عید مبارک

سقوطِ ڈھاکہ (۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ئ)کے بعد پہلی عید کے موقع پر
حضرت واصف علی واصف ؒ کے شعری مجموعہ ’’شب راز‘‘ سے منتخب ایک نظم

افسردہ ہیں افلاک و زمیں‘عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں‘ عید مبارک

نمناک ندامت سے جبیں‘عید مبارک
یہ عید کوئی عید نہیں‘ عید مبارک

یہ صبحِ مسرت ہے کہ شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں‘عید مبارک

مِلّت کے جواں قید میں پابندِ سلاسل
پردیس میں کیمپوں کے مکیں‘عید مبارک

چھلنی کیا کفّار نے تاریخ کا سینہ
دل کو نہیں ہستی کا یقیں‘عید مبارک

توحید پرستی ہی فقط جُرم تھا میرا
گہنائی ہے کیوں عظمتِ دیں‘عید مبارک

کچھ بھول ہوئی ہم سے یہ کہنا ہی پڑے گا
بے وجہ یہ اُفتاد نہیں‘عید مبارک

افسوس تو یہ ‘ آج بھی ہم ایک نہیں ہیں
اِک نظرِکرم بانی ٔ دِیںؐ ‘ عید مبارک

کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دورِ حسیں‘عید مبارک

بھٹکی تو ہے یہ قوم رہِ راست سے لیکن
اِس قوم کا ثانی ہے کہیں‘عید مبارک

پہنچائے اسیروں کو صبا‘عید مبارک
گو دیر ہے اندھیر نہیں‘عید مبارک

محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امیں‘عید مبارک

یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گوبات یہ کہنے کی نہیں‘عید مبارک

’’ہے جُرمِ ضعیفی کی سزامرگِ مفاجات‘‘
رکتے ہیں کہیں پائے یقیں‘عید مبارک

پھر نعرۂ تکبیر سے گونجیں گی ٖفضائیں
آپہنچا ہے وہ وقت قریں‘عید مبارک

مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں‘عید مبارک

آنے کو ہے اب دور ترا میرِ عساکر
کہتی ہے تجھے فتحِ مُبیں‘عید مبارک

Got something to say? Go for it!