُن کے پاس حاضر ہواتو وہ مجھے بہت اچھے لگے‘ اُن کی گفتگو میں چاشنی اور شخصیت میں کشش تھی‘ وہ ملنے والوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے تھے اور متاثر بھی۔ میں ان سے متاثر ہو گیا‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے انہوں نے اس ملاقات کے دوران اپنا مشہورِ زمانہ فقرہ دہرایا‘ میں نے یہ فقرہ پہلی بار سنا تھا چنانچہ میں داد دئیے بغیر نہ رہ سکا لیکن اس کے بعد یہ فقرہ مجھے بار بار سننے کو ملا اور میں اعتراف کرتا ہوں ‘میں نے یہ فقرہ جب بھی سنا ‘ جب بھی پڑھا اور جب بھی دہرایا‘ مجھے اس نے چند لمحوں کے لیے دنیا و مافیہا سے آزاد کر دیا اور چند لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن میں حالات کی تلخی اور زندگی کی ناکامیوں سے آزاد ہو گیا اور مجھے برے سے برے حالات بھی اچھے لگنے لگے۔ وہ فقرہ تھا ’’ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے‘‘ میں نے جب واصفؒ صاحب کے منہ سے یہ فقرہ سنا تھا تو میں اس وقت یونیورسٹی سے تازہ تازہ ایم اے کر کے نکلا تھا ‘ میں نے یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور گولڈ میڈل کے ساتھ صحافت میں آیا تھالیکن صحافت چونکہ ہر دور میں ایک مشکل پیشہ رہا ہے ‘ اس کے ابتدائی سال ہمیشہ محنت ‘ ذلت اور غربت میں لتھڑے ہوتے ہیں چنانچہ میں بھی اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہا تھا۔ میں خاندان کا سب سے بڑا بچہ تھا اور خاندان بھر نے نوکری تک میری بڑی ’’خدمت‘‘ کی تھی ‘ مجھے گھر سے ضرورت سے زیادہ پیسے اور تعاون ملتا تھا اور میںاس تعاون بلکہ چونچلوں کا عادی ہو چکا تھا‘ میں عملی زندگی میں آیا تو تنخواہ چونچلوں کے مقابلے میں بہت کم تھی ‘ اس وجہ سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی تھی اور میں بعض اوقات اپنا شعبہ تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنے لگتا تھا۔ صحافت میں جونئیرز کے ساتھ وہ سلوک کرتے ہیں جو موٹر مکینک ‘ خرادیے ‘ ترکھان یا پینٹر اپنے ’’چھوٹوں‘‘ کے ساتھ روا رکھتے ہیں‘ میرے ساتھ بھی یہی ہو رہا تھا‘ میرے سینئرز نے مجھے ’’چھوٹا‘‘ بنا دیا تھااور میں چھوٹا ہونے کی حیثیت سے ان کے لیے چائے کا آرڈر بھی دیتا تھا‘ ان کے مہمانوں کو ریسیپشن سے بھی لاتا تھا‘ ان کے فون بھی اٹینڈ کرتا تھا اور چپڑاسیوں کی طرح خبریں کمپوزنگ سیکشن میں دے کر آتا تھا اور وہاں سے لاتا بھی تھا۔
حکمت اور دانائی سے بھرے فقرے بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہوتے ہیں‘ ہم جب زندگی کی چکی میں پِس پِس کر تھک جاتے ہیںتو اللہ ہمیںاپنے کسی بندے کے پاس لے جاتا ہے اور وہ بندہ ہمیں ہمارے حصے کا مشورہ ‘ تجویز یا فقرہ دیتا ہے اور یوں ہمارے حالات کی تمام گانٹھیں کھل جاتی ہیں۔ اس دن میرے ساتھ بھی یہی ہوا ‘ واصف علی واصفؒ صاحب نے یہ فقرہ کہا اور میری ساری گرہیں کھل گئیں‘ میں نے اپنے نصیب پر خوش رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں ‘واصف علی واصفؒ کے اس فقرے نے زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں میرا ساتھ دیا
غرض میں ایک کلرک کم چپڑاسی تھا ‘ میری انا اس سلوک سے مطمئن نہیں تھی اور میں بعض اوقات وہاں سے فرار کے منصوبے بنانے لگتا تھا لیکن میں زندگی میں الحمد للہ کبھی پیچھے نہیں ہٹا لہٰذا میری ضد نے مجھے وہاں ٹکائے رکھا مگر اس کے باوجود میں اس ماحول میں تنگ تھا ‘ اس دوران میری ملاقات واصفؒ صاحب سے ہوئی‘ میں نے ان کے منہ سے یہ فقرہ سنا اور مجھے زندگی بھر کے لیے راستہ مل گیا۔
ہماری زندگی میں اچھے لوگ ‘ اچھی باتیں ‘ اچھی تجاویز‘ اچھے مشورے اور اچھے فقرے رزق کی طرح ہوتے ہیں‘ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات جس طرح ایک ایک لقمہ رزق دیتی ہے اور اگر یہ رزق کے معاملے میں ہم سے خوش ہو جائے یا اس کو ہم پر رحم آ جائے تو یہ ہمارے لیے رزق اور کرم کے سارے دروازے کھول دیتی ہے اور ہم دیکھتے ہی دیکھتے بِل گیٹس یا ملک ریاض بن جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح حکمت اور دانائی سے بھرے فقرے بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت ہوتے ہیں‘ ہم جب زندگی کی چکی میں پِس پِس کر تھک جاتے ہیں یا وقت کی لہریں ہماری چٹان سے ٹکرا ٹکرا کر ہمیں ریت کے ذروں کی طرح باریک کر دیتی ہیں تو اس وقت اچانک اللہ تعالیٰ کو ہم پر رحم آجاتا ہے ‘ یہ ہمیں اللہ کے کسی بندے کے پاس لے جاتا ہے اور وہ بندہ ہمیں ہمارے حصے کا مشورہ ‘ تجویز یا فقرہ دیتا ہے اور یوں ہمارے حالات کی تمام گانٹھیں کھل جاتی ہیں۔ اس دن میرے ساتھ بھی یہی ہوا ‘ واصف علی واصفؒ صاحب نے یہ فقرہ کہا اور میری ساری گرہیں کھل گئیں‘ میں نے اپنے نصیب پر خوش رہنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں‘واصف علی واصفؒ کے اس فقرے نے زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں میرا ساتھ دیا ‘ میں جب بھی حالات کے جبر سے پریشان ہوا یا کسی ناکامی نے مجھے بے بس کر دیا ‘ میں نے دل ہی دل میں یہ فقرہ دہرایا‘ ایک لمبا سانس لیا اور اس ناکامی‘ اس جبر کو اپنا نصیب سمجھ کر اس پر خوش ہو گیا اور اللہ تعالیٰ کی ذات نے چند دن بعد مجھے اس مسئلے سے بھی باہر نکال لیا۔ ہم سب وقت کے غلام ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے سورۃ عصر میں زمانے کی قسم اس لیے کھائی کہ اللہ تعالیٰ زمانہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے وقت کو برا کہنے سے بھی منع فرمایا ‘ کیوں ؟ کیونکہ وقت بھی اللہ کی ایک صفت ہے۔ ہم لوگ جب زکام کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہ مرض سات دن پورے کیے بغیر ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا خواہ ہم کچھ بھی کر لیں‘ یہ سات دن زکام کا دورانیہ ہوتا ہے اور جب تک یہ مدت پوری نہیں ہوتی اسوقت تک یہ مشکل ختم نہیں ہوتی‘ ہمیں ہر حال میں یہ مدت ‘ یہ دورانیہ بھگتنا پڑتا ہے اور ہم اس مشکل وقت کو اس وقت تک ہنسی خوشی نہیں گزار سکتے جب تک ہم اپنے نصیب پر خوش ہونا نہیں سیکھ لیتے اور یہ فن مجھے واصفؒ صاحب نے سکھایا۔
آپ آج کے پاکستان اور پاکستانیوں پر نظر دوڑائیے ‘ آپ کو اس وقت ملک کا ہر شخص غیر مطمئن ‘ شاکی ‘ پریشان اور بے چین دکھائی دے گا ۔ میں ان میں سے اکثر لوگوں سے سوال کرتا ہوں آپ کی آمدنی دس سال پہلے زیادہ تھی یا اب زیادہ ہے۔ نوّے فیصد لوگوں کا جواب ہوتا ہے آج زیادہ ہے‘ میں ان سے پوچھتا ہوں آپ کے پاس دس سال پہلے زیادہ سہولتیں تھیں یا آج زیادہ ہیں‘ ۹۵ فیصد جواب دیتے ہیں آج زیادہ ہیں۔ میں اس کے بعد ان سے کہتا ہوں ’’پھر پریشانی کس چیز کی ہے؟‘‘
ہم لوگ اس حقیقت سے واقف نہیںہیں کہ ہمیں سب سے پہلے اس پر خوش ہونا چاہیے جو ہم نے حاصل کر لیا اور اس کے بعد اگر وقت ملے تو پھر اس کے بارے میں سوچیں جسے ہم حاصل نہیں کر سکے یا جسے ہم نے حاصل کرنا ہے ۔ ہم لوگ ملے ہوئے پر خوش ہونے کی بجائے نہ ملے ہوئے پر اداس رہتے ہیں چنانچہ ہماری زندگی میں شکایت بھی ہے ‘ شکوے بھی اور پریشانی بھی اور ملک کو اس نفسیاتی صورتحال سے واصف علی واصفؒ صاحب جیسے استادوں کی سوچ ہی نکال سکتی ہے
ہم لوگ اپنی آج کی زندگی کو دس سال پہلے کی زندگی سے کمپیئر کریں تو ہمیں حیرت ہو گی۔ دس سال پہلے ہر شخص کے پاس موبائل نہیں تھا ‘ آج ہے۔ دس سال پہلے موبائل کی کال دس روپے فی منٹ تھی ‘ آج ایک روپے سے بھی کم ہے۔ دس سال پہلے مِنرل واٹر نہیں تھا‘ آج ہے۔ دس سال پہلے سڑکوں پر نئی گاڑیاں دکھائی نہیں دیتی تھیں‘ آج ہر تیسری گاڑی نئی ہوتی ہے۔ دس سال پہلے دس فیصد آبادی کے پاس اے سی نہیں تھا‘ آج تیس فیصد کے پاس ہے۔ دس سال پہلے اتنی سڑکیں نہیں تھیں‘ آج سے دس سال پہلے ہوائی سفر کا زیادہ رجحان نہیں تھا ‘ آج ہے اور دس سال پہلے لوگ ایک سالن پکاتے تھے لیکن آج اس ملک کے تیس ‘ پینتیس فیصد لوگ دو ‘ دو سالن بھی پکاتے ہیں اور کھانے کے ساتھ سویٹ ڈش بھی لیتے ہیں ‘ ہم اگر دس سال پہلے کا پاکستان دیکھیں تو اس وقت ملک میں اتنے اچھے تعلیمی ادارے نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ دس سال پہلے ملک میں کنٹرولڈ میڈیا تھا‘ حکومت عوام کو جو کچھ بتانا چاہتی تھی لوگوں تک صرف وہی پہنچتا تھالیکن آج ملک میں ستّر کے قریب آزاد ٹیلی ویژن چینلز ہیں اور اس قدر خود مختار ہیں کہ یہ رینجرز کے ہاتھوں سرفراز شاہ کے قتل کی فلم دکھاتے ہیں اور ملک کے طاقتور ترین طبقے ہاتھ مَل کر رہ جاتے ہیں۔ دس سال پہلے اس ملک میں کافی ہائوسز اور ریستورانوں کی روایت نہیں تھی‘ آج پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں بے شمار کافی ہائوسز ہیں اور بین الاقوامی معیار کے ریستورانوں کی قطاریں لگی ہیںاور آپ کو ہر شام وہاں رش دکھائی دیتا ہے ۔ دس سال پہلے ملک میں کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ آسائش سمجھی جاتی تھی لیکن آج یہ ہماری زندگی کا حصہ ہے‘ ہم بلیک بیری اور آئی فون کی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں اور دس سال پہلے مظلوم لوگ سپریم کورٹ کے سامنے سے نہیں گزر سکتے تھے لیکن آج ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ اخبارات کی چھوٹی چھوٹی خبروں پر سو ؤ موٹو (suo moto)نوٹس لے لیتی ہے اور روزانہ بیسیوں لوگوں کو انصاف ملتا ہے۔ غرض آج کا پاکستان سہولتوں ‘ سوچ اور رویوں میں دس سال پہلے کے پاکستان سے کہیں اچھا ہے لیکن اس کے باوجود ہم لوگ پریشان ہیں ‘ ہم شاکی اور مایوس بھی ہیں ‘ کیوں؟ اس کی وجہ صرف اور صرف اپنے نصیب پر خوش ہونے کے آرٹ کی کمی ہے‘ ہم لوگ اس حقیقت سے واقف نہیںہیں کہ ہمیں سب سے پہلے اس پر خوش ہونا چاہیے جو ہم نے حاصل کر لیا اور اس کے بعد اگر وقت ملے تو پھر اس کے بارے میں سوچیں جسے ہم حاصل نہیں کر سکے یا جسے ہم نے حاصل کرنا ہے ۔ ہم لوگ ملے ہوئے پر خوش ہونے کی بجائے نہ ملے ہوئے پر اداس رہتے ہیں چنانچہ ہماری زندگی میں شکایت بھی ہے ‘ شکوے بھی اور پریشانی بھی اور ملک کو اس نفسیاتی صورتحال سے واصف علی واصفؒ صاحب جیسے استادوں کی سوچ ہی نکال سکتی ہے‘ جو لوگوں کو یہ بتا سکیں کہ…’’ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے‘‘ ، وہ نہیں جو زیادہ کی کوشش میں اپنی جھولی میں چھید کروا لیتا ہے یا پھر خواہشوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے لالچ کی شاہراہ پر کسی بے لگام گھوڑے کے پائوں تلے کچلا جاتا ہے۔ کاش ! واصف علی واصفؒ جیسے لوگ اس ملک کے تمام مایوس لوگوں کومل جائیں تو مجھے یقین ہے یہ لوگ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھنا شروع کر دیں گے۔
بشکریہ :روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ مؤرخہ ۲۶ جون ۲۰۱۱ء