صاحب ِ خیر

آج کل موت کی خبر اتنی عام ہے جتنی صبح کا اخبار ، مگر کبھی کبھی کسی خبر کی تلاش میں شام کے وقت اخبار دیکھنا پڑ جاتا ہے۔ واصفؒ صاحب خاص طور پر زندہ آدمی تھے۔ موت ان کی بھی ایک عام خبر بن گئی۔ وہ جانتے تھے کہ باخبر آدمی اور صاحبِ خبر آدمی میں کیا فرق ہوتا ہے۔ وہ گفتگو کرتے تھے اور اس زمانے میں ان کی طرح گفتگو کوئی نہیں کر رہا تھا۔ اشفاق احمد ایسا آدمی ہے جس نے دانش اور لوک دانش کو رَلا ملا دیا ہے۔ واصف ؒ صاحب کی محفل میں انہیں بھی صرف سنتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ تقریر نہیں کرتے تھے۔ بات چیت کرتے تھے۔ وجدانی لہرمیں بولتے ، وہ کہتے سوال کرو۔ پھر جواب اس طرح دیتے کہ سوال زندہ رہتا۔ انہوں نے کہا کہ آخری سوال کے اندر جواب موجود ہوتا ہے۔ آخری سوال ان سے کوئی نہ کر سکا۔ ہمارے ہاں مکالمہ ختم ہو رہا ہے۔ واصفؒ صاحب نے اسے مکاشفہ بنا دیا تھا۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے آرزو کرنے اور جستجو کرنے کو جی کیا کرتا تھا۔ مشکل سے مشکل بات بڑی آسانی سے کر دیتے تھے۔ٹھہرے ہوئے پانیوں کو روانی کا اِذن مل جاتا تھا۔ کوئی خزانہ تو کیا ملتا ۔ بے سرو سامانیوں کو ٹھکانا مل جاتا۔ دکھوں بھرے جیون میں آدمی ہمت کرے یا قناعت کرے۔ میں نے اُن سے سنا کہ جو آدمی کو پسند ہے اسے حاصل کرے یا پھر جو اسے حاصل ہے اسے پسند کرلے۔ میں نے دیکھا کہ پوری محفل جھوم رہی تھی۔ اتنا مزا تو اچھا شعر سن کر نہیں آتا۔ لفظ ان کے منہ سے نکلتے تھے تو لَو دینے لگتے تھے ، لَے بن جاتے تھے۔ اِس اَدا سے بات کرنے والا کوئی نہ تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی گفتگو اقوال بن جاتی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ ان کی گفتگو اَحوال بن جاتی تھی۔ یہاں تو صرف ڈوبنے والوں کو کنارہ ملتا ہے، جاگنے والوں کو ستارہ ملتا ہے۔ ان کا کمال یہ تھاکہ ان دنوں جب ہمارے پڑھنے لکھنے والے لوگ کسی کو تسلیم ہی نہیں کرتے ، اس کی بات نہیں سنتے ، بات کا تمسخر اڑاتے ہیں، واصفؒ صاحب کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور ہوئے اور پھر مو¿دّب بھی ہوئے۔ یعنی اپنے اس عمل میں مہذب بھی ہوئے۔

ہمارے ہاں مکالمہ ختم ہو رہا ہے۔ واصفؒ صاحب نے اسے   مکاشفہ بنا دیا تھا….واصفؒ صاحب نے فکر کو ذکر بنا دیا تھا۔
پریشان حال مخلوق کو فکری آسودگی واصفؒ صاحب کی موجودگی   سے ملتی تھی…. اُنہوں نے اِنکار کرنے کی عادت والے لوگوں میں اقرار کرنے کی فطرت بیدار کر دی تھی۔

اُن کے لہجے میں ایک اجنبی جاذبیت تھی ‘جو دلوں کو موڑ کے لے آتی تھی۔ ایک خاص کشش کا دائرہ اُن کے ارد گرد بڑھتا ہی گیا۔ اُنہوں نے درد والے لوگوں کو ایک الگ انداز میں اپنی جانب بلایا۔ یہاں اب کسی کو صحیح طرح کچھ بتانے کا رواج نہیں رہا۔ خلوص کے ساتھ کچھ پوچھنے کا رواج بھی نہیں رہا۔ سوال و جواب کی محفلیں اُجڑ گئیں۔ ایک دوسرے سے ذہنی رابطہ نہ رہا۔ ایسے میں قلبی رابطے کا تصور بھی گیا۔
میں نے اُن لوگوں کو بھی واصفؒ صاحب سے سوال کرتے سنا جو جواب دینے کے بھی کبھی روادار نہ تھے۔ اُنہوں نے دنیا سے ہاتھ اٹھا لیا تھا اور دنیا والے ہاتھ پھیلا کے اُن کے سامنے کھڑے تھے۔ اُنہوں نے اِنکار کرنے کی عادت والے لوگوں میں اقرار کرنے کی فطرت بیدار کر دی تھی۔ اُنہیں معلوم ہوتا تھا کہ اعلیٰ کام کرنے والے کہاں کہاں ہیں۔ صحافت کو تخلیقی لہر دینے والے اہلِ قلم ہارون الرشید نے” فاتح“ لکھی تو واصفؒ صاحب نے انہیں بلایا، بُلا کے کہا دوسروں کو ہیرو کیوں بناتے ہو ؟خود ہیرو کیوںنہیںبنتے ؟ تمہارے اندر کوئی چیز ہے جس نے تمہیں بچا لیا ہے۔ یہ چیز بار بار کسی آدمی کو بچا نہیں سکتی۔ ہارون نے بتایا کہ میں ایک اور شخصیت پر کام کر رہا تھا۔ یہ کام اب تک آگے نہیں چل سکا۔

اُنہوں نے حقیقت اور حکایت میں فرق مٹا دیا ۔ سچائیوں کو انسان کا دشمن بنانے والوں نے اندھیر گردی مچا رکھی ہے ایسے میں سچائی واصفؒ صاحب کی دوست بن گئی تھی۔ بُری خبریں پھیلانے والوں کے درمیان اُنہوں نے خبر کوخیال بنا دیا تھا۔ کہاں سے اُن کی طرح کا آدمی آئے گا!!

وہ اپنے مخاطب کو کبھی الجھاتے نہ تھے۔ ایک دفعہ ایک آدمی آیا۔ خلیجی جنگ کا ڈرامہ شروع ہو چکا تھا۔ اس شخص کی پریشانی دیکھ کے واصفؒ صاحب نے اسے کہا کہ یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ پھر پوچھا کہ تم ان حالات کو ٹھیک کر سکتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ تو واصف ؒ صاحب بولے کہ پھر تمہیں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ خیر کرے گا۔

ایک افراتفری اور نفسا نفسی کے عالم میں پریشان حال مخلوق کو فکری آسودگی واصفؒ صاحب کی موجودگی سے ملتی تھی۔ غور و فکر کرنے سے غیریت اور فکر مندی کم ہوتی ہے۔ واصفؒ صاحب نے فکر کو ذکر بنا دیا تھا۔ انہوں نے حقیقت اور حکایت میں فرق مٹا دیا ۔ سچائیوں کو انسان کا دشمن بنانے والوں نے اندھیر گردی مچا رکھی ہے ایسے میں سچائی واصفؒ صاحب کی دوست بن گئی تھی۔ بُری خبریں پھیلانے والوں کے درمیان اُنہوں نے خبر کوخیال بنا دیا تھا۔ کہاں سے اُن کی طرح کا آدمی آئے گا۔ اب ایسے آدمی تلاش کرنے سے کب ملتے ہیں۔ اس طرح کا کوئی آدمی ہمیں تلاش کر لیتا ہے۔ ہم نے واصفؒ صاحب کو نہیں واصفؒصاحب نے ہمیں ڈھونڈا تھا۔ اُن کی تلاش کا کام تو اب شروع ہو گا۔ وہ کچھ عرصے سے مسلسل کہہ رہے تھے کہ کوئی بڑا واقعہ ہونے والا ہے۔ یہ بھی تو ایک بڑا واقعہ ہے کہ ہم میں سے بہت سوں کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کیا واقعہ ہو گیا ہے۔ آخر کس واقعے کی طرف اشارہ کیا ہے واصفؒصاحب نے۔ آخر کیوں انہوں نے چاہا کہ ان کی عدم موجودگی میں کچھ ہو۔ جو ہم نہیں جانتے اس کے بارے میں کسی سے پوچھا جا سکتا ہے۔ ہم جو جانتے ہیں اس کے بارے میں پوچھنے کس کے پاس جائیں۔

واصفؒ صاحب نے اس دنیا کے مشاہدات کو کسی اور دنیا کی کیفیات میں ملا کر ایک گہری تاثیر کی تصویر بنائی تھی۔ قدیم زندگی کو جدید دنوں کے اسلوب میں قابلِ قبول خوشبو عطا کی تھی۔ وہ جو کچھ کہتے رہے ، جس طرح کہتے رہے یوں لگتا تھا جیسے ان کی کوئی خاص ڈیوٹی ہے۔ مجبور کرنے اور مائل کرنے میں جو امتیاز ہے اسی میں واصفؒصاحب کے علمی و ادبی طریق کار کا رمز پوشیدہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ کس جہان کی باتیں ہیں۔ منتشر سوچیں کس طرح مطمئن اِرادوں کی ہم آہنگ ہوتی ہیں۔ یہ تخلیقی اور تحریکی کاروائی جدائی کے بعد وصال کے ایک واقعے کی طرح ہے۔ آج کل محرومیاں اور آرزوئیں ، اِرادے اور جذبے سب کچھ ہے ‘مگر کوئی چیز واقعہ نہیں بنتی۔ واصفؒ صاحب نے زندگی کو اصل واقعے میں دیکھ لیا ہے۔

نئی باتوں میں پرانے بھید بھر دئیے جائیں تو سننے والوں کو بھی کئی بھولی ہوئی چیزیں یاد آنے لگتی ہیں۔ واصفؒصاحب کے الفاظ بند دروازے کھولتے تھے۔ دہلیز کے اندر تو ہر کسی کا اپنا اپنا ہوتا ہے ، یقین دلانے والی بات اتنی ہوتی ہے کہ یہ سب آپ کا ہے۔
( بشکریہ روزنامہ ”پاکستان“ …. ۲فروری ۳۹۹۱ء)

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

One Comment on "صاحب ِ خیر"

  1. Naeem says:

    Subhanallah, very nice post and a great site

Got something to say? Go for it!