(حضرت واصف علی واصفؒ کے شعری مجموعہ ’’شب چراغ ‘‘ سے ایک نظم )

آدھا رستہ طے کر آیا ،
اب کیا سوچ رہا ہے آخر !
انجانی منزل کی جانب
چلتا جائے
یا واپس ہو جائے راہی !
سوچ کے بھی انداز عجب ہیں
سوچ کے ہی آغاز کیا تھا
سَو رستوں میں ایک چنا تھا
اور اب سوچ ہی روک رہی ہے؟
آگے بھی کچھ تاریکی ہے
لوٹ کے جانا بھی مشکل ہے
سوچ کا سورج ڈوب رہا ہے
ایسے راہی کی منزل ہے … آدھا رستہ