حضرت واصف علی واصفؒ کی محافلِ سوال وجواب کی ٹرانسکرپشن پر مشتمل
سلسلۂ کتب بعنوان ’’گفتگو ‘‘سے ’’توبہ ‘‘سے متعلق اقتباسات

سوال: کیا توبہ کے بعد انسان بَری ہو جاتا ہے؟

جواب: بشرطیکہ توبہ قبول ہو جائے۔کافر جو اپنے کفر میں ہے وہ اپنے کفر سے توبہ کر کے اسلام میں داخل ہو گیا‘تو اگر اب man If he dies, he dies as a pure … وہ مرتا ہے تو پاک ہو کے مرے گا‘اب اُسے ماضی کی سزا نہیں ہو گی۔تو توبہ Change کرنے والی شے ہے‘توبہ کا معنی ہی موڑ مُڑنا ہے۔اور توبہ کے خیال سے گناہ جاری رکھنا دراصل توبہ سے محرومی ہے‘کیا پتہ گناہ کے دوران ہی سانس ختم ہو جائے۔اس لئے یہ بڑی ضروری بات ہے۔گناہ ہو جائے تو کفارہ ضرور ادا کر جائو۔
(گفتگو:جلد:۱۷… صفحہ:۱۸۸)

سوال: مجھے لگتا ہے کہ جو غلط کام میں نے کیے ہیں اُن پر ندامت آنا کم بات ہے‘توبہ بھی کم ہے…!!

جواب: جب ایسے مقام پر انسان پہنچے جہاں وہ اپنی توبہ پر استقامت نہ کر سکے تو اس کا طریقہ ٔعلاج یہ ہے کہ تُو اپنی توبہ کرتا جا‘تا کہ اگر موت آ جائے تو اس وقت تُو گناہ کی طرف جاتا ہوا نہ پایا جائے بلکہ توبہ میں پایا جائے۔تو تُو حالتِ گناہ میں نہ پایا جائے بلکہ حالتِ توبہ میں پایا جائے۔تو بچت کا راستہ تو یہ ہے کہ ندامت کا قرب مل جائے اور موت آ جائے تو اُس آدمی کی بخشش ہو جاتی ہے۔ندامت میں مرنا دراصل بخشش میں مرنا ہے۔ اس لحاظ سے نادم ہونا کوئی مایوسی کی بات نہیں ہے۔کہتے ہیں کہ اگر ہزار بار کوئی غلط کام ہو گیا ہے اور ہزار بار تم نے توبہ کی ہے تو پھر ایک ہزار ایک مرتبہ توبہ کرو۔نفس کا یہ طریقہ ہے کہ وہ بار بار گمراہ کرتا ہے اور آپ کا طریقہ یہ ہو کہ بار بار توبہ کر لیں۔وہ اپنے کام سے باز نہیں آتا‘آپ اپنے کام سے باز نہ آئیں۔کسی نے حضور پاکA سے پوچھا کہ یا رسول اللہA !ہم اپنے دین سے کیسے محبت کریں؟تو آپAنے برملا جواب عطا فرمایا کہ جس طرح دنیا دار دنیا سے محبت کرتا ہے،دنیا دار کوئی موقع نہیں چھوڑتا اپنی دنیا بنانے کا‘تم کوئی موقع نہ چھوڑو دین کی طرف جانے کا…تو کیا سوال تھا اور کیا جواب تھا!اگر آپ نے نیت صحیح کر لی ہے تو یہ بھی بڑی بات ہے۔جب کبھی ایسا کام ہو کہ آپ نے کوئی نیک منصوبہ بنایا تو یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے وہ منصوبہ ایک مبالغہ کے طور پر بنایا ہے۔تو آپ کسی بڑے نیک منصوبے کی بجائے کوئی چھوٹا نیک منصوبہ بنائیں۔فی الحال آپ یہ کریں کہ ہر روز کسی کو دس روپے دے دیا کریں۔آپ کسی بڑے منصوبے کی بجائے کوئی چھوٹا منصوبہ بنائیں۔مثلاً کسی غریب آدمی کو ایک روز کھانا کھلا دو۔اس میں کوئی منصوبہ نہیں چاہیے‘کوئی واقعہ نہیں چاہیے‘اور اس طرح آپ کا کام آسان ہو جائے گا۔آپ بات سمجھ رہے ہیں؟تو آپ کا ایک منصوبہ تو بن گیا۔اگر آئندہ جمعرات کو آپ آئیںتو پیسے لے کر آنا تا کہ کسی ضرورت مند کو دے دیں۔اگر نیت بن گئی ہے تو فی سبیل اللہ ابھی جا کے تقسیم کر دینا۔آپ پر سے یہ قرض اُتر جائے گا۔یہ اس لئے ہے تا کہ منصوبے میں دیر نہ ہو۔کیا آپ خیرات کرنا چاہتے ہیں؟کیا خیرات کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس مال Availableہے؟تو آپ سوا روپے سے لے کر سوا سو روپے تک خیرات کر دیا کریں‘کر ڈالا کرو۔لمبے منصوبے نہ بنانا۔بس تھوڑی سی رقم ہے‘یہ تو کسی کو دے دو۔اگر کچھ نہ بھی کر سکو تو چاول لے کے چیونٹیوں کو ڈال دو۔اس طرح منصوبہ پورا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات یہ نفس کا جال ہوتا ہے کہ وہ ایسا منصوبہ بنواتا ہے جو پورا نہ ہو سکے۔اس لیے بڑا منصوبہ نہ بنائو کہ… ’’میں چاہتا ہوں کہ ایک ایسی لائبریری بنائی جائے جو اسلامی تفکر کی ہو‘‘ اس میں نفس کی شہرت چھپی ہوتی ہے۔تو مت بنائو ایسی لائبریری۔ اس لئے چھوٹا سا کام شروع کرو مثلاً کسی غریب کو سوا روپیہ دے دو‘زیادہ دے دو‘ہفتے کے ہفتے‘اگر تھوڑے لگتے ہیں تو روز دے دیا کرو۔جتنی آپ کی مالی استعداد ہے اتنا دے دیا کرو…تو منصوبہ اپنی استعداد میں رکھو‘پھر مایوسی نہیںہو گی۔اگر آپ کو ندامت ہو جاتی ہے تو یہ اچھی بات نہیںکہ آپ ہی منصوبہ بنائیں اور ندامت بھی کریں۔اس طرح یہ ایک پورا عمل بن جاتا ہے کہ منصوبہ بنایا اور پھر ندامت ہو گئی۔عمل حالانکہ پورا ہے…تو آپ کیا کریں؟وہ سوچیں جو کر سکیں۔کچھ نہیں کر سکتے تو سجدہ کر دیں‘دن ہے کہ رات ہے ‘سجدہ کر دیں۔آپ یہ تو کر سکتے ہیں؟پس اگر سجدہ کر سکتے ہیں تو آپ یہ سمجھیں کہ آپ کی نیکی بحال ہو گئی۔جو آدمی سجدہ کر سکتا ہے وہ گمراہ نہیں ہو سکتا۔سجدے کا یہ مطلب ہے کہ یا اللہ تیرے پرانے احسانات کا شکریہ اور آنے والے احسانات کے لئے درخواست ہے۔تو سجدے کا مطلب صرف اتنا ہے۔اس لئے یااللہ یہ سجدہ قبول فرما۔اب ندامت کی کیا ضرورت ہے۔آپ خواہ مخواہ ندامت میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔توبہ کر… بلکہ توبہ سے بھی توبہ کر‘ندامت سے توبہ کر‘منصوبہ بنانے سے بھی توبہ کر اور صرف سجدہ کر۔مجھے یہ کبھی نہ بتانا کہ میں سجدہ کر رہا تھا تو راستے میں گردن جواب دے گئی۔جب تک گردن سلامت ہے سجدہ کرتے جائو۔آپ پر وضو کی بھی قید نہیں لگاتے۔اب آئندہ آپ کا منصوبہ کون سا ہو گا؟…سجدہ ‘اور اللہ کے قریب ہونا۔میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ آپ دنیا میںکوئی بڑے منصوبے نہ بنایا کرو‘یہ حکم ہے ’’اے کہ شخص !…جو حاضر ہے یہاںپر…تم ایسے ’’نیک‘‘ منصوبے مت بنایاکرو‘ یہ سب اَنا کے منصوبے ہیں‘لوگوں کے لئے ’’دعا‘‘مت کیا کرو‘ لوگوں کے ’’کام‘‘مت کیا کرو … اپنا کام صحیح کر لو‘ غریب آدمی کو پیسہ دے سکتے ہو تو خیرات کر لیا کرو مگر اپنی نیک نامی کے بغیر‘نیک عمل چپکے سے کر لیا کرو‘اور سجدہ کرو‘‘سجدہ کرنے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو مجھے بتائو۔اگر گردن کی رکاوٹ ہے تو وہ انشاء اللہ جھُک جائے گی۔بعض اوقات انسان پر یہ مقام آتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوںکہ اللہ تعالیٰ کا ایک
گھر یہاں بنایا جائے‘ایک حرم اُدھر ہے اور ایک حرم یہاں بنایا جائے۔

؎ میرے لیے مٹی کا حرم اور بنا دو

تو کیا بنائو گے۔وہ ایک ہی کافی ہے۔تو آپ اتنے منصوبے نہ بنایا کرو۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ سب غریبوں کی حالت درست ہو جائے تو سمجھو کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔میں کہتا ہوں کہ سارے برابر ہو جائیں۔کبھی کوااور مور برابر ہوئے؟شکلیں اگر برابر ہوبھی جائیں تو پھر عقلیںکیسے برابر کرو گے؟یہ نامناسب بات ہے۔برابر نہیں ہوں گی۔خیر بھی رہے گی ‘شر بھی رہے گا‘کافر بھی رہے گا اورمومن بھی رہے گا‘چھوٹابھی رہے گا اور بڑا بھی رہے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیںکہ کسی کو بلند پیدا کیا اور کسی کو پست پیدا کیا… تو نہ قد برابر ہوں گے‘نہ شکلیں برابر ہوں گی‘نہ عرفان برابر ہو گا‘نہ ذہن برابر ہو گا اور نہ رسائی برابر ہو گی…ایک کلاس میں پڑھنے والے الگ الگ نمبر لیں گے۔اس میں مزاج کی کیا بات ہے حالانکہ سب مل کے بیٹھنے والے ہیں۔ایک گھر میں پلنے والے جو ہیں کوئی میٹھا کھاتا ہے اور کوئی نمکین کھاتا ہے۔کیا انسان کبھی برابر ہو سکتا ہے؟یہ ہو نہیںسکتا۔ورنہ اللہ تعالیٰ خوراک کا ایک آئٹم پیدا کرتا۔اس نے بے شمار آئٹم پیداکر دیے ‘تیری مرضی گوشت کھا اور تیری مرضی کچھ اور کھا۔تو اس نے جس طرح کا بندہ پیدا کیا‘ اُس طرح کی چیز پیدا کر دی۔تو یہ ہے مزاج کی بات۔تو اللہ تعالیٰ نے ورائٹی پیدا کر دی۔وہ تو ایسی ورائٹی پیدا کرتا ہے کہ یہاں پر انسان الگ الگ رہے گا‘اکٹھا نہیں ہو گا۔تو سبزی کھانے والے اور ہیں‘گوشت کھانے والے اور ہیں۔شیر مر جائے گا مگر گھاس نہیں کھائے گااور گھوڑا مر جائے گا مگر گوشت نہیںکھائے گا۔تو یہ برابر کیسے ہوں گے۔اللہ نے فرمایا ہے کہ فطرت کے اندر ہر آدمی اپنے عمل میں مقرر کر دیا گیا۔قُل کُلُّ یَّعمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ … ہر آدمی اپنی شکل کے اندر رہن رکھ دیا گیا ہے۔اب وہ باہر نہیں نکل سکتا۔اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ آپ کو صرف پھل ہی دیے جائیں گے تو دو دن تو آپ خوشی سے کھائیں گے‘تیسرے دن بھاگ جائیں گے اور کہیں گے کہ گندم چاہیے‘گندم کے پیچھے تو میں جنت کو چھوڑآیا‘یہ تو میں کھائوں گا۔تو یہ آپ کا مزاج ہے۔لہٰذا آپ بڑے منصوبے نہ بنایا کریں بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کیا کریں۔اگر کوئی آپ سے پانی کا گلاس مانگ رہا ہے تو اُسے یہ نہ کہہ دیناکہ ٹھہر جا‘ میںتمہارے لیے ٹیوب ویل لگا رہا ہوں … تو اس غریب کو آپ پانی کا گلاس دیں نہ کہ ٹیوب ویل لگا کے دیں۔اس لیے بڑے منصوبے کی بجائے چھوٹا سا نیک منصوبہ بہتر ہے۔سجدہ کرواور خیرات کر دو۔خیرات ضرور کر ڈالا کرو۔اگلی دفعہ جب آئو گے تو پوچھوں گا کہ کتنی خیرات کی؟چپکے سے بتا دینا کہ آپ کی نمائش نہ ہو۔لیکن اگر ایسی نیکی کی نمائش ہو تو کیا فرق پڑے گا۔ایسی نیکی کا چرچا اچھا ہے۔آپ یہ خیال نہ کرنا کہ اس سے نفس مضبوط ہو گا۔اس کا آپ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ پیسے جو ہیں وہ کسی ناواقف کو دیں‘ابن السبیل کو دیں‘ذوی القربیٰ اور یتامٰی … تو ویسے ہی پابندی ہے آپ پر۔آئندہ آپ نا واقف کو دیں گے ناں؟اس طرح آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔پھر آپ کو کوئی ندامت نہیں رہے گی۔فقراء کہتے ہیں کہ انسان یہ کرتا ہے کہ وہ پہلے گناہ پر فخر کرتا ہے‘اس کے بعد وہ خاموش ہو جاتا ہے‘پھر اسے گناہ برا لگتا ہے‘اس پر وہ تائب ہوجاتا ہے اور توبہ قبول ہو جاتی ہے تو گناہ کی یاد ختم ہو جاتی ہے۔اور جب گناہ کی یاد ختم ہو جائے تو توبہ سے بھی توبہ کر لو۔پھر بار بار توبہ نہیں کرنی۔باربار توبہ دراصل گناہ کو Repeatکرنے والی بات ہے۔ جب مکمل طور پر توبہ کر لی ہو تو پھر دوبارہ توبہ کا کیا مقام ہے؟اس لئے گناہ کی یاد ہی نکال دو۔آپ بات سمجھ رہے ہیں؟ پھر سب آسان ہو جائے گا۔ (گفتگو:جلد:۲۰… صفحہ:۳۱)