حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ صرف ایک نام نہیں بلکہ امید‘ آسرا‘ سہارا اور حوصلہ ہیں‘ ان لوگوں کے لئے بالخصوص جو شکستہ دل ہیں اور حالات کی گرفت میںہیں۔ آپ کا خیال حالات سے پریشان ہونے والوں کے خیالات بدل کر اُن کو سکون میں داخل کر دیتاہے۔ جو لوگ غربت کے باعث کفر تک پہنچ چکے ہوتے ہیں ‘ یہ خیال اُن کو ایسے مطمئن کر دیتاہے کہ وہ اپنے فقر پر فخر کرنے لگتے ہیں ۔ زندگی پر تنقید کرنے والے سراپا محبت بن جاتے ہیں ….یعنی وہ اپنے نصیب پر ایسے خوش ہوجاتے ہیں کہ خوش نصیب ہوجاتے ہیں ۔سکون والے کے ساتھ تعلق ہی سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔جو بھی سکون والے کے ساتھ وابستہ ہے وہ بے سکون نہیں ہو سکتا ۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور رحمت ا لّلعالمین کی صورت میں ہوا اور رحمت ا لّلعالمین کی رحمت بصورت ِ ولایت تا قیامت جاری و ساری ہے۔ ہمارے دور میں حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ ایسے ولی کامل ہیں ‘ جن کے قال اور حال سے اس رحمت کی تشریح ہوئی ۔حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات سکون اور رحمت کے ساتھ متعلق کر دیتی ہیں ، رب کی رحمت پر یقین میسر آجاتا ہے اور سکون انسان کے قریب کر دیا جاتا ہے۔
قرآنِ مجید کی آیت “جب تک آپ ان میں موجود ہیں‘ میں ان پر عذاب کیسے بھیج سکتا ہوں” کی تشریح میں آپ نے فرمایا
جس دل میں حضور صل اللہ علیھ وسلم کی یاد ہے وہ قرار میں ہے اور جائے قرار بہشت کے علاوہ کیا ہے؟ رسول اللہ صل اللہ علیھ وسلم کے ساتھ تعلق استوار کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ درود ہے۔آپ درودِ تاج سے بے پناہ رغبت کی وجہ سے اس کو پڑھنے کی تلقین فرماتے۔
آپ سے سوال کیا گیا : ”ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہے؟“ جواب میں آپ نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ تم سے اتنا ہی راضی ہے جتنا تم اللہ سے راضی ہو۔اللہ پر راضی وہ انسان ہوتا ہے جس نے اللہ سے اور کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں مانگنا۔اللہ جس پر راضی ہوتا ہے اس کو اپنے اوپر راضی کر لیتا ہے‘ ‘۔پس آپ نے انسان کو راضی رہنا سکھا دیا۔راضی رہنے والا سکون سے آشنائی اور شناسائی رکھتا ہے۔آپ نے چند الفاظ میں سکون‘ تسلیم‘رضا اور بندگی کے درمیان ربط واضح کر دیا اور کس قدر آسان پیرائے میں عرفان کے رموز کی گرہ کشائی کر دی۔
خواہشات کے پیچھے چلنے والے سکون سے محروم رہتے ہیں۔آپ نے فرمایا ”تمنا سکون سے محرومی کا نام ہے‘ اگر خواہش حاصل نہ ہو تو بھی بے چینی اور اگر حاصل ہو جائے تو اس نے لاحاصل ہو نا ہوتا ہے ‘تب بھی بے چینی“۔ آپ نے خواہشات سے بچنے کی تلقین فرماتے ہوئے واضح کیا کہ ” جو خواہشات نہیں رکھتا‘ وہ اضطراب نہیں رکھتا‘ جو اضطراب نہیں رکھتا وہ سکون ضرور رکھتا ہے“
آپ نے اِس دنیا اور اُس دنیا کا فرق مٹا دیا۔آپ نے اِس دنیا سے دل کو بیزار کر کے اُس دنیا کے لیے بیدار کر دیا‘ فانی کو باقی کے راستے پر گامزن کر دیا۔باقی کے راستے پر چلنے والے حال کے صاحبِ حال ہوتے ہیںاور حال میں رہنے والے سکون والے ہوتے ہیں۔
آپ نے فرمایا ”میں جس سے بھی ملااس کی زندگی کا حِصہ بن گیا“ …. سچ پوچھیں تو میںیہ کہوں گا کہ آپ جس سے بھی ملے اس کی زندگی بن گئے ….اوریہاں تک کہ :
یہی ہے زندگی اپنی ‘ یہی ہے بندگی اپنی
کہ ان کا نام آیا‘ اورگردن جھک گئی اپنی
byمحمد علی

