حضرت واصف علی واصف ؒ کے مضامین پرمشتمل کتاب ’’حرف حرف حقیقت‘‘ سے انتخاب

ذوق ِ یقیں میسر نہ ہوتو انسان‘ نظرنہ آنے والی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا نظر آتاہے۔یقین کہ جب بھی تحقیق کی کٹھالی میں ڈالا جائے گا ہمیشہ تسلیم کا دوسرا رُوپ نکلے گا۔ یقین زندگی ہے … سفر کا ثبوت بھی ہے اوردلیل بھی۔ یقین سے محروم ہونے والا آدھے راستے کا مسافرٹھہرتاہے ۔ دراصل آدھے راستے کا مسافر دو منزلوں سے محروم ہوتاہے… ایک وہ منزل جسے وہ بغرض ِ سفرترک کر چکا ہے اور دوسری وہ جس کی جانب وہ کبھی عازم ِ سفر ہواتھا۔ حضرت واصف علی واصف ؒ آدھے راستے میں پڑائو کئے ہوئے قافلۂ ملت کیلئے ایک حدی خواں کے میسر آنے کی دعا فرما رہے ہیں …ا ورایسے لگتاہے جیسے وہ اپنی دعا کی تاثیر لے کر خود ہی جلوہ فرماہیں… کیونکہ اس مضمون کی ہر سطر حدی خوانی کرتی نظر آتی ہے۔ (مدیر)

انسان عجب مخلوق ہے…سوچتا ہے…عمل کرتا ہے اور عمل کے عین دوران پھر سوچتا ہے اور اپنے عمل پر نظر ثانی کرتے کرتے اپنی اُس سوچ پر بھی نظر ثانی کرتاہے جس کے تحت سفر کا آغاز کیا تھا۔یہ کھیل جاری رہتا ہے‘آری کے دندوں کی طرح … اور انجام کار یہ سوچ در سوچ کی آری افراد کو اور قوموں کو کاٹ کے رکھ دیتی ہے … جذبے سرد پڑ جاتے ہیں…سفر کی لذت ختم ہو جاتی ہے…عمل سے حاصل ہونے والی عزتِ نفس ندامت میں بدل جاتی ہے اور سفر بند ہو جاتے ہیں…قافلے پڑائو پر پڑے رہتے ہیں۔منزل سے محروم‘بد دل مسافر ایک نئی سوچ میں پڑ جاتے ہیں اور نئی بستیاں بسانے کے در پے ہو جاتے ہیں…گھر چھوڑ کر سفر پہ نکلے اور مسافرت میں منزلیں فراموش کر کے نئے گھر بنانے شروع کر دیتے ہیں۔کل کی سوچ کو غلط سمجھ کر انسان آج کی سوچ پر ناز کرتا ہے …آنے والے کل میں یہ سوچ بھی غلط ہو سکتی ہے۔بس تذبذب کے اِس مقام کو ہی آدھا رستہ کہتے ہیں…واپس جانا نا ممکن ہوتا ہے…آگے جانے کی ہمت نہیں ہوتی…یہی زوالِ ملّت ہے کہ مقصد ہی بھُول جائے اور مقصد نہ رہے تو سفر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…انسانی عقل راستوں میںرہ جاتی ہے‘منزل پر پہنچانے والی کوئی اور سوچ ہے…وہ دانشِ نورانی ہے…وہ علم آسمانی ہے…وہ فیصلہ کسی اور طرف سے آتا ہے۔انسانی سوچ کو تذبذب سے بچانے کے لئے پیغمبر ؑ تشریف لائے اور لوگوںکو بتایا کہ یہ عارضی اور فانی سوچیں ہیں…اصل بات خدا کی بات ہے…اور اصل سفر ‘اطاعت کا سفر ہے جسے منزل نصیب ہوتی ہے۔ابلیس نے اطاعت نہ کی…اُس نے غرور کیا‘تکبر کیا‘اُس نے سوچا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ مٹی سے بنے ہوئے آدمؑ کو سجدہ کیا جائے‘جبکہ وہ نار سے پیدا ہوا…یہی سوچ کا زوال ہے۔آدھے رستے کا مسافر ابلیس تھا…مقرب تھا‘معتوب ہو گیا‘رجیم ہو گیا۔جب سوچنے کے بعد کوئی فیصلہ کر لیا جائے تو اللہ پر بھروسہ کر کے منزل پر ہی ڈیرے ڈالنے چاہئیں…یہی کامیابی ہے۔ بد نصیب ہیں وہ مسافر جو آدھے سفر کے بعد ذوقِ سفر سے محروم ہو جائیں۔مقصد فراموش قومیں اور افراد آدھے رستے پر رُک جاتے ہیں۔
یہی زوالِ ملّت ہے کہ مقصد ہی بھُول جائے اور مقصد نہ رہے تو سفر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…انسانی عقل راستوں میںرہ جاتی ہے‘منزل پر پہنچانے والی کوئی اور سوچ ہے…وہ دانشِ نورانی ہے…وہ علم آسمانی ہے…وہ فیصلہ کسی اور طرف سے آتا ہے۔انسانی سوچ کو تذبذب سے بچانے کے لئے پیغمبر ؑ تشریف لائے اور لوگوںکو بتایا کہ یہ عارضی اور فانی سوچیں ہیں…اصل بات خدا کی بات ہے…اور اصل سفر‘ اطاعت کا سفر ہے جسے منزل نصیب ہوتی ہے
بعض اوقات ہم اکثریت کے فیصلے پر سفر اختیار کرتے ہیں۔یہ سفر بھی مشکوک ہوتا ہے۔ اکثریت متلون ہو سکتی ہے‘بے خبر ہو سکتی ہے‘بے علم ہو سکتی ہے‘غافل ہو سکتی ہے‘آرام پرست اور آرام طلب ہو سکتی ہے۔جہاں اکثریت کاذب ہو ‘وہاں صداقت کا سفر کیسے ہو سکتا ہے۔اگر منافقین کی اکثریت کے حوالے کر دیا جائے‘تو بھی فیصلہ غلط ہو گا۔ اللہ نے بیان فرمایا کہ ’’اگر منافقین ‘رسولA کے پاس آ کر یہ اعلان کریں کہ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپA اللہ کے رسولA ہیں‘‘تو اے حبیب A !میں جانتا ہوں کہ تُورسولA ہے…لیکن یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ منافق غلط کہتے ہیں‘‘ یعنی جھوٹے لوگ سچ بولیں تو بھی جھوٹ ہے‘وہ کوئی صحیح فیصلہ کریں تو بھی غلط ہے‘وہ کسی صحیح منزل کی نشاندہی کریں تو بھی نتیجہ غلط ہوگا۔سچ وہ ‘جو سچے گروہ کا فیصلہ ہو …سچی اقلیّت‘ کاذب اکثریت سے بہت بہتر ہے۔ محض اکثریت پر مبنی فیصلے قابلِ غور ہیں۔ جب تک سچے لوگوںکی اکثریت نہیں ہوتی‘جمہوری فیصلے غلط ہیں۔سربراہ‘امیر المومنین ہونا چاہیے … امیر الکاذبین اور امیر المنافقین‘ملّت پر عذاب کے نزول کا باعث ہو سکتے ہیں۔ جھوٹے کے مقدر میںآدھا رستہ ہے…جھوٹے راہی کی منزل آدھا رستہ ہے۔ صداقت کی منزلیں صادقوں کے لئے ہیں۔بعض اوقات ’’امیر‘‘کی صداقت قوم میں صداقتِ فکر پیدا کر دیتی ہے۔

ذوقِ سفر کاپیدا کرنا قیادت کا فرض ہے۔قائد کو چاہیے کہ وہ قوم میں بیداری کی روح پھونک د ے۔ذوقِ سفر‘ عطائے رحمانی ہے۔رحمتِ حق کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے کہ اے مہرباں اللہ!دے ہمیں کوئی حدی خواں جو زندگی پیدا کر دے اس قوم میں !!

قائداعظمؒ کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ صادق تھے…صداقت ہی اُن کی خودی تھی۔اُن کا اپنا کردار قوم میں وحدتِ کردار پیدا کر گیا…لوگ اُن کے حکم پر مرمٹے…وطن سے بے وطن ہوئے…مہاجرین بن گئے…سب کچھ لُٹا کے بھی خوش بختی کا احساس رہا…ایک عظیم مقصد کے لئے جان اور آن کی پرواہ کئے بغیر لوگ آمادۂ سفر ہوئے…بات بہت دُور تک نکل جاتی‘ اگر قائد کچھ دیر اور زندہ رہتے۔وحدت کا تصور دینے والا مر گیا اور قوم میں انتشار سا پیدا ہو گیا۔قائد کی بے وقت رحلت نے سفر کی رفتار کم کر دی…سفر کا رُخ وہ نہ رہا۔اُن کی بنائی ہوئی صادق اکثریت‘بے مقصد ہجوم میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔اکثریت کو صداقت آشنا کیا جائے‘اس میں حق گوئی اور بیباکی پیدا کی جائے…یہ مرحلہ طے ہو جائے تو جمہوریت سے بہتر کیا ہو سکتا ہے…ورنہ وہی بات کہ بس آدھا سفر…آدھا راستہ…خدانخواستہ…!

انسان فطری طور پر انقلاب پسند ہے‘اِسے یکسانیت پسند نہیں‘یہ ورائٹی چاہتا ہے‘ یہ بدلتا رہتا ہے…انسان لباس بدلتا ہے‘لہجے بدلتا ہے‘دوست بدلتا ہے‘جماعتیں بدلتا ہے‘پارٹیاں بدلتا ہے‘ہارس ٹریڈنگ کرتا ہے‘یہ محسن فراموشیاں کرتا ہے‘رشتے بدلتا ہے اور مقصد بھی بدل دیتا ہے…اِس کے پاس ہر کام کا جواز ہے…پرانے فیصلے کا اِس کے پاس قوی جواز تھا‘آج نئے فیصلوں کا جواز ہے‘غالباً یہی انقلاب کا باعث ہے۔

غریبوں کو نان و نفقہ کے مسائل اور مراحل سے آزاد کرایا جائے…اُن کی زندگی میںامید کی شمع روشن ہونی چاہیے…انہیں مایوسی کی تاریکی سے نکالنا چاہیے تا کہ وہ بھی وطن پرستی کے عظیم مقصد اور سفر میں شامل ہوں۔امیروں سے پیسے کی محبت نکال لی جائے …انہیں مال کی نمائش کا موقع نہ دیا جائے…اُن کی شادیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جائے…اُنہیں ایک سادہ زندگی کا شعور دیا جائے تا کہ وہ بیچارے بھی حصولِ منزلِ ملّت کے عمل میں شریک ہو سکیں…ورنہ آدھے راستے کی بد قسمتی سے بچنا مشکل ہو گا

آدمؑ کو بہشت میں رہنا اس لئے بھی راس نہ آیا کہ وہاں کوئی ہنگامہ نہیںتھا‘ کوئی انقلاب نہیں تھا‘بولنے کے لئے کوئی فورم نہیں تھا…ترکیب سوچی …شجرِ ممنوعہ کا ذائقہ چکھ لیا…بس انقلاب آ گیا…ہنگامہ بپا ہو گیا…اگر اخبار ہوتے تو شہ سُرخیاں چھپ جاتیں،بہشت اُن کے ہاتھ سے نکل گیا…انقلاب کامیاب ہو گیا اور زندگی ناکام۔ اللہ نے آدمؑ کے لئے شیطان کو نکال دیا اور آدمؑ نے شیطان کے لئے اللہ کے امر کو چھوڑ دیا۔بہشت کاسفر آدھے رستے ہی میںختم ہو گیا۔پھر زمین کا سفر…زمین کے مقاصد‘عزائم اور عمل…سب نا مکمل…حضورِ اکرمA کی معراج کے علاوہ ابھی سب کچھ راستے میں ہی ہے…ابھی آدھارستہ ہی طے ہوا ہے۔ابھی تو ملّتِ آدمؑ کی تفریق ہوئی ہے…یہ سفر مکمل ہو گا وحدتِ آدمؑ پر۔ستاروں کی وحدت کہکشاں پیدا کرتی ہے‘ننھے چراغوں کی وحدت سے چراغاں پیدا ہوتے ہیں‘قطروں کی وحدت سے قلزم اور دریا کے جلوے پیدا ہوتے ہیں۔
آدھے رستے کے مسافروں کو جگایا جائے‘انہیں پھر سے آمادہ کیا جائے … اُن میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے تا کہ کارواں پھر سے رواں ہو جائے … منزلیںانتظار کر رہی ہیں اور مسافر ہیں کہ آدھے رستے میں سوئے پڑے ہیں۔
ذوقِ سفر کاپیدا کرنا قیادت کا فرض ہے۔قائد کو چاہیے کہ وہ قوم میں بیداری کی روح پھونک د ے۔ذوقِ سفر‘ عطائے رحمانی ہے۔رحمتِ حق کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے کہ اے مہرباں اللہ!دے ہمیں کوئی حدی خواں جو زندگی پیدا کر دے اس قوم میں۔ مطلب پرستی جمود پیدا کر رہی ہے‘وطن پرستی تحریک پیدا کرے گی۔یہ قوم…’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیA ‘‘

آدھے رستے کے مسافروں کو جگایا جائے‘انہیں پھر سے آمادہ کیا جائے … اُن میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا کیا جائے تا کہ کارواں پھر سے رواں ہو جائے … منزلیںانتظار کر رہی ہیں اور مسافر ہیں کہ آدھے رستے میں سوئے پڑے ہیں

غریبوں کو نان و نفقہ کے مسائل اور مراحل سے آزاد کرایا جائے…اُن کی زندگی میںامید کی شمع روشن ہونی چاہیے…انہیں مایوسی کی تاریکی سے نکالنا چاہیے تا کہ وہ بھی وطن پرستی کے عظیم مقصد اور سفر میں شامل ہوں۔امیروں سے پیسے کی محبت نکال لی جائے …انہیں مال کی نمائش کا موقع نہ دیا جائے…اُن کی شادیوں کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جائے…اُنہیں ایک سادہ زندگی کا شعور دیا جائے تا کہ وہ بیچارے بھی حصولِ منزلِ ملّت کے عمل میں شریک ہو سکیں…ورنہ آدھے راستے کی بد قسمتی سے بچنا مشکل ہو گا۔ یہ سب کا سفر ہے…سب کے لئے‘یہ سب کا مقصدہے …سب کے لئے‘ یہ سب کا مُلک ہے … سب کے لئے‘یہ سب کے وسائل ہیں…سب کے لئے…غور کیا جائے‘ اللہ آسانیاں پیدا کرے گا۔جس مقصد کے لئے یہ مُلک بنایا تھا…یاد تو ہے؟اگر یاد ہے تو حاصل کرنے میں کیا دیر ہے۔

کیا اب اکثریت سے پوچھا جائے گا کہ اسلام کیا ہوتا ہے…اِسے حقیقی معنوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے؟یہ بات خدا سے پوچھی جائے‘قرآن سے معلوم کیا جائے‘اللہ کے رسولA کے فرامین سے روشنی حاصل کی جائے‘گردشِ لیل و نہار پر نگاہ رکھنے والے بیدار روح انسانوںسے رجوع کیا جائے…وحدتِ عمل اور وحدتِ کردار کا پھر سے پیدا ہونا مشکل نہیں ہے۔صاحبانِ اقتدار صادق ہو جائیں‘ہر طرف صداقت ہی صداقت ہو جائے گی۔شُکر ہے کہ بہت کچھ ہو رہا ہے لیکن ابھی اور بہت کچھ کرنا باقی ہے۔قافلہ آدھے رستے میں ہی تھک کر سستا رہا ہے…جاگو اور جگائو…وقت انتظار نہیں کرتا…مواقع اپنے آپ کو دہراتے نہیں۔مرتبے اور آسائشیں ملتی ہیں کہ اپنے آپ کو خوش نصیب بنایا جائے۔خوش نصیب بننے والا سب کو خوش نصیبی عطا کرے۔قافلہ بد دل ہو گیا ہے…اس کی تکالیف کا ازالہ کیا جائے‘اسے گِلے اور تقاضوں سے نجات دی جائے۔یہ قوم جاگ گئی تو قوموں کی امامت کا فریضہ اسی کو سونپا جائے گا۔حال کی خوشحالی میں مست ہو کر مستقبل کے فرائض فراموش نہ ہوں۔وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب اقبالؒکے خواب کی تعبیر میسر ہو…قائداعظمؒ کی محنت کا صلہ حاصل ہو …قوم کے لئے شہید ہونے والوں کی روحوں کو قرار نصیب ہو…ہم منزل فراموش نہ ہوں تو آنے والی نسلیں ہمیں عزت سے یاد کریں گی۔

اپنی لاڈلی اولاد کے لئے پیسہ جمع کرنا ہی مقصد نہیںہے۔اگر اولاد نے مفت حاصل ہونے والا مال گناہ میں لگایا تو اس گناہ کی سزا پیسہ مہیا کرنے والوں کو بھی ملے گی۔ اگر اولاد کو تصورِ پاکستان سے متعارف نہ کرایا گیا‘شعورِ عظمتِ اسلام کی تعلیم نہ دی گئی تو خدا نہ کرے‘ہمار ے لئے’’آدھے رستے کے مسافروں‘‘کا طعنہ ہو گا۔خدا ہمیں اس عذاب سے بچائے…ہم عظیم قوم ہیں…ہمیں عظیم تر ہونا چاہیے…یہ ملک خدا کا ہے‘خدا کے رسولA کا ہے‘انہی کی منشا کے مطابق چلنا چاہیے۔