اِسلام + فرقہ = صفر

” دل دریا سمندر “سے انتخاب

اگر کلامِ الہٰی یا قرآنِ کریم میں کسی لفظ کا اضافہ کر دیا جائے یا کسی لفظ کی تخفیف کر دی جائے، تو وہ قرآن نہیں رہے گا اور تحریف کرنے والا واجب القتل ہو گا۔قرآنِ کریم اللہ کا کلام ہے اور اتنا مکمل ہے کہ اس میں اللہ کے لفظ کا بھی اضافہ ممکن نہیں ۔ قرآن سے لفظِ شیطان نکالنا ممکن نہیں، بلکہ قرآن کی زبر ، زیر، پیش کو بدلنا ممکن نہیں۔ اس کی حفاظت اللہ کریم نے ایسے فرمائی ہوئی ہے کہ یہ مقدّس قرآن جیسا تھا ویسا ہی ہے اور ویسا ہی رہے گا۔ نہ بدلنا قرآن کا اعجاز ہے۔ اگر خدا نخواستہ یہ بدل جائے تو یہ قرآن نہیں ہو گا۔ قرآن کی ترتیب کا بدلنا بھی ممکن نہیں۔ قرآن اسی کتاب کا نام ہے۔ کسی اور کتاب کو کسی اور زبان کا قرآن کہنا ، قرآنِ مقدّس کی شان میں گستاخی ہے، گناہ ہے۔

اسی طرح اللہ کریم کے بارے میں جو علم ، تعلیم ،اطلاع ، خبر اور ارشاد حضورِ انور کی زبان سے عطا ہوا ، وہی اللہ کے بارے میں حرفِ آخر ہے۔ کسی اور مذہب کا کوئی اور بیان ، جو ماسوائے بیانِ پیغمبر ہو گا ، ہمارے لیے نہیں ہے۔ مثلاََ اللہ کو کسی ایسے اسم سے پکارنا جس کی سند حضورِ انور سے نہ ملی ہو ، مناسب نہیں۔ پیر کو اللہ اور اللہ کو پیر کہنا نامناسب ہے۔ اللہ کریم کی جو صفاتِ عالیہ حضور نے بیان فرما دی ہیں ، بس وہی صفات ہیں۔ جیسے اس زمانے میں ، ویسے ہی آج کے دور میں اور ویسے ہی ہمیشہ ہمیشہ۔

الَآنَ کَمَا کَانَ

اللہ کریم کو ہم نے دریافت نہیں کیا ، معلوم نہیں کیا۔ ہمیں حضورِ اقدس کی ذات نے فرمادیا ، ہم نے تسلیم کیا، ہم نے سنا اور مان لیا۔ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ اللہ ہمارے شہر میں کسی انسان کی شکل میں موجود ہے تو بغیر کسی لمحہ کے توقف کے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے ، بہتان ہے ، سرا سرغلط ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے اللہ سے کلام کیا اور اس سے کہا ہے کہ وہ لوگوں سے کہہ دے کہ عذاب آنے والا ہے ، تو یہ غلط ہو گا اور کہنے والا جھوٹی نبوت کا دعویدار، لائقِ تعزیر ہو گا۔اگر کوئی انسان یہ کہہ دے کہ وہ اللہ سے جو چاہے منوا سکتا ہے تو یہ بات غلط ہو گی ، ناممکن ہو گی۔ کُن فَیَکُون کی طاقت اللہ کی ہے۔ اللہ کے پاس انسان کا کہا ہوا اللہ کا کہا ہوا نہیں ہو سکتا۔ اِلّا یہ کہ وہ انسان ، انسان ِ کامل حضورِ اکرم کی ذاتِ گرامی ہو۔ وہ ذات جو بغیر وحی کے کلام نہ کرے اور یہ صفت کسی اُمّتی سے منسوب کرنا مناسب نہیں۔

اللہ اور صرف اللہ کو ماننے اور اس سے تعلق کا نام اسلام نہیں۔ حضور اکرم کے وسیلے کے بغیر تقربِ الہٰی کا تصور خارج از اسلام ہے۔ ہم پر اللہ کی اطاعت فرض ہے۔ اللہ کی عبادت ضروری ہے، لیکن تقربِ حق کا کوئی ایسا دعویٰ جو حضور انور کے فرمائے ہوئے میزان کے علاوہ ہو ، بہتان ہے اور اسے غلط ثابت کرنے کا تکلف بھی غیر ضروری ہے۔ اسی طرح اسلا م ایک مکمل اور محفوظ دین ہے ۔

اللہ اور صرف اللہ کو ماننے اور اس سے تعلق کا نام اسلام نہیں۔ حضور اکرم کے وسیلے کے بغیر تقربِ الہٰی کا تصور خارج از اسلام ہے۔ ہم پر اللہ کی اطاعت فرض ہے۔ اللہ کی عبادت ضروری ہے، لیکن تقربِ حق کا کوئی ایسا دعویٰ جو حضور انور کے فرمائے ہوئے میزان کے علاوہ ہو ، بہتان ہے اور اسے غلط ثابت کرنے کا تکلف بھی غیر ضروری ہے۔ اسی طرح اسلا م ایک مکمل اور محفوظ دین ہے ۔ اس کو تکمیل کی سند مالکِ حقیقی نے خود یہ کہہ کر فرمائی کہ ” اَلیَوم اَکمَلتُ لَکُم دِینُکُم“ جس دن ‘ جس گھڑی ‘ جس لمحے یہ دین مکمل کر دیا گیا ‘ اس کے بعد کے اضافے ‘ تخفیفیں‘ تحریفیں ‘ رنگ رنگ کی وضاحتیں ‘ انوکھی تشریحات اسلام پر احسان نہیں بلکہ اس کے برعکس اسلام کو اس کے بنیادی رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ میں پیش کرنے کی سعی¿ نا مناسب ہے۔اسلام کا اصل رنگ وہی ہے جو یومِ تکمیل کے وقت تھا۔ جس طرح ایک خواب ، خوابِ حسین ، خوابِ مبارک ، اپنی رنگا رنگ تعبیروں کی وجہ سے خوابِ مبہم بن کر رہ جاتا ہے، اسی طرح اسلام کی حقیقت وضاحتوں کے اضافی بوجھ میں دب کر رہ گئی ہے۔

اسلام کو عمل سے نکال کر علم میں داخل کرنے والے اسلام کے محسن نہیں ہیں …. مومن وہ ہے جس کو اعتمادِ شخصیتِ نبی حاصل ہواور جسے وابستگی ¿ نبی حاصل ہو۔ مومن وہ نہیں جسے بھائی مدد کو پکارے تو وہ اسے قرآن سنانا شروع کر دے۔ مومن وہ نہیں جو وعدہ پورا نہ کرے اور نماز پوری کرے۔

آج تک سورج کے منوّر ہونے کا ثبوت کسی نے پیش نہیں کیا۔ شاید اس لیے کہ سورج کا ثبوت دیکھنے والی آنکھ کے علاوہ ممکن نہیں اور دیکھنے والی آنکھ کو ثبوت درکار نہیں۔ اللہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا بھی اُتنا ہی گمراہ ہے جتنا اللہ سے انکار کرنے والا۔ اللہ ثابت کرنے سے ثابت نہیں ہوتا۔ اللہ کو ماننا ہے ، جاننا نہیں ہے۔ یہ تسلیم بغیر ایمان کے نہیں اور ایمان پیغمبر کی صداقت کو تسلیم کرنے کا نام ہے اور یہ تسلیم اطاعتِ شریعت محمدیﷺ ہے۔ اسلام تحقیق سے نہیں ، تسلیم سے حاصل ہوتا ہے۔

اسلام کو عمل سے نکال کر علم میں داخل کرنے والے اسلام کے محسن نہیں ہیں۔ اسلام پر کتابیں لکھنا اور کتابوں پر کتابیں لکھنا اور تبصرے کرنا اور تقریریں کرنا اسلام نہیں۔ ایک کافر اسلام پر یا حضور کی حیاتِ طیّبہ پر کتاب لکھ کر تو مومن نہیں ہو سکتا۔ مومن وہ ہے جس کو اعتمادِ شخصیتِ نبی حاصل ہواور جسے وابستگی ¿ نبی حاصل ہو۔ مومن وہ نہیں جسے بھائی مدد کو پکارے تو وہ اسے قرآن سنانا شروع کر دے۔ مومن وہ نہیں جو وعدہ پورا نہ کرے اور نماز پوری کرے۔ مومن وہ نہیں جو منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں میں انتشار پھیلائے۔فرقہ پرست ، حق پرست نہیں ہو سکتا ۔

اسلام مسلمانوں کی وحدتِ فکرو عمل کا نام ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ اسلام کے قریب رہے گی۔ وحدتِ ملت سے جدا ہونے والا فرقہ اسلام سے جدا ہو جاتا ہے۔

اسلام مسلمانوں کی وحدتِ فکرو عمل کا نام ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ اسلام کے قریب رہے گی۔ وحدتِ ملت سے جدا ہونے والا فرقہ اسلام سے جدا ہو جاتا ہے۔ شارحینِ اسلام کی طویل اور معکوس وضاحتوں نے فرقے تخلیق کیے ہیں۔ فقہاء، علماءاور فقراءکی نیّت پر شک نہیں۔ ان کا تدبّر درست ، ان کے ارشادات بجا ، لیکن مسلمانوں کی وحدت ، ان کی تعمیر و ترقی کے لیے اسلام کے اتنے فرقے کس حد تک موزوں رہے ، تاریخ شاہد ہے۔ اسلام کے شجر کو اتنے پیوند لگائے جا چکے ہیں کہ اس کااصل رنگ دب کر رہ گیا ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سب فرقے اپنے اپنے مقام پر صادق ہیں ، تو بھی فرقہ سازی کا عمل خوبصورت عمارت کو اینٹ اینٹ میں تقسیم کر دے گا اور اسلا م کا رُعبِ جمال ، جو باعثِ عروج و کمال تھا ، اضمحلال و زوال کا شکار ہو جائے گا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرقہ وحدتِ ملّت کی طرف سفر کرے اور ایک بار پھر وہی مقام حاصل ہو جائے جو اسلام کا حق ہے اور یہ حق برحق ہے۔بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں کئی لاکھ مساجد ہیںاور کئی لاکھ آئمہ مساجد۔ اس کے باوجود قوم کا عالم یہ ہے کہ معاشرے میں تمام برائیاں موجود ہیں۔ اسلام کا بیان بہت ہو چکا ، اب اسلامی عمل کا وقت ہے۔ اپنے سماج کی تطہیر اور اس کے بعد تطہیرِ نظامِ دنیا منصبِ اسلام ہے۔ آیئے ایک سرسری جائزہ لیں کہ ہمارے ہاں اسلام کے نام پر کیا کیا ہو رہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا برآمد ہو رہا ہے۔

مذہبی فرقے اور ان کے سربراہ ، دوسرے مذہبی فرقوں اور ان کے سربراہوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ مقامِ توحید اور مقامِ رسالت کے تحفّظ کے نام پر ایک گروہ دوسرے گروہ کا مخالف ہے۔ یا رسول اللہ کہنے یا نہ کہنے پر ابھی تک دلائل دیے جا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعتوں کے اندازِ فکر پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ تقریباََ ہر فرقے کے پاس دوسرے فرقے کے لیے فتویٰ ¿ کفر موجود ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کا ماضی سنا سنا کر ملّتِ اسلامیہ کو قصہ¿ ماضی بنایا جا رہا ہے۔ اسلام میں اتنا اسلام ملا دیا گیا ہے کہ اب نتیجہ صفر ہے۔ ہر فرقہ اسلام کے نام پر علیحدہ ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام وحدتِ ملت کا نام ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سب فرقے اپنے اپنے مقام پر صادق ہیں ‘ تو بھی فرقہ سازی کا عمل خوبصورت عمارت کو اینٹ اینٹ میں تقسیم کر دے گا اور اسلا م کا رُعبِ جمال‘جو باعثِ عروج و کمال تھا ‘ اضمحلال و زوال کا شکار ہو جائے گا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہر فرقہ وحدتِ ملّت کی طرف سفر کرے اور ایک بار پھر وہی مقام حاصل ہو جائے جو اسلام کا حق ہے…. اور یہ حق‘ برحق ہے۔

سیاسی اور سماجی تحریکیں اسلام کے نام پر قائم ہیں اور ان میں اتنا فرق ہے کہ اصل اسلام کا پتہ نہیں چلتا۔ ایک مسلمان ملک کا معاشرہ دوسرے مسلمان ملک کے معاشرے سے مختلف ہے۔ صحیح اسلامی معاشرہ کہیں قائم نہیں ہو سکا۔ اسلام ہر مسلمان کی ذمّہ داری ہے ، اس لیے سب کے غور کرنے والی بات ہے کہ ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان ملک کے خلاف جنگ‘ جہاد لڑ رہا ہے۔ مسلمان مسلمانوں سے لڑ رہے ہیں۔ اس لیے کہ ہر ایک کا اسلام مختلف ہے۔ اسلام میں اسلام کے نام پر بہت کچھ ملایا جا چکا ہے۔ اس کے برعکس افغانستان پر روسی حملہ کے باوجود کسی طرف بھی جہاد کی ضرورت کا احساس نہیں پیدا ہوا۔ اسلامی شعور مفقود ہوتا جا رہا ہے۔

اپنے ملک میں اسلام کے نفاذ کی کوشش کی جا ری ہے۔ چودہ سو سال بعدبھی مسلمانوں پر اسلام کا نفاذ ایک مسئلہ ہے۔ غور کرنا پڑے گا کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جن پر ابھی اسلام کا نفاذ ہونا ہے اور یہ کیسا اسلام ہے جو ابھی مسلمانوں پر نافذ ہونا ہے۔

تقریباََ ہر فرقے کے پاس دوسرے فرقے کے لیے فتویٰ ¿ کفر موجود ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کا ماضی سنا سنا کر ملّتِ اسلامیہ کو قصہ¿ ماضی بنایا جا رہا ہے۔ اسلام میں اتنا اسلام ملا دیا گیا ہے کہ اب نتیجہ صفر ہے۔ ہر فرقہ اسلام کے نام پر علیحدہ ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام وحدتِ ملت کا نام ہے۔

میلادِ مصطفےٰ کانفرنس کچھ اور تقاضا رکھتی ہے۔ تبلیغی جماعت کچھ اور انداز اختیار کرتی ہے۔ علماءکانفرنس ، مشائخ کانفرنس سے الگ ہوتی ہے۔ بریلوی ، دیوبندی الگ الگ انداز ہیں۔ یا رسول اللہ کانفرنس ، محمدرسول اللہ کانفرنس سے الگ ہوتی ہے۔ ایک اسلام میں کئی اسلام شامل ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ” حقیقت خرافات میں کھو گئی “

اسلام وحدتِ ملت کا پیغام لایا اور ہم اسلام کے نام پر تفریق کر رہے ہیں۔ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں میں وحدتِ عمل کی کمی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک تمام فرقے اور تمام شارحینِ اسلام اکٹھے نہیں ہوتے ، وحدتِ ملت کا تصور تک ممکن نہیں۔

قائدِ اعظم ؒ کے پیچھے چلنے والوں سے تو کسی نے کلمہ نہیں سنا تھا، کیوں؟ پاکستان کے لیے جان قربان کرنے والوں سے تو کسی نے نہ پوچھا کہ وہ کس طریقت کے لوگ ہیں۔ افسوس ہے کہ قرآن وہی ہے ، اللہ وہی ہے ، اللہ کے رسول وہی ہیں لیکن اسلام وہی نہیں۔ ہر آدمی اسلام کا دعویدار ہے اور ہر دوسرا آدمی بھی یہی دعویٰ رکھتا ہے، لیکن وہ آپس میںاکٹھے نہیں ہوتے ، کیوں؟ اسلام میں اسلام کے نام پر بہت کچھ شامل ہو گیا ، نتیجہ صفر ہے۔ آج اسلامی معاشرہ ، اسلامی معیشت ، اسلامی فقہ ، اسلامی اخوّت ، اسلامی وحدت ، اسلامی ثقافت سب کچھ بدل سے گئے ہیں۔ ہم حضور پُر نور کے دَور سے اتنے دُور آ گئے ہیں کہ ایک بار پھر وہیں سے شروع کرنا پڑے گا۔

کلمہ¿ توحید کو روحِ وحدت مان کر اسلام کا عمل شروع کرنا چاہیے ، ورنہ علم اور صرف علم اسلام سے بہت دور لے جائے گا۔ ایمان والے نفاق سے توبہ کر کے وحدت و محبت میں متحد ہو جائیں ، ورنہ کئی اسلام ، نتیجہ صفر دیں گے۔

اسلام وحدتِ ملت کا پیغام لایا اور ہم اسلام کے نام پر تفریق کر رہے ہیں۔ اسلام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں میں وحدتِ عمل کی کمی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک تمام فرقے اور تمام شارحینِ اسلام اکٹھے نہیں ہوتے ، وحدتِ ملت کا تصور تک ممکن نہیں۔

اسلام جب اللہ کا دین ہے تو اسے اللہ کی رضا حاصل ہونا چاہیے اور اللہ کی رضا ہی مسلمانوں کی سرفرازی کی ضامن ہے۔ آج کے مسلمانوں کی زبوں حالی اس لیے ہے کہ اسلام میں ملاوٹ ہو گئی ہے۔ آج کے فقہاءمسلمانوں کو ایک اسلام سے وابستہ کر کے انہیں پھر عروج کی منزل دکھائیں۔ ابھی وقت ہے ، فرقوں سے الگ ہو کر وحدتِ ملت کی طرف سفر کیا جائے ، ورنہ اگر وقت ہاتھ سے نکل گیا تو خدانخواستہ ہر مسجد ، مسجدِ قرطبہ بن کر رہ جائے گی، ماضی کی یادگار ، عظیم یادگار مسجدِ قرطبہ ، حال اور مستقبل سے محروم۔ ہم مسلمان ہیں۔ یہی ہمارا فرقہ ہے۔ یہی ہماری طریقت ہے اور یہی ہماری جمعیت۔ کلمہ¿ طیّب ہی کلمہ¿ توحید ہے۔ اسی بنیاد پر وحدتِ ملت کی عمارت استوار کی جا سکتی ہے۔ مسلمان متحد ہو جائیں تو نصرت اور کامیابی ان کا مقدّر ہو جائے، ورنہ اسلام میں فرقہ سازی اور فرقہ کا عمل ہمیں اسلام سے اتنا دُورلے جائے گا کہ ہم مسلمان کہلانے کے قابل ہی نہ رہیں گے۔

حضرت واصف علی واصفؒ


3 Comments on "اِسلام + فرقہ = صفر"

  1. sajjad aslam says:

    Wasif khayal darasal khayal-e-Nabi hai, jo insaan ke khayal aur haal ko badal sakta hai, iss khayal ko logon mein aam karna ek ibadat hai, iss ibadat ko jari rukhen.

  2. iqbal says:

    SubhanAllah.

  3. Naeem says:

    U r absolutely right very wonderful approach it is.

Got something to say? Go for it!