سعدی اور واصف

بیان ِسعدی رحمتہ اللہ علیہ
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس کی محبت کے متوالوں کا عجب حال ہے۔خواہ انہیں زخم لگے خواہ مرہم ملے ‘ یہ وہ فقیر ہیں جو بادشاہی سے نفرت کرتے ہیں۔اس کی تمنا میں فقیری میں بھی صبر کرتے ہیں وہ مسلسل غم کی شراب پیتے ہیں۔زمانے کی تلخیاں دیکھتے ہیں پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔شراب کے سرور میں خمار کی بلا شامل ہے پھول کے بادشاہ کے ساتھ مسلح کانٹا بھی ہے۔
اس کی یاد میں صبر تلخ نہیں ہوتا کیونکہ دوست کے ہاتھ سے تلخی بھی شکر ہوتی ہے۔یاد کے مستانے ملامت برداشت کرتے ہیں۔مست اونٹ بوجھ اٹھا کر تیزی سے چلتا ہے۔اس کا قیدی اس کی قید سے رہائی نہیں چاہتا۔اس کا شکار کمند سے خلاصی نہیں چاہتا۔گاوں کے فقیر عزلت کے بادشاہ ہیں ‘راستہ بھولے ہو ئے کے لئے منازل کی نشاندہی کرتے ہیں ۔لوگ ان کے حال سے کیسے آگاہ ہو سکتے ہیں۔وہ تو آبِ حیات کی طرح ظلمات کے اندر ہیں۔
وہ بیت المقدس کی طرح ہیں جو قبوں سے آراستہ ہے لیکن بیرونی دیوار خستہ و خراب ہے ۔وہ پروانے کی طرح اپنے آپ کو آگ لگا تے ہیں‘ریشم کے کیڑے کی طرح اپنے اوپر ہی تانا بانا نہیں بُنتے۔محبوب اُن کی آغوش میں ہے پھر بھی محبوب کی تلاش میں ہیں۔ گویا ندی کے کنارے پیاس سے خشک لب پڑے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ پانی پر انہیں تصرف حاصل نہیں بلکہ وہ دریائے نیل پر پانی کے پیاسے ہیں۔اپنے جیسے خاک و آب سے بنے ہوئے شخص کے ساتھ عشق تجھے صبر اور راحت ِدل سے محروم کرتاہے۔
بیداری میں تجھے اس کے رخسار و خال میں فتنے نظرآتے ہیں اور خواب میں بھی تو اس کے خیال میں کھویا ہو اہے۔تو اس کی سچی محبت میں اس کے قدموں پراس طرح سر رکھ دیتا ہے کہ اس کے وجود کے ساتھ دنیا تمہیں معدوم نظر آتی ہے ۔جب تیرے محبوب کی نگاہ میں زر کی کوئی وقعت نہیں تو تجھے بھی سونا اور مٹی یکساں نظر آتے ہیں ۔پھر تو کسی اور کے ساتھ گفتگو کا روادار نہیں کیونکہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کے لئے گنجائش نہیں ۔تو کہتا ہے کہ اس کی منزل آنکھوں میں ہے اگر تو آنکھیں بند کرے تو وہ دل میں ہے۔

اَقوالِ واصف رحمتہ اللہ علیہ
محبت ‘ آرزوئے قربِ حسن کی تمنا کا نام ہے اور حُسن ‘ عشق کا حسنِ خیال ہے۔ *
محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی‘ یہ عطا ہے‘ یہ نصیب کی بات ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے۔ *
محبوب کی جفا کبھی کسی محب کو ترکِ وفا پرمجبور نہیں کرتی۔در اصل وفا ہوتی ہی بے وفا کے لیے ہے۔ *
مقاماتِ صبر کو مقاماتِ شکر بناناخوش نصیبوںکا کام ہے۔ *
دنیا دار جس مقام پر بیزار ہوتا ہے ‘ مومن اس مقام پر صبر کرتا ہے…. اور مومن جس مقام پر صبر کرتا ہے‘ مقرب اس مقام پر شکر کرتاہے‘ کیونکہ یہی مقام * وصالِ حق کا مقام ہے۔
بادشاہوں نے بادشاہی چھوڑ کر درویشی تو قبول کی ہے‘ لیکن کسی درویش نے درویشی چھوڑ کر بادشاہی قبول نہیں کی ۔ *
جب آنکھ دل بن جائے تو دل آنکھ بن جاتاہے۔ *

( مرتبّہ : محمد حمیرانور …. اَز بوستانِ سعدی رحمتہ اللہ علیہ ،
مترجم : ظہور الدین احمد بشکریہ : پیکجز لمیٹڈ)

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!