شمیم اخترملک
جو بے چراغ گھروں کو چراغ دیتا ہے
اسے کہو کہ میرے شہر کی طرف آئے
اسی کے نام سے آنکھوں میں چاند اترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے
یہ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مجھے بھائی جان کے متعلق کچھ لکھنے ‘ کچھ بتانے کے لیے بھی قلم اٹھانا پڑے گا، یعنی جس انسان نے مجھے قلم پکڑنا سکھایا ‘ آج اس کے پردہ کر جانے کے بعد مجھے اسی قلم سے اُس کے متعلق لکھنا پڑے گا۔ کچھ لوگوں کی اس تمنا کی بنا پر کہ بھائی جان کے متعلق زیادہ سے زیادہ جانیں ‘ اب مجھے اپنی یادداشت سے کام لینا ہے۔
یاداشت کے پہلے صفحے پر میں دیکھتی ہوں کہ بھائی جان نے جھنگ سے بیاے کر نے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا تھا۔ ابا جان نے کالج ہاسٹل میں سیٹ بھی دلوا دی تھی مگر گھر کے لاڈلے اور سب بہنوں کے پیارے بھائی ہوسٹل کی زندگی سے جلدہی اُکتا گئے۔ وہ گھر کی زندگی‘ پیار محبت اور سب سے اہم بات گھر کا کھانا کھانے کے عادی تھے ۔ چنانچہ یہ سوچا گیا کہ ہوسٹل سے کسی گھر میں شفٹ ہو جائیں۔
اسی زمانے میں ہمارے ماموں جان نے ایک تین منزلہ گھر اپنے ایک کزن کے نام سے الاٹ کروایا تھا۔ اس میں ہماری فیملی کے وہ لوگ جنہوں نے لاہور آ کر
تعلیم حاصل کرنا ہوتی یا نوکری کرنا ہوتی ‘وہ آ کر رہنے لگتے۔ چنانچہ سنت نگر کے اسی مکان کی درمیانی منزل میںابا جان نے بھائی جان واصفؒ کو شفٹ کروا دیا۔ اوپر کی منزل پر ہمارے ماموں کی فیملی بھی جھنگ سے شفٹ ہو گئی تھی۔مگر اب گھر پر کھانا کون بنائے اور کون کھلائے۔ چنانچہ اس پر گھر والوں کی سوچ بچار شروع ہو گئی۔ میںچار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ باقی سب بہنیں ہائی سکول کی آخری کلاس میں پڑھ رہی تھیں یعنی میٹرک کلاس میں پروموٹ ہوئی تھیں اور خوشاب ہی میں ہائی سکول میں پڑھتی تھیں۔ تینوں بہنیں ایک ہی کلاس میں اکٹھی کیسے آ گئیں ؟ وہ اس طرح کہ سکول میں اُسی سال میٹرک کی کلاس شروع ہوئی تھی۔ اس سے پہلے وہ مڈل سکول تھا۔ مگر میرے ابا جان اور آپا جان کی کوشش سے گورنمنٹ نے اسے ہائی سکول کا درجہ دے دیا۔ اور اس طرح سے ہماری آپا ہی نے اپنی تمام کلاس فیلوز کو جو مڈل پاس کر کے گھر میں فارغ بیٹھی تھیں ان سب کو گھر گھر جا کر اکٹھا کیا۔ اس طرح سے تین چار گھروں سے دو دو بہنیں اکٹھی نویں کلاس میں داخل ہو گئیں۔
ابا جان اپنی سروس کیلئے دوسرے شہر میں رہتے تھے۔ کبھی عیسیٰ خیل کبھی داﺅد خیل یا شاہ پور ہائی سکول۔ ان سب جگہوں پر ابا جان ڈرائینگ ٹیچر کی حیثیت سے تعینات رہے۔ این سی اے لاہورسے فارغ التحصیل تھے۔ خوشاب ہائی سکول فار بوائز میں بھی دس بارہ سال سروس کی۔ اُن کے ہاتھ کے بنائے ہوئے نقشے بورڈ پر کافی عرصہ قائم رہے۔ بہت عالم فاضل اور قرآنِ پاک کا درس دینے والے تھے۔ دادا جان بھی حافظِ قرآن تھے اور اللہ سے لو لگانے والے انسان تھے۔ ہمارے نانا جان حافظِ قرآن ‘ شاعر اور ادیب تھے ۔ ایسی پارسااور نابغہ ہستیوں کی سرپرستی میں میرے بھائی واصف علی واصف کی پرورش ہوئی۔ بہرحال جب لاہور میں بھائی جان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا تو قرعہ فال میرے نام نکلا کہ سب سے چھوٹی بہن لاہور جا ئے گی اور بھائی کے لیے کھانا وغیرہ بنایاکرے گی ۔ اوپر کی منزل پر ممانی جان اور ان کے بچے رہتے تھے جن کی وجہ سے مجھے تنہائی کا احساس نہ رہا۔ چنانچہ ہم دونوں بہن بھائی درمیانی منزل میں رہنے لگے۔ کھانا میں خود ممانی جان سے پوچھ کر بنا لیتی تھی۔ ساتھ ہی قرآنِ پاک بھی پڑھتی رہتی تھی مگر سکول کی پڑھائی رُک سی گئی تھی۔ ابا جان ہر خط میں مجھے اور بھائی جان کو پڑھائی پر توجہ دینے کے لیے لکھتے رہتے تھے۔ چنانچہ بھائی جان میرے لیے کتابیں اور رسالے بھی پڑھنے کے لیے لے آتے۔ ساتھ ہی مجھے پڑھاتے بھی رہے۔ بس دو دن میں حساب کی کتاب ختم کر لیتی تھی۔ انگلش میں مضمون لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ساتھ ہی اگلی کلاس میں سکول میں داخل بھی ہو گئی ۔ تقریباََ ایک سال کے بعد باقی تینوں بہنیں بھی لاہور آ گئیں۔ امی جان گھر پر ہی رہیں کیونکہ گھر بہت بڑا تھا۔ پوری فیملی کا انتظام وہیں پر تھا۔ پھر ابا جان کی سروس بھی تھی۔ اس لیے وہ لاہور میں ہمارے ساتھ اس وقت نہ آ سکیں۔ البتہ ابا جان اکثر آ کر حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔اس طرح بھائی جان کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ میری پڑھائی اور تربیت بھی ہوتی رہتی۔ بڑی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور میں اور بھائی جان پھر ویسے ہی اکیلے۔چھوٹے دونوں بھائی اب پڑھائی مکمل کرنے والے تھے۔ بھائی جان نے مقابلہ کا امتحان پاس کر لیا تھا مگر سروس جوائن کرنے کے لیے راضی نہ ہوئے۔ میرٹ لسٹ پر آنے کے باوجود نوکری کرنے کے لیے طبیعت مائل نہ ہوئی ۔ ہمارے دریش منش بھائی نے درس و تدریس کے شعبے کو افسری پر ترجیح دی ۔ چنانچہ انہوں نے اپنا کالج بنا لیا اور لوگوں کو تعلیم دینی شروع کر دی۔
نابھہ روڈ پر لاہور انگلش کالج کے نام سے اپنا سنٹر بنا کر وہ جیسے مطمئن سے ہو گئے۔ یہ پرائیویٹ کالج پنجاب یونیورسٹی سے منظور شدہ تھا ۔ہم تینوں
چھوٹے بہن بھائی
بھی اُن کی اس کوشش میں ساتھ نبھانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ اس طرح سے نہایت سکون اور اطمینان سے وہ اپنے کام میں مصروف رہنے لگے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے ڈسپلن اور لیکچر کا خیال رکھا۔ اکثر لوگوں کا داخلہ فیس خود ہی جمع کروا دیتے تھے۔ اُن کی کلاس میں پڑھنے والے اکثر لوگ سروس کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو بہت حوصلہ افزائی کر کے اُن کی مالی امداد بھی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایمانداری سے ہٹ کر اگر کسی شخص کوکوئی کام کرتے دیکھا تو برداشت نہیں ہوتا تھا۔ جو شخص جس حال میں اور جس وقت بھی ملنے آیا انہوں نے انکار نہیں کیا۔ ان سے جو ایک دفعہ ملاقات کر لیتا تھا وہ پھر اسی در کا ہو کے رہ جاتا۔ ہم تو خیر اُن کے بہن بھائی تھے‘ دوسرے لوگ بھی Yes Man ہوا کرتے تھے۔ انکار تو انہوںنے کبھی کسی سے سنا ہی نہیں۔ میں اکثر کہا کرتی ‘ بھائی جان ! آپ کتنے خوش قسمت ہیں‘ آپ کو کبھی کسی نے ”نہ “نہیں کی۔
کلاس لیتے ہوئے جب Poetryکی باری آتی اور خاص طور پر Wordsworth, Keats, Shelleyکی کلاس جب لیتے اور تشریح کرتے تو لوگوں پر وجد طاری ہو جاتا تھا۔وہ کیا چیزتھی کہ لوگ اُنہی کے ہو کر رہ جاتے ۔ سوچنے والی بات ہے، مگر انہوں نے کبھی اپنی اس طاقت کا اظہار نہیں کیا۔ پاکیزہ طبیعت اور پاکیزہ نفس لوگوں میں‘ لگتا ہے یہ طاقت خود ہی آجاتی ہے۔
لکھنا لکھانا تو شروع ہی سے ان کی گھُٹی میں پڑاتھا۔ بیاے کے کلاس نوٹس اکثر خود لکھ کر سائیکلوسٹائل کروا کر دیتے تھے۔ اکثر Poems کی تشریح کر کے اس کی کاپیاں کلاس میں تقسیم کرتے تھے تاکہ لوگ آسانی سے تشریح یاد کر لیں۔ یہ تو تھا کالج کی کلاس کا حصہ اور دن کا وہ حصہ جو وہ کلاس پر صرف کرتے تھے۔ اب کلاس کے بعد کیا ہوتا تھا وہ بھی اک عجب کہانی ہے۔ رات آٹھ بجے کے بعد اللہ والے لوگوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا جو رات کو دس گیارہ بجے تک رہتا تھا۔ اس میں چائے باقاعدہ چلتی رہتی تھی۔کوئی فنڈ نہیں تھا جس میں سے یہ پیسہ لیا جاتا۔ سب اپنی جیب سے دیتے تھے۔ جتنی ضرورت ہوتی وہ ادا کر دیتے۔ کبھی جمع تفریق میں نہیں پڑتے تھے۔ کہیں پر پتہ چل جائے کہ ہم نے کوئی چیز یا کپڑا سنبھال کر کسی اور موقع کے لیے رکھ چھوڑا ہے‘ فوراََ نکلوا کر ہم بہنوں کو استعمال کروا دیتے۔ ایسا بیٹا کبھی کسی نے نہیں دیکھا جو ماں باپ کو جمع کرنے کے لیے اور گھریلو ضروریات کے لیے پس انداز کرنے کو نہ کہے۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا۔ یعنی لالچ طبیعت میں نام کو نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ پر بھروسہ مضبوط ہو جائے جو ہر دن اور ہر رات کے رزق کا ذمہ دار ہے۔ ابا جان نے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ سروس جوائن کرنا چاہی تو بھائی جان نے اصرار کیاکہ آپ نوکری نہیںکریں گے ۔ گھر میں ایک آمدنی کی ضرورت ہے‘ آپ سوچ لیں کہ کس کی آمدنی آنی چاہیے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ابا جان ریٹائر ہونے کے بعد بھی کام کریں۔ انہیں آرام پہنچانا ضروری سمجھتے تھے۔ یہ معاملہ کافی دن رہا مگر انہوں نے اپنی منوائی اور ابا جان نے دوبارہ ٹیوشن بھی نہیں پڑھائی‘صرف گھر میں ذمہ داری ادا کی جیساکہ بھائی جان چاہتے تھے کہ ابا جان گھر سنبھالیں اور وہ بے فکر ہو کراپنا کام کرتے جائیں۔ ان کے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور ابا جان کی تائید ضرور شاملِ حال رہی۔ ہم بہن بھائیوں کی تربیت کا ذمہ اسی وجہ سے ابا جان نے بھائی جان کو دیا کیونکہ وہ ہمیں بھی کامیاب بنانا چاہتے تھے ۔
بھائی جان قبلہ ؒ کی روحانی حوالے سے مصروفیات بڑھتی گئیں اور کالج کی طرف توجہ کم ہوتی گئی ۔ چنانچہ بلڈنگ مالک مکان کوواپس کر دی۔ سب لوگوں نے سمجھایا کہ اتنی قیمتی جگہ واپس کر رہے ہیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور شکریہ ادا کر کے اپنا سامان لے کر گلشن راوی اپنے گھر میں شفٹ ہو گئے۔
کالج کی ذمہ داری سے فارغ ہونے کے بعد گھر میں ملاقات کا سلسلہ جاری رہا اورپوری توجہ سے لکھنے لکھانے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب محفلوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوگیا ۔ کالج ختم ہونے کے بعد انہوں نے گھر کا بڑا کمرہ جو کہ قوالی اور محفل کے لیے ہی بنوایا گیا تھا‘ محافل کیلئے وقف کر دیا۔ ہمارے خاندان کی ریت چلی آتی ہے کہ خوشی اور شادی بیاہ کے موقع پر گھر میں قوالی ضرور کروائی جاتی ہے۔ چنانچہ کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی گھر بنے اس میں ایک بڑا ہال ضرور بنایا جائے، جہاں پر قوالی کی محفل ہو سکے۔ بھائی جان نے اسی بڑے کمرہ میں جمعرات کو محفل شروع کر دی۔ یہاں لوگ جوق در جوق آنے لگے۔ نیکی کے متلاشی اورحق کی پیاس رکھنے والے اس محفل میں شامل ہو کر اپنی پیاس بجھانے لگے۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو ایک مرکز مہیا ہو گیا جہاں آ کر وہ اپنی پریشانیوں کو بھول جائیں۔
ہم لوگ تو اکثر ہی بھائی جان کے پاس آتے رہتے تھے مگر انہوں نے اپنے لکھنے لکھانے میں کسی کی مدد نہیں چاہی۔ نہ کاغذات ترتیب دینے میں اور نہ کسی اور کام میں ۔ خود ہی لکھتے چلے جاتے اور خود ہی کچھ دوستوں کی مدد سے کتاب کی صورت میں چھپوائی تک بات پہنچ جاتی۔ البتہ کتاب کا ٹائٹل ضرور لا کر دکھاتے اور پوچھتے بھی تھے ۔ امی جان بھی ماشاءاللہ ادبی ذوق سے آراستہ تھیں اور پڑھنے لکھنے کی دلدادہ تھیں۔ وہ دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھیں۔ پہلی جلد امی جان کے نام ہی ہوتی تھی۔ شروع شروع میں یہ کتابیں خوشی خوشی اپنے دوستوں اور جان پہچان کے لوگوں اور رشتہ داروں کو تحفتًااِرسال کرتے تھے۔ اس بات کے لوگ اس قدر عادی ہو چکے تھے کہ وہ بعد میں بھی اس امید پر کتاب نہیں خریدتے تھے کہ ہمیں تحفتاًَ آئے گی۔
جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ محفلِ سماع ہمارے خاندان کی روایت چلی
آتی ہے کہ ہر خوشی و شادی بیاہ یا منت اور کامیابی پر ہم لوگ قوالی ضرور کرواتے ہیں اور وہ بھی اپنے آبائی گھروں میں۔ وہاں قوال لوگ بھی اسی جذبے کے تحت کلام پڑھتے جس سے وجد کا سماں بندھ جاتا ۔ لوگوں کو اس محفل کے حاضرین کے لیے دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔ تمام لوگ خود ہی عشاءکی نماز کے بعد جمع ہونا شروع ہو جاتے ۔ چائے کی ڈیوٹی ہم تمام ہم عمر لڑکیوں کی ہوتی تھی جو کہ بڑی خوشی اور ادب کے ساتھ چائے بنا کر اپنے بھائیوں کے ہاتھ محفل میں بھجوا دیتیں۔ ساتھ میں وہاں کی روایتی مٹھائی اور جلیبیاں بھی ضرور ہوتی تھیں۔ قوالی میں چائے کا وقفہ ہو جاتا اور پھر نئے سرے سے اذانِ فجر تک محفل جاری رہتی۔ ایسی قوالی کی محفلوں کو سجانا ‘ لوگوں کو گھر پر بٹھانا اور ان کے لیے جگہ کا اور چائے کا انتظام سب نوجوانوں کے ذمہ ہوتا تھا۔ چنانچہ بھائی جان بھی اپنے تمام ہم عمر لڑکوں کے ساتھ ایسی قوالی کی محفل میں حاضر رہتے اور سر دھنتے تھے۔ بڑے بزرگوں کی طرح بچوں پر بھی درود شریف کے سننے سے اثر ہوتا تھا۔ بعض دفعہ تو روتے روتے بے حال ہو جاتے اور حضور پاککی حاضری کا تصور پختہ تر ہو جاتا۔ اسی کیفیت کو سب محسوس کرتے تھے۔ قرآنِ پاک کا درس بھی باقاعدہ گھر پر ہوتا تھا۔ دادا جان حافظِ قرآن تھے اور لوگ جوق در جوق آ کر اُن سے قرآنِ پاک پڑھتے اور حفظ کرنے کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ جو جس کے نصیب میں ہوتا وہ ضرور پا کر جاتا۔ دادا جان کو بھی اللہ تعالیٰ نے خوب نوازا تھا اوروہ اپنے وقت کے ولی مانے جاتے ہیں۔ اُن کا چہرہ کبھی کسی نے صاف طور سے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ سر پر چادر کو اپنے چہرہ تک رکھتے تھے۔ بھائی جان قبلہ واصف صاحبؒ اپنے نیک سیرت دادا کی دعا اور پیش گوئی کا حاصل تھے۔ دادا جان نے ان کا نام” محمد واصف‘ ‘ ان کی پیدایش سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ لڑکا ہو گا …. محمد واصف آئے گا۔ چنانچہ دوسرا نام سوچنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ ساتویں دن جب ان کاعقیقہ کیا گیااور اسی دن دادا جان حافظ ملک محمد اشرف رات کو نماز کے سجدہ میں ہی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ اس وقت کسے معلوم تھا کہ جس بچے کی پیدائش پر اتنی خوشی منائی گئی تھی۔ وہ بھی آگے چل کر باپ دادا اور پردادا کے نقشِ قدم پر چل نکلے گا۔ بھائی جان ہم سب بہن بھائیوں کو خصوصاََ اور باقی تمام خاندان کے لوگوں کو اکثر درس دیا کرتے تھے۔ ان کی یہ تلقین ہوتی تھی کہ ماں باپ کا ادب افضل ہے۔ اس کے بعد ”لوگوں کو معاف کرو اور در گذر کرو“ کی تلقین کرنا بھی نہیں بھولتے تھے۔ میں اکثر پوچھتی تھی کہ اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کو کیسے معاف کیا جائے۔ مگر وہ ہمیشہ فرماتے کہ یہی تو مشکل کام ہے جسے آپ نے کرنا ہے۔ بھائی جان تو جیسے وقت کے ساتھ ساتھ پوری طرح بدل کرہی رہ گئے۔ نہ کسی سے ناراضگی ‘ نہ غصہ۔ یہ بات ان سے ملنے والے ہر شخص کو معلوم تھی کہ سر غصہ کریں بھی تو ناراض نہیں رہتے۔
ایک بات واضح کر دوں کہ اگرچہ دادا جان نے نام ”محمد واصف“ رکھا ہوا تھا مگر یہ نام بھی تبدیل ہوگیا ۔ اس کی کہانی بھی عجیب ہے …. بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔ یہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا۔ وہ ایسے کہ پیر صاحب دیول شریف عبدالحمید صاحب جوکہ اِن کے پیر تھے ‘ انہوں نے ہی واصف صاحبؒ کو لاہور میں اپنا خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے جب آپ پیر صاحب دیول شریف کے پاس راولپنڈی جایا کرتے تھے۔جب ایک دفعہ پیر صاحب دیول شریف لاہور تشریف لائے اور ایک محفل جامع نعیمیہ میں ہوئی۔ اس محفل میںبھائی جان نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں ایک منقبت پڑھ کر سنائی جس پر خوش ہو کر پیر صاحب نے فرمایا کہ آج سے آپ کا نام ”واصف علی “ ہے۔ ایک بزرگ نے نام رکھا‘ دوسرے نے پیار سے نام کے ساتھ کچھ اضافہ کر کے واصف علی واصف رکھ دیا۔جس کے دو حصے سمجھے جائیں یعنی (واصف کا علی
اور علی کاواصف)۔ گھر آ کر جب اباجان کو بھائی جان نے بتایا تو ابا جان فوراََ ہی کہنے لگے ” بہت اچھا‘بہت خوب“ اس طرح سے نام کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ گئیں۔
بھائی جان قبلہ کی علمی اور روحانی سرگرمیاں بڑھتی چلی گئیں اور اس دوران ان کی صحت گرتی چلی گئی ۔ہم بہن بھائیوں کو اس بات کا علم نہ ہو سکا کہ وہ اس قدر بیماری میں گھِر گئے ہیں۔ جب بھی ہم لوگوں نے طبیعت کی بابت دریافت کرناچاہا ‘ انہوں نے یہی کہا کہ ٹھیک ہوں۔ ایک دن جلدی میں خود ہی سب کو ٹیلی فون کر ڈالے کہ تم لوگ آ جاﺅ میں ملنا چاہتا ہوں۔ یہاں پر آکر دیکھا تو دنیا ہی بدل رہی تھی۔جب بیماری میں ان کی صورت کو دیکھا تو عجیب کیفیت ہو گئی مگر اللہ پر بھروسہ کیے بیٹھے رہے کہ شاید ٹھیک ہو جائیں۔ آخر کار علاج کے لیے کراچی سے لندن روانہ ہونا پڑا۔ مجھے بھی ان کے ساتھ ہی جانا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا۔ ہم لوگ ان کو کراچی ائر پورٹ پرجہاز تک سوار کروا کر آئے۔ کچھ نہ پوچھیں کہ کیا حالت تھی۔ پورا ایک ماہ وہاں پر علاج ہوتا رہا اور یہ تمام وقت میں نے کراچی گھر میں ہی رہ کر گزارا کہ شاید بھائی جان ٹھیک ہو کر آ جائیں۔ رات دن ٹیلیفون پر خیریت دریافت کرتی۔ آخر دسمبر کا مہینہ ختم ہو گیا ۔جنوری میں سروس حاضری کے لیے مجھے کالج واپس جانا پڑا۔
بھائی جان ۶۱‘ جنوری کو لندن سے براستہ کراچی لاہورواپس پہنچ گئے۔بہت لوگ لینے آئے ہوئے تھے۔ باقی سب بہن بھائی بھی تھے۔ مگر میں ابھی نہیں پہنچی تھی ۔ ایک دن اوررات گزارنے کے بعد دوبارہ شیخ زید ہسپتال لے جانا پڑا‘اوروہیں پر اللہ تعالیٰ کا بلاوا آ پہنچا۔ اس سے پہلے رات کو مجھ سے ٹیلیفون پر بات ہوئی۔ وہی ہمیشہ کی طرح امید افزاءآواز ،اور دعوت کہ ”آجاﺅ“ ….میں لاہور پہنچ گئی ، مگر وہ آواز خاموش ہوچکی تھی ۔


(واصف کا علی
اور علی کاواصف)
SubhanAllah