حضرت واصف علی واصف ؒ کے شعری مجموعہ کلام ’’شب چراغ‘‘ سے انتخاب

میں ماٹی کی مورتی ، ماٹی میرا دیس
ماٹی موری جات ہے ، مَیں لائی سندیس

ماٹی بھید اَگم کا ، ماٹی کی کیا بات
سُندر پھول سے پوچھیو ، ماٹی کیسا دیس

ماٹی میں جل اَگنی ‘ ماٹی پَوَن جھکور
ماٹی ہی من موہنی ، ماٹی کرے کلیس

ماٹی ماٹی کھا گئی ، ماٹی مورکھ کوکھ
ماٹی ماٹی جنم دے ، ماٹی سَو سَو بھیس

ماٹی بھولے پریم کو ، جگ کلجُگ بن جائے
ماٹی جگ کا دیس ہے ، جگ اِس کا پردیس

ماٹی کھڑکھڑ بولتی ، بیتے جُگ ہزار
ماٹی لاگی دھڑکنیں، کھڑکھڑ ہے چودیس

ماٹی آئے کوکھ سے ، ماٹی کوکھ بسے
دھرتی ماتا دھرم ہے ، ماٹی کا سندیس

ماٹی جگ کو موہ کے ، جائے ماٹی سنگ
’’گوری سوئے سیج پہ ، مُکھ پر ڈالے کیس‘‘

خسروؒ کا گُر آتما ، واصفؔ گُر کی بات
اَمر کرے پرماتما ، ماٹی دیس بدیس!

خسروِ شیریں مقال ‘طوطی ٔ ہند حضرت امیر خسروؒکے سالانہ عرس (۱۵ ستمبر ۲۰۱۱ء )کے موقع پرجناب ملک شوکت محمود کنڈان

( برادرِ خورد حضرت واصف علی واصف ؒ ) نے امسال پاکستانی وفد کی نمائندگی کی اوردرج بالا کلام سے مزین قطعہ سجادگانِ درگاہِ نظامیہ (دہلی) جناب خواجہ ناظم نظامی صاحب اور خواجہ طاہر نظامی صاحب کوپیش کیا۔مجلس ِ فکرِ واصفیہ کی جانب سے تیارکردہ یہ قطعہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ کے دربارِ اقدس کے احاطے میں آویزاں کیا گیا۔