حضرت واصف علی واصف ؒ اور عصرِ حاضر کے تقاضے

محمداقبال انجم

حضرت واصف علی واصفؒ ۵۱ جنوری کو دنیا میں تشریف لائے اور ۸۱ جنوری کو اپنے رفیقِ اعلیٰ کے پاس واپس چلے گئے۔ گویا انہیں تین دن کی زندگی ملی۔ بہادر شاہ ظفر نے کہا تھا:

عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں

دنیا والوں کی زندگی اسی طرح آرزو اور انتظار میں بسر ہوتی ہے۔ اللہ والوں کی زندگی کے تین دن ، تین صدیوں پر حاوی ہوجاتے ہیں ۔ وہ تین صدیاں جن کے متعلق علامہ اقبالؒ نے حضرت مجددؒ کے دربار میں التجا کی تھی:

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

یوں لگتا ہے کہ حضرت اقبالؒ کی دعا حضرت واصفؒ کے حق میںپوری ہوئی۔ آج اگر اقبالؒ موجود ہوتے تو وہ بھی انہیں گلے لگا کر فرماتے :

تین سو سال سے تھے ہند کے میخانے بند
واصفؒ نے آ کے فیض کے چشمے بہا دیے

دنیا ئے تصوف کی چودہ سو سالہ تاریخ ، ان گنت صوفیاءکی بے مثال شخصیات سے مزیّن ہے۔ایسے ایسے نامور اور جلیل القدر صوفیا ءکرامؒ کہ جنہیں حضور سرور کائنات ﷺ کے روحانی درجات کا وارث قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان میں بے شمار صوفیا ئے عظام صاحب ِکتاب بھی ہوئے ہیں جنہوں نے نظم و نثر میں اپنے روحانی کمالات ، اپنے پیشروﺅں کے حالاتِ زندگی اور اپنی وارداتِ قلب کو پوری تفصیل اور شرح کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ بعد میں صاحبانِ عقیدت نے ان کے ملفوظات اور قصص کی صورت میں سینوں کا پورا علم سفینوں میں منتقل کر دیا جن کے مطالعے سے کئی محشر زدہ دل سکینت سے بھر گئے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کو خدا تعالیٰ نے پانچویں صدی ہجری میں اس لیے پیدا فرمایا کہ آپ اپنے دورِ حیات تک پیدا ہونے والے صوفیاءکے حالات کو اپنی کتاب ” کشف المحجوب“ میں محفوظ کر سکیں ۔ آپ دور اوّل کے آخری اور دورِ ما بعد کے پہلے بے مثال صوفی ہی نہیں بلکہ آج تک امام الاصفیاءہیں۔ لوگ آج بھی اُن کے ملفوظات ، ان کی کرامات ، اُن کی عبادات اور ضبطِ نفس کے واقعات کو شوق سے پڑھتے ہیں ، قصّے کہانیوں کی صورت میں بیان کرنے کے لیے نہ کہ عمل کی خاطر۔ آج عبادات میں وہ ذوق و شوق نہیں ۔ علم کتابوں اور قبروں میں سما چکا ہے۔ کرامات قصوں میں منتقل ہو گئی ہیں، کتابیں غفلت کی دجلہ میں بہہ گئیں۔ بغداد ، غزنی اور ترکی سے اُٹھ کر ہنگری ، چین اور اقصائے عالم کے دروازوں پر دستک دینے والے مسلمانوں کے بازو شل اور تلواریں کند ہو گئیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کاملہ سے تن آسان اُمّت کے لیے مردِ تن آسان پیدا کرنے شروع کر دیے ، جس طرح:

دیا اقبالؒ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
اک مرد تن آساں ‘ تن آسانوں کے کام آیا

حضرت واصفؒ نے زمانہ¿ حال کے تقاضوں کے مطابق اقبالؒ کے اصولِ امامت کو اپنا لیا۔ آج کے مسلمان عوام نہ عشاءکے وضو سے نمازِ فجر پڑھنے کے عمل کی پیروی کر سکتے ہیں ، نہ رات کو ہزار ہزار نوافل پڑھنے کی تقلید کسی کے بس میں ہے اور نہ نوافل میں کئی کئی قرآن پاک تلاوت کرنے کی ہمت۔ عبادات کے ان سانچوں میں ڈھلنے والے انسان مفقود ہیں۔ رات کو چوری کی نیت سے گھر میں داخل ہونے والے چور کو برضا و رغبت اپنے سامان کی گٹھڑی باندھنے میں مدد دینے والے نہ رہے۔ ہر روز رات کی عبادت میں خلل انداز ہونے والے یہودی ہمسائے کے ٹوٹنے والے ستار کی قیمت ادا کرنے والے صفحہ¿ ہستی سے کوچ کر گئے ، تو لوگوں کی اصلاح کیسے ہو؟

عبادات اور معاملات ، دین کے دو پہلو ہیں ۔ جب عبادات کا پہلو پس منظر میں چلا گیا تو معاملات میں بھی بگاڑ پیدا ہو گیا۔ باہمی تعلقات میں دراڑیں پڑ گئیں ، محبتوں کا امرت خشک ہونے سے نفرتوں کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرنے لگا تو موجودہ دور کے تقاضوں کو سب سے زیادہ حضرت واصفؒ نے محسوس کیا اور ایک حکیم ، دانشور اور دورِ حاضر کے عظیم صوفی کی طرح اس کا علاج فرمایا۔ جس طرح قرآن حکیم نے اَلدِّینُ یُسر´ کا درس دیا حضرت شارح قرآن ﷺ کی تبلیغ کہ ” راستے سے پتھر ہٹا دو، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو ،دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔“ اسی طرح حضرت واصفؒ نے نہایت آسان الفاظ میں مسلمانوں کے اندر روحِ عمل پیدا کرنے کی کوشش کی۔ حضور سرور کائنات ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ:

”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“
اس حدیث پاک پر عمل کے نتائج کو شامل کر کے حضرت واصفؒ نے کیا خوب بات کہی ہے کہ:
” بے ضرر ہونے سے عرفان کی ابتدا ہوتی ہے اور منفعت بخش ہونے سے انتہا“

عرفان کے حصول کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے بے ضرر ہو جائے اور آخری قدم یہ ہے کہ سب کے لیے فائدہ مند ہو جائے۔

قرآن حکیم کی آیت اِنَّ اَولِیَا ءَاللہِ لَا خَوف عَلَیھِم وَ لَا ھُم یَحزَنُون۔ کے دو حصے ہیں ۔ اس میں سوال ہے کہ اولیاءاللہ کون ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ جنہیں خوف اور حُزن نہیں۔ لیکن خوف اور حُزن سے بچنے کا طریقہ حضرت واصفؒ نے کمال حکمت سے بیان فرما دیاکہ

” اگر انسان اپنے کسی حاصل پر ہمیشہ قابض رہنے کی خواہش دل سے نکال دے تو اسے ملال پیدا نہیں ہوتا ۔ خوف اور حُزن اپنے حاصل کو مستحکم بنانے کی خواہش اور کوشش کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں“

آج کے روایت شکن اور منافقت زدہ معاشرے میں وعدہ خلافی ایسا ہُنر بن چکا ہے جسے اس مصرع ثانی کی تائید بھی حاصل ہے کہ ” وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا“ خدا کے خوف سے بے نیاز انسان کو وعدہ خلافی کی سزا سے کیا ڈر ہو سکتا ہے۔ نماز کی پابندی کرنے والے بھی وعدہ خلافی کو بُرا نہیں جانتے۔ اسی بات کو حضرت واصفؒ نے ایک پُر اثر انداز دیاہے کہ :

” مومن وہ نہیں جو وعدہ پورا نہ کرے اور نماز پوری کرے“

یہ آیت ہر مسلمان کو ازبر ہے ” وَ مَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَة اللعالَمِین ۔ شارحین نے اس کی تعریف میں اوراق کے دفاتر لکھ دیے لیکن حضرت واصفؒ نے ایک فقرے میں تقابل کے ذریعے اس کی تشریح فرما دی کہ :

” عام آدمی اپنی ذات کے لیے بھی رحمت نہیں ہوتا اور سرکارِ مدینہ ﷺ تو پوری کائنات کے لیے باعث رحمت ہیں“

حضور امام الانبیاء ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”ایک وقت ایسا آئے گا جب بھرے پیٹوں والے تکیے سے ٹیک لگا کر کہیں گے کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔“

آج فہمِ قرآن کے جھوٹے خمار میں مبتلا لیکن شعورِ قرآن سے بے بہرہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو خود کو اہلِ قرآن کہلوانے پر فخر محسوس کرتا ہے ۔ حضرت واصفؒ نے ان کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات کہی ہے کہ :

” مسلمانوں کے لیے اہلِ قرآن ہونا کافی نہیں بلکہ حاملِ قرآنِ مبین کے ساتھ نسبت کا مضبوط ہونا بھی بہت ضروری ہے“

یہی حقیقت آپ ؒنے اپنے ایک شعر میں بھی بیان فرمائی ہے:
جس ذات پر نزولِ کلامِ مجید ہو
وہ ذات کم نہیں ہے مقدس کتاب سے

آج کا نا عاقبت اندیش انسان خدا اور اس کے رسولِ برحق ﷺ کے احکامات کو نظر انداز کر کے اپنی نئی نسل سے بہت سی امیدیں وابستہ کر کے ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہے لیکن اپنی پرانی نسل کی خدمات ، خلوص اور جاںسپاری کو ماضی کا حصہ سمجھ کر فراموش کرنے پر تُلا ہوا ہے لیکن حضرت واصفؒ نے دونوں نسلوں کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا ہے:

” انسان کے لیے پرانی اور نئی نسل بڑی دعا گو ہوتی ہے“

موت کا خوف ہر ذی روح پر طاری ہے۔ انسان تمام عمر موت سے بچنے کا سامان کرتا رہتا ہے ۔ علاج اور احتیاط ، باڈی گارڈز کی فوج اور بُلٹ پروف گاڑیوں کے بیڑے بھی اسے موت سے نہیں بچا سکتے ۔ صوفیاءنے موت کا خوف دور کرنے کے لیے انسان کا زاویہ¿ نگاہ بدلنے کی کوشش کی ہے کہ ….الموت ُ جسر’‘ یُوصِلُ الحبیبِ اِلی الحبیب ….یعنی موت ایک پُل ہے جو حبیب کو حبیب سے ملا دیتا ہے۔ اسی حقیقت کو حضرت واصفؒنے اپنی تقاریر ، مضامین اور اشعار میں متعدد مرتبہ اور مختلف انداز میں بیان فرمایا ہے۔ ان کا ایک شعر اس زاویہ¿ فکر کا ترجمان ہے کہ :

موت کیا ہے حق سے بندے کو ملانے کا سبب
موت سے ڈرتے نہیں جو جاگتے ہیں نیم شب

دنیا اور سامانِ دنیا کی محبت انسان کے لیے بڑی مرغوب ہے۔ وہ دنیاوی دولت اور آسائش کو ہی زندگی کا حاصل سمجھتا ہے لیکن کئی نسلوں نے اس مشکل میں ہی زندگی گزار دی کہ دین اور دنیا کو اکٹھا کیسے رکھا جا سکتا۔ اگر دونوں میں سے ایک کو محفوظ کیا جائے تو دوسری ناراض ہو جاتی ہے ۔ پھر بات کیسے بنے۔ علامہ اقبالؒ نے بھی ایک حل بتایا ہے کہ :

ساماں کی محبت میں مضمر ہے تن آسانی
مقصد ہے اگر منزل، غارت گرِ ساماں ہو

حضرت واصفؒ نے بھی اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے۔ فرماتے ہیں:
” دین اگر کمزور ہو جائے تو دنیا کو قبضے میں کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے ۔ اور دین قوی ہو جائے تو دنیا کو نثار کرنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ دونوں کو اگر ساتھ رکھنا ہے تو جو سرمایہ آپ کے پاس ہے اس کو اللہ کی راہ میں قربان کر کے دین بنا لیں“

دنیا دار تمام عمر دنیاوی اسباب و وسائل کی دریوزہ گری میں مصروف رہتے ہیں۔ وہ کوشش اور تدبر کے جال میں پھنس کر مسبب الاسباب سے غافل ہو جاتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں محرومی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ دورِ جاہلیت کے ایک عرب کو اس کا ادراک تھا جو کہتا ہے :

من یّسالِ النّاسِ یُحرِّمُوہ‘ وسائلِ اللّٰہِ لا یُجیبُ

یعنی لوگوںسے سوال کرنے والا محروم رہتا ہے اور خدا سے مانگنے والا ناکام نہیں ہوتا۔ اسی حقیقت کو حضرت واصفؒ نے اپنے بلیغ انداز میں پیش فرمایا ہے کہ:

” جس پر اللہ کا فضل ہوتا ہے اُسے وہ اپنے در کا سائل بنا دیتا ہے اور دنیا داروں کے دروازوں پر دستِ سوال دراز کرنے والا محروم رہتا ہے“

حضور نبی کریم ﷺ کی ایک بڑی معنی خیز دعا ہے:
اَلَّھُمّ َاِنِّی اَسئَلُکَ حَقِیقَتَ الاَشیاءکَمَا ھِیَ۔

اے اللہ میں تجھ سے اشیاءکی اس حقیقت کا سوال کرتا ہوں جیسی کہ وہ ہیں۔
اہلِ نظر کو بھی اشیاءکی حقیقت و ماہیت کا تجسس ہو تا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا :

اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا

حضرت واصفؒ نے بھی اسی ذوقِ نظر کے متعلق فرمایا ہے:
” اگر ذوقِ نظر میسر ہو تو یہ کائنات ایک عجیب تماشا ہے ۔ کرنوں میں آفتاب ہیں ، قطروں میں بحر ہیں ، حباب میں دریا ہیں ، ذرّوں میں دشت ہیں۔ دیکھنے والی نظر ہو تو نظاروں کی کمی نہیں“

اس تقابلی جائزے کے بعد یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ حضرت واصفؒ نے قرآن و حدیث اور قدما کے بیان کردہ حقائق کو نہایت عام فہم اور آسان الفاظ میںعصرِ جدید کے تقاضوں کے مطابق نئی نسل تک منتقل کیا ہے۔

دورِ ماضی سے لے کر آج تک انسانی ضروریات کے ساتھ ساتھ رنج و راحت کے اسباب اور تقاضے ایک جیسے تھے لیکن اہلِ دانش اور اہلِ روحانیت نے ان کے الگ الگ حل تجویز کیے۔ اہلِ دانش نے ان کا حل منطق اور فلسفے کی رو سے بیان کیا اور صالحین نے اس کا حل خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی شکل میں پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت واصفؒ فرماتے ہیں کہ:

” دریا عبور کرنے کے لیے کشتی ضرور سبب ہے لیکن گرداب سے نکلنے کے لیے دعا کا سفینہ چاہیے“

عالمِ پیری کو تمام لوگ بہت بڑا عذاب سمجھتے ہیں لیکن حضرت واصفؒ اسے تقرب الہٰی کی عمر سمجھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

”جوانی کی آنچ مدھم ہو جائے تو کیمیائے پیری یا پیرانہ سالی حاصل ہوتی ہے۔ یہی زندگی ہے ، یہی آگہی کے ایام ہیں ، خود شناسی کے دن ، خدا شناسی کے زمانے ، زندگی کی معرفت کا دور اور تقربِ الہٰی کی گھڑی ہے“

وہ زندگی کو ایک انعام سمجھتے ہوئے یہ درس بھی دیتے ہیں کہ:
” یہ محبت سے ملنے والا انعام ، محبت ہی کے لیے ہے۔ اسے نفرتوں اور جھگڑوں میں برباد نہ کیا جائے۔ یہ خالق کی اطاعت اور پہچان کا زمانہ ہے، اسے مخلوق سے مقابلے میں خرچ نہ کیا جائے “

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ قیادت کا بحران ہے ، اور یہ کیسے پیدا ہوا ؟ حضرت واصفؒ کی زبانی سنیے کہ :

” کثرتِ قائدین نے قیادت کا مفہوم ہم سے چھین لیا“

آج مخلوق اپنے خالق سے ناخوش اور ہر انسان دوسرے انسان سے نالاں ہے ۔ کیوں ؟ حضرت واصفؒ فرماتے ہیں:

” جو انسان اللہ کے زیادہ قریب ہے ، وہ مخلوق کے لیے زیادہ رحیم ہے“

حضرت واصفؒ نے انسان کی ہر سوچ پر ، سوچ کے ہر پہلو پر ، پہلو کی ہر کروٹ اور کروٹ کی ہر ادا پر اپنے جواہرِ افکار لٹائے ہیں ۔ زندگی کا کوئی شعبہ اور عمل کا کوئی زاویہ ایسا نہیں جو تشنہ بیانی کا شکار ہو۔ حضرت واصفؒ نے اپنی روحانی قوتِ بیان کو اپنے وجدانی تجزیہ و تحلیل میں تول کر نہایت آسان الفاظ اور قابلِ عمل صورت میں آج کی تن آسان اور عمل سے بے بہرہ نسلِ نو کے لیے ایسا قیمتی خزانہ چھوڑا ہے جس کی مثال ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ ان کی ہر کتاب کے ورق ورق پر غورو فکر کے چشمے اُبل رہے ہیں۔ ان کے ہر لفظ میں حیرتوں کے خزانے دفن ہیں اور ہر جواب میں اہلِ سوال کی تشفی کا پورا سامان موجود ہے۔ طویل مطالعہ انسان کو ذہنی انتشار کے سوا کچھ نہیں دیتا، عمل کے لیے ایک فقرہ کافی رہتا ۔ ان کے چند فقرے پیش خدمت ہیں:

٭ خوش نصیبی وجود کا ظاہر نہیں ، وجود کا باطن ہے۔
٭ عقیدے کی پختگی ، اختلافِ عقیدہ کی برداشت کا نام ہے۔
٭ اپنی رائے پر مغرور ہونے والے انسان صحت ِ رائے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
٭ ماں کی گود سے قبر تک کا سفر ہے ، کتنا زادِ راہ چاہیے !!!
٭ مقامات صبر کو مقاماتِ شکر بنانا خوش نصیبوں کا کام ہے۔
٭ خوش قسمت ہے وہ جس کی نیند کسی خوف یا کسی شوق سے پریشان نہ ہو۔

موضوع کے اس بحرِ ذخار کو تھوڑے وقت اور مختصر مضمون میں سمیٹنا ممکن نہیں البتہ ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ادیب عبارت آرائی کے لیے فقرے وضع کرتا ہے، عمل کے لیے نہیں لیکن فقیر کا ہر فقرہ اس کے اپنے عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ تبھی اس پر عمل کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ حضرت واصفؒ نے فرمایا تھا کہ:

جو سنا تھا ، سنا دیا میں نے
یعنی سب کچھ بتا دیا میں نے
جس کو دیکھا گیا تھا صبح ازل
اس کا جلوہ دکھا دیا میں نے

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!