تشریح عنواناتِ کتب حضرت واصف علی واصفؒ

شب چراغ : شعری مجموعہ

شب چراغ ذو معنی اصطلا ح ہے: اس کے دو معنی یوںہیں۔ ( ۱) شب چراغ ….یعنی وہ شب جو چراغ بھی ہو۔(۲) شب چراغ…. یعنی وہ چراغ جو رات کو جلتاہے۔چراغوں بھری رات وہ رات ہوتی ہے ‘جس میں ستارے چراغ کی طرح چمکتے ہوں…. اور یہ اندھیری راتوں میں زیادہ روشن اور چمکدار نظر آتے ہیں۔ستارے ہمیشہ اندھیری راتوں میں مسافروں کو راستہ دکھانے کے لیے ہوتے ہیں ۔ رات اماوس کی ہو یا مایوسی کی ….ستارے رات کے اندھیرے کو بہر طور کم کر دیتے ہیں۔ستاروں سے راہنمائی لے کر مسافر اپنی منزلوں کی طرف رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ستارے وہ چراغ ہیں جنہیں مصابیح السّمٰواتکہاگیا ہے۔ امکانات کے آسمان میں ان مصابیح یعنی چراغوں کی روشنی دراصل امید کی روشنی ہے۔ یہ ناامیدی ‘ مایوسی اور قنوطیت کی تاریکی سے خوفزدہ مسافروں کو راستہ دکھانے کےلئے خضر ِ راہ کا کام دیتی ہے ۔ان روشن چراغوں سے روشنی ‘ہمت اور حوصلہ پاکر مسافر اپنا سفر جاری رکھتے ہیں اور منزل ِمراد کو پہنچ جاتے ہیں۔

ستارے ایک اورپہلو سے بھی مسافرکے سفر میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔عشق بھی ایک سفر ہے اور اس کا مسافر ایک نہ ختم ہونے والے سفر کیلئے عازم ِ اِرادہ ہوتاہے ۔ عاشق کا جدائی میں وقت کاٹنامشکل ہو جاتا ہے اور وہ محبوب کی یاد میں اکثر راتیں جاگ کر اور بے چینی میں گزارتا ہے۔ ایسے میں ستارے ہی اس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے اُس کے اِن لمحات کو ضائع ہونے سے بچا لیتے ہیں۔ وہ اپنے اس دلچسپ کھیل میں اتنا مگن ہو جاتا ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں رہتا۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جب اُس کی سوچ کو نیا رُخ ملتا ہے اور وہ اپنے علم اور تجربے کو صفحہ¿ قرطاس پر منتقل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یوںتخلیق کے نئے رُخ جنم لیتے ہیں اورتحریر میں نظم و نثر کے نئے نئے مضامین دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ رات کی خاموشی کی اپنی زبان ہوتی ہے جس سے صاحبانِ احساس بہت کام لیتے ہیں۔ وہ اپنے علم کو نئے نئے زاویوں سے ہمکنار کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایک عالم اور مفکر کے لیے ایسی رات ایک نعمت ہے۔ جس طرح مسافر اپنی منزل کی تلاش ایسی ہی رات میں کر لیتاہے اس طرح علم و عرفان کی راہ کا مسافر بھی ایسی رات میں علم و عرفان کی بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق یہی وہ معنی ہیں جس سے اس کتاب کا نام ”شب چراغ“ رکھا گیا ہے۔

۲۔ شب چراغ کا دوسرامطلب ہے رات کا چراغ…. اب یہ چراغ کسی فقیر کی کُٹیا کا چراغ بھی ہوسکتاہے….وہ چراغ جو اندھیری گلی میں رستہ دکھانے کے لیے نیک دل لوگ روزانہ جلا کر رکھ دیتے ہیں تاکہ آنے جانے والے لوگ ٹھوکریں کھانے سے بچ جائیں۔ فقیر کی درگاہ کا چراغ شوق اور یاد کاچراغ ہوتاہے…. اس سے استفادہ¿ِ نور کرکے راہ نوردانِ شوق اپنی منزل مقصود تک پہنچتے ہیں۔

ہوں چراغِ داغ بناہوا‘ سرِشام جلتاہوں شوق سے
مرے پاس آئیںگے وہ کبھی جنہیں اک سحر کی تلاش ہے

یہ روشنی ہے مانگی ہوئی آفتاب سے
ڈرتاہوںاسلئے میں شبِ ماہتاب سے
ذوق نظرملے تو تماشا ہے کائنات
ہر ذرّے میں چھپے ہیں کئی آفتاب سے
پہلے تُو اپنے آپ کو اِک آئینہ بنا
وہ خود نکل کے آئیں گے اپنے نقاب سے
گلہائے رنگ رنگ کا مسکن ہے یہ زمیں
نسبت ہے خاک کو بھی شہ¿ِ بوترابؑ سے
جس ذات پر نزولِ کلامِ مجید ہو
وہ ذات کم نہیں ہے مقدس کتاب سے

شمیم ملک

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!