گلہائے عقیدت

مجلس فکرِ واصفیہؒ لاہور کے زیرِ اہتمام ماہانہ محفل (نعتیہ مشاعرہ )میں پیش کیاگیا نعتیہ کلام

ڈاکٹر ناہید شاہدؔ

تری سنت ہے راستہ میرا
یوں ملے تجھ سے سلسلہ میرا

رحمتِ حق ملی ترے در سے
ساتھ تیرے ہوا خدا میرا

کاش بن جائے حُسنِ اُلفت کی
شاخِ مدحت پہ گھونسلہ میرا

گر نہ ملتی محافظت تیری
لُٹ گیا ہوتا قافلہ میرا

تیرے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے
بڑھ گیا کتنا مرتبہ میرا

میں شکنجے میں تھا نحوست کے
تو نے بدلہ ہے زائچہ میرا

دل تری رحمتوں سے روشن ہے
ورنہ بجھ جاتا یہ دیا میرا

——————————————

عبدالرزاق

نہالِ جاں پہ یہ فیضِ نظر کیا توؐ نے
کہ شاخِ خشک کو بھی باثمر کیا توؐنے

ترے ؐ کرم سے ملا ذوقِ نعت گوئی مجھے
میں بے ہنر تھا مجھے باہنر کیا توؐنے

یہ کائنات اُسی لمحے ہو گئی ساکت
و لامکان کو قصدِ سفر کیا توؐ نے

تو اُس کا دِل بھی ہے جیسے ابو ایوب ؓکا گھر
کہ جس کے سینے میں اے شاہؐ ‘ گھر کیا توؐ نے

کیا ہے جِس نے اِطاعت میں خم سرِتسلیم
دہر میں اُس کو اِمامُ الدّھر کیا توؐنے

اُدھر ہی جھومتے جاتے ہیں مہروماہ ونجوم
رخِ انگشتِ مبارک جدھر کیا توؐنے

تریؐ ثنا سے ہے سب قدرومنزلت میری
میں تو قطرہ تھا کہ جس کو گہر کیا توؐنے

Got something to say? Go for it!