حضرت واصف علی واصف [رح] کے خطوط پر مبنی کتاب
گمنام ادیب” سے ڈاکٹرسیّد اعجاز علی شاہ کاحُسنِ انتخاب”
را زِ ہستی دعا کروکہ ہم کم از کم اپنی زندگی پر تو راضی رہیں۔بس! جو اپنی زندگی پر راضی ہو گیا وہی اللہ پر راضی ہو گیا اور جو اللہ پر راضی ہو ا‘ اللہ اس پر راضی ہو ا۔ جس اِنسان پر انسان راضی ہو گئے وہ رضائے الٰہی پا گیا۔جو انسانوں سے راضی رہا ‘ وہ رازِ ہستی پا گیا….یہی راز ہے۔
[page- 94]
نسخہ کیمیا ا نسان ‘انسان کی خدمت کے لئے ہی تو بنا ہے….
عبادت خدا کی….محبت محبوبِ خداکی….خدمت انسان کی….اور عاقبت اپنی…..یہی نسخہ کیمیا ہے۔
[page -10]
پسند…. ناپسند ذراغور سے دیکھا جائے تو کوئی خوشی ایسی نہیں جو غم نہ بنے۔کوئی وصال ایسا نہیں جو فراق نہ بنے۔کوئی حال ایسا نہیں جو ماضی نہ بنا ہو۔کوئی پسند ایسی نہیں جو چھن نہ جائے۔غرض کہ کوئی وجود ایسا نہیں جو غیر موجود نہ ہو جائے۔ہر ہست….بود بلکہ نا بود ہو جاتا ہے۔اپنے حال کو‘اپنے آپ کو اور اپنے اللہ کو بس دیکھتے جائیں۔اگر وہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں تو ہم اس کی مرضی کے مطابق ہو جاتے ہیں۔ جو اسے پسند….ہمیں پسند‘ جو اسے نا پسند….ہمیں نا پسند…
[page-135]
تلاش اورمنزل جو تلاش کرے گا پا لے گا۔یعنی دروازہ کھٹکھٹا و….ضرور ملے گا۔
مایوس نہ ہونا۔اللہ کریم نے انسانوں کو‘ اپنے جاننے والوں کو‘ اپنے چاہنے والوں کو‘ اپنے ماننے والوں کو بڑی آسانیوں کا وعدہ فرما یا ہے۔صرف ایک شرط پر کہ متلاشی‘ تلاش نہ چھوڑے، منزل حاصل ہو کر رہے گی۔
[page-239]

