حکائت ِ سعدی
ایک دفعہ ایک عورت اپنے شوہر کے پاس فریاد لائی کہ گلی کے غلہ فروش سے دوبارہ غلہ، روٹی وغیرہ نہ خریدنا بلکہ گندم بیچنے والوں کے بازار میں جانا۔کیونکہ گلی کا غلہ فروش تو گندم نما جَو بیچتا ہے۔ اس کے پاس گاہک نہیں جاتے۔ مکھیوں کے ہجوم کی وجہ سے ایک ہفتہ سے کسی گاہک نے اس کی شکل نہیں دیکھی ہے۔اس نیازآگیں شخص نے دلجوئی کرتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا اے نور چشم‘ مصالحانہ رویہ اختیار کر۔اس دکاندار نے ہمارے سہارے یہاں دکان لی ہے۔اسے نفع سے محروم رکھنا مناسب نہیں۔یہ بھی احسان کی ایک شکل ہے۔اسے معاف کردے۔ آزاد منش لوگوں کی راہ پر چلنا اچھا ہے۔اگر تو کھڑا ہے تو گرے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ۔جو لوگ مردانِ حق ہیں وہ بے رونق دکان سے خریدتے ہیں۔اگر سچ پوچھتے ہوتوولی سخی ہوتا ہے اور امامِ اولیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سخی ہیں۔
قول واصفؒ
٭ دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں۔۔۔کوشش کریں کہ کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے۔
٭ دوسر وں کو حقوق سے زیادہ دینا احسان ہے۔احسان کا پہلا درجہ یہ ہے کہ غصہ نہ کیا جائے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے۔جس کے عمل نے آپ کے اندر ناپسندیدگی کا اظہار پیدا کیا‘یعنی غصہ پیدا کیا‘ اسے معاف کر دیا جائے،اور پھر تیسرا درجہ ہے کہ اس پر ہو سکے تو احسان کر دیا جائے۔ احسان ‘معافی کا اگلا درجہ ہے۔
(مرتبّہ : محمد حمیرانور …. اَز بوستانِ سعدیؒ :مترجم : ظہور الدین احمد بشکریہ : پیکجز لمیٹڈ)


ماشااللہ