حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی ہمشیرہ محترمہ کی رخصتی کے موقع پر کہ۷۷۹ءمیں کہے
ہم پردیسی اس آنگن میں
دیس ہمارا دُور…. بابل یہ کیسا دستور
چھوڑ کے تیری نگری کو ہم
جانے پر مجبور…. بابل یہ کیسا دستور
کوئی نہ جائے ساتھ ہمارے
ہم تنہا پنچھی بیچارے
اُڑنے پر مجبور…. بابل یہ کیسا دستور
بھائی بہناں راضی رہنا
ہم نے پہنا ہجر کاگہنا
بند زباں سے اب کیا کہنا
دل ہے چکناچور…. بابل یہ کیسا دستور
دنیاکے سب رشتے جھوٹے
ماںبیٹی کا ساتھ نہ چھوٹے
باپ کے قدموں کی مٹی ہے
بیٹی کاسندور…. بابل یہ کیسا دستور
سورج ڈوبا ‘بڑھ گئے سائے
رخصت کرتے ہیں ماں جائے
ہم پردیسی کیوں کہلائے
کیا ہواہم سے قصور …. بابل یہ کیسا دستور
بابل تیرے پیار کاسایہ
آج مرے کیوں کام نہ آیا
اپنی آنکھ سے دُور کیا کیوں
اپنی آنکھ کا نور…. بابل یہ کیسا دستور
اپنی تو تقدیر یہی تھی
خوابوں کی تعبیر یہی تھی
اللہ کو منظور ہے جو کچھ
ہم کو بھی منظور …. بابل یہ کیسا دستور

