مزاج ….سفر ….اورمنزل

ہم مزاج ہونا …. ہم سفر ہونا ہے …. اور ہم سفر ہونا ‘ہم منزل ہوناہے …. جلد یا بدیر!! دراصل ہم مزاج ہی ہم جنس ہوتا ہے….اور لوازماتِ سفر میں یہ لازم ہے کہ غیر جنس کے ساتھ کبھی عازم ِ سفر نہ ہونا چاہئے …. خواہ سفر‘ سفرِ مقدس ہو …. اور منزل ‘ بمنزل ِ مکّہ ۔منزل مقدر ہوتی ہے اور مزاج مقدر کا حصہ …. اس لئے انسان اپنی منزل کا تعین خود بھی کرے تو بقدر ِمزاج ہی کر تاہے ۔دو مختلف منزلوںکے مسافر زیادہ دیر تک ہم سفر نہیں رہ سکتے۔ بعض اوقات کوئی ہم سفر تو ہوتاہے مگر ہم مزاج نہیں ہوتا۔ اگر ہم سفر ہم مزاج نہ ہو تو ہم منزل کیسے ہو سکتاہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ ہم مزاج ہمیشہ ہم سفرہی رہتا ہے ‘ خواہ ظاہری معیت میں نہ بھی ہو….لیکن ہم سفرجب تک ہم مزاج نہ ہو ‘سنگت میں شامل نہیں ہوتا۔درحقیقت ہم مزاج ہی ہم راز ہوتا ہے …. اور…. راز ‘ منزل کا ایک ذاتی نام ہے !!
ہم مزاج ہمیشہ پسندیدگی کے دائرے میںرہتاہے اور غیر مزاج ہمیشہ غیریت کے دائرے میں …. اس لئے کسی کی آنکھ کا گلاب ہونااور کسی کی نظر میں خار بن کر کھٹکنا‘ اپنے اپنے مزاج کی طرح اپنا اپنامقدر ہے۔جہاں مقدر اپنا عمل شروع کردے ‘وہاں کسی اور عمل کی گنجائش نہیں رہتی۔یہی وجہ ہے کہ جو نظروں میں جچ نہ سکے ‘ اُس کا ہر عمل غیر معتبر نظر آتاہے ۔ مزاج کا غیر …. غیر معتبر ہی رہتا ہے….لاکھ قسمیں اُٹھاتا رہے ‘ لاکھ سر جھکاتارہے۔

مزاج اور منزل کے درمیان ایک عجب راز ہے ….دورانِ سفر اگر ہم سفر‘ ہم مزاج نہ ہوں تو آسودہ¿ منزل وہ مسافر ہوگا جوثابت قدمی سے دوسرے کے مزاج کو برداشت کرتا رہے گا۔ غیر مزاج سے وفا کرنے والا باطن کی دنیا میں داخل ہوجاتاہے…. اور باطن میں داخل ہونے والے پر ظاہر کا احترام واجب ہوجاتاہے ، جبکہ ظاہر پر ….ظاہر ہے ‘ صرف ظاہر کا قانون ہی لاگو رہے گا۔باطن کی دنیامیں عازمِ سفر وہی ہوتاہے …. منزل جس کی منتظر ہوتی ہے ۔

مزاج ایک زاویہ¿ِ نظر ہے …. جس کا مزاج مختلف ہے‘ اُس کازاویہ¿ نظر بھی مختلف ہوگا ۔ زاویہ¿ نظر کا اختلاف میدانِ نظر کا اختلاف پیداکرتاہے …. اور میدانِ نظر کا اختلاف ‘ میدانِ عمل کا۔ جس کا علم مختلف ہے’لازم ہے کہ اس کاعمل بھی مختلف ہو۔ بہرحال اختلاف ….علم کا ہویا عمل کا….بیانات میں اختلافات کا سبب بنتاہے۔لوگ ایک دوسرے کے بیانات سے لڑتے رہتے ہیں اور کسی بیان کے پس ِپشت اس بیان گو کے علم اور عمل کی مجبوری کو نہیں سمجھتے ۔ جہاں مزاج کا اختلاف ہو وہاں جھگڑا کرنے کی ضرورت ہی کیاہے ….بلکہ وہاں تو دلیل پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں …. کہ ہر فریق جھگڑے کا سبب اور نتیجہ اپنے اپنے مزاج کے مطابق اخذ کرے گا۔ اگر شروع دن ہی سے ایک دوسرے کے علم اور عمل کی مجبوری کااحترام کر لیا جائے تو جھگڑوںکے دُھندلکے اندھیر انہیں کرتے۔ جھگڑا …. اندر ہو یا باہر …. مسافر کا سفر روک دیتاہے۔جھگڑا …. اپنی انا کا شور ہے۔جب تک یہ شور مدھم نہیں ہوجاتا‘ جھگڑا ختم ہونے میں نہیں آتا۔دراصل اپنے مزاج کا برملا اظہار بھی غرور کے زمرے میں آتاہے….اورجہاں مزاج اور غرورجا بجا اظہارِ خیال کرنے لگیں وہاں جھگڑے برسات کے خود رَو پودوں کی طرح پھوٹنے لگتے ہیں۔

الفاظ سے معانی کا سفر کثرت سے وحدت کا سفر ہے ۔معانی …. سُر ‘ سنگت اور سنگیت سے جنم لیتے ہیں ۔ ہم مزاج سنگی جس سُر میں بھی کلام کرے سُریلا لگتاہے ۔ سنگت کا جلترنگ مزاجوں کے ہم آہنگ ہونے سے بجنے لگتاہے۔سنگت ہم نفَس انسانوں کی ہوتی ہے …. اُن کے مزاج کی ہم آہنگی ایک سنگیت کا سماںپیدا کرتی ہے….اور یہی وہ سَمئے ہوتاہے جب لفظوںکے قالب میں معانی کی روح اُتر آتی ہے۔

معانی کی دنیا کے مسافر کیلئے یہ رَوا نہیں کہ وہ دکھ اور سکھ کے درمیان کوئی فرق رَوا رکھے …. امیر اور غریب کے درمیان سلوک کے حوالے سے کوئی تفریق قائم کرے۔ دکھ اور سکھ …. واقعات کی امارت اور غربت ہیں۔ دُکھ اور سُکھ ہمارے مزاج اور فہم کے مطابق واقعات کے کچھ تراجم ہیں ۔اپنے اپنے مزاج کی طرح ہر شخص کی فہم و فراست کا رنگ بھی جدا جدا ہوتا ہے۔ وحدت کے مسافر پر ہر رنگ کااحترام واجب ہے۔اپنے مزاج کا اَسیر…. خدا کی بنائی ہوئی نیرنگ خلقت کی سیر نہیں کر سکتا۔ اگر انسان اپنے مزاج کے حصار سے نکل سکے تو امیری اور غریبی کی حقیقت اس کی نظرمیں ایک مشاہدے کے سواکچھ نہیں ۔ وہ نظر جو اپنے مفاداورمزاج میںرہن ہے ‘ کائنات ِ حقیقت کے مشاہدے میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔ حقیقت ِ کائنات …. کائنات ِ حقیقت ہے …. اور کائنات ِ حقیقت …. اَمر ‘ مشیّت اور مشاہدے کی ایک جلترنگ ہے۔ مشاہدہ ….دل اور عقل کی ہم آہنگی مانگتاہے۔مشیت کے مشاہدے کیلئے عقل ِ سلیم چاہیے …. اور اَمر کی تسلیم کیلئے قلبِ سلیم۔
مزاج ہی رفتہ رفتہ کردار بن جاتاہے ۔مزاج کی نرم مٹی کو اگر بروقت کسی خوبصورت سانچے میںنہ ڈال دیاجائے تو وقت کی تمازت اِسے کسی اَن گڑھ اینٹ پتھرکی شکل میں ڈھال دیتی ہے ۔ اس لئے خود کو اپنے سانچے ہادی‘ مرشد ‘گرو کو سونپنا…. دراصل اپنی طینت کی مٹی کوایک خوبصورت سانچے میں ڈالنے کی تدبیر کرنا ہے …. یہ سیرت سازی کا علم ہے …. کردار سازی کاعمل ہے ۔ اپنے استاد کا ہم مزاج شاگردپہلی ملاقات ہی میں آدھے سے زیادہ سبق پڑھ چکاہوتا ہے۔عرفان کا سفر ….مزاجِ یار کی تفہیم کا سفر ہے۔اپنے مزاج سے فانی ہوئے بغیر انسان عازمِ بقا کیسے ہو سکتا ہے؟
انسانی مزاج فطرتاً ایک سر کش گھوڑے کی طرح ہوتاہے….اسے رام کرنا‘ایک ریاضت مانگتاہے۔ اپنے مزاج کی لگام کسی رحیم صفت ذات کے ہاتھ میں دے دی جائے‘ تو یہ رام ہوجاتاہے ۔ خود کو اخلاق کے دائرے میں باندھ لیاجائے‘ تو ریاضت کا عمل شروع ہوجاتاہے۔دراصل اخلاق میں داخل ہونا ‘اپنے مزاج پر فتح پانا ہے۔اگر مزاج میں اخلاق نافذنہ ہو چکاہوتو اخلاق کا ”مظاہرہ “کرنے والابہت کرب اور ابتلا میں نظر آتاہے ۔اخلاق کا اصل امتحان ….اس وقت شروع ہوتاہے جب اپنے مزاج کے برعکس کوئی شخص اپنے حلقہ ¿ اختیار میں داخل ہو…. اور وہ ہو بھی بے دست و پا !! کسی گواہ کی غیر موجودگی میں ….ایک بااختیار آدمی کاکسی بے اختیار آدمی کے ساتھ سلوک ‘ وہ آئینہ ہے جس میں اُس کے اخلاق کااصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ اخلاق کا آدھا سبق صرف تحمل میں پورا ہوجاتاہے …. تحمل سے دوسرے کی بات سن لینے میں!! ۔ تحمل ملامت سننے کی ہمت ہے۔جو شخص ملامت کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا وہ اپنے مزاج کے بوجھ سے آزاد نہیں ہوسکتا۔ اخلاق کی ابتدا تحمل ہے اورانتہا احسان۔ دراصل اخلاق ایک پُل صراط ہے …. اپنے مزاج کے دوزخ سے نجات پانے کیلئے اس تلوار کی دھار سے زیادہ باریک پُل صراط سے گزرنا ہوتاہے ۔
مزاجوں کی دنیا میں ایک مزاج انصاف ہے اورایک احسان۔انصاف اپنے مزاج میںکڑا‘کڑوااورکھراہوتاہے اور احسان منکسر المزاج ‘دھیمااورمیٹھا ۔انصاف اور احسان کے دریا میٹھے اور کھارے پانی کی طرح ایک دوسرے سے جدا رہتے ہیں …. ایک دوسرے کے ساتھ خوش اسلوبی سے ملنے کے باوجود …. نہیں ملتے۔ انصاف کرنا آسان ہے ، احسان کر نا مشکل ہے ….کیونکہ یہ مشکل گھاٹی کا سفر ہے ۔ احسان جب تک مزاج میں شامل نہ ہو‘ ہمیشہ مشکل نظر آتاہے …. بلکہ بیشتر اوقات تونظر ہی نہیں آتا …. اس لئے ظاہر کی بجائے غیب میں جمع ہوتارہتاہے ۔احسان سوئے ہوئے بچے کو پیار کرنے کانام ہے ۔ احسان کاایک اپنا مزاج ہوتاہے ….یہ اپنے مزاج کے برعکس مزاج کو برداشت بھی کرتاہے اور اِس کی پرداخت بھی کرتاہے ۔یوں کہنا چاہئے کہ احسان اپنے مزاج کے برعکس مزاج کے ساتھ وفا کرنے کا نام ہے۔ احسان ….شکوے کی جگہ شکر یہ بولنے کا نام ہے ….اس لئے بہت بڑا کام ہے….بس …. بڑے لوگوں کے بس کا کام ہے !! تصوف …. درجہ ¿ احسان ہے ۔
قرآن ِ کریم میں ارشادِ ربِّ رحیم ہے ….قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ ….”آپA کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہوتو میری اتباع کرو‘اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا“….ایک اورجگہ ارشاد ہے : واللّٰہ یحب المحسنین ….”اوراللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتاہے“ ….یہ دونوں آیات ایک دوسرے کی اَز خود تفسیر ہیں ۔ معلوم ہوا کہ اللہ سے محبت ہوہی نہیں سکتی جب تک اتباعِ محمدی نہ ہو ۔اتّباعِ محمدی ….اتّباعِ کردار ِ محمدی ہے ۔اتّباع …. کردار کی اتّباع کا نام ہے۔ اتّباع میں کردار کا پہلو موقوف ہوجائے تو یہ نقل ہے …. یا نفاق ! ….محسن ِ انسانیت Aکی اتباع میں داخل ہونے والے …. اُسوہ ¿ حسنہ پر عمل کرنے والے…. درجہ ¿ احسان میں داخل ہوجاتے ہیں …. اور جو درجہ ¿ احسان میں داخل ہوجاتے ہیں …. وہ اللہ کو محبوب ہوجاتے ہیں …. بلکہ محبوب ِ الٰہیؒ ہوجاتے ہیں…. دین کا نظام بن جاتے ہیں ۔دین کا نظام…. اخلاق ِ محمدی سیکھنے اور سکھانے کا نظام ہے….اپنی زمین ِوجود پر اخلاقِ محمدی نافذ کرنے کا نام ہے۔اخلاق ِ محمدی ہی وہ راستہ ہے جو انسان کواُس کے مزاج کی شور زدہ اور شوریدہ سر زمین سے نکال سکتاہے۔ درحقیقت مدینے کو جانے کے تمام راستے حسنِ اخلاق کے قمقموں سے روشن ہیں۔انسان اپنے مزاج ِوجودکی تنگنائے سے نکل جائے تو سامنے لطف و کرم کا ایک بحرِ بیکراں اُس کا منتظر ہوتاہے۔

یہ اعجاز قرآنی ہے کہ اس کی ہرآیت فی الواقع ایک نشانی ہے ۔ہر آیت ہدایت کا ایک روشن باب ہے ….اور یہ باب اولولالباب پرہر روز نئی آن ‘ نئی شان سے عیاں ہوتا چلا جاتاہے ۔قرآن پاک کی ایک آیت دوسری آیت کی تشریح کر تی ہے۔ قرآن ِ کریم میں ایک اور جگہ ارشادربّانی ہے: صبغة اللّٰہ ومن احسن من اللّٰہ صبغة ….”اللہ کا رنگ اختیار کرو ‘ اللہ سے بہتر کس کا رنگ ہے “ ….اور حدیث نبوی ہے: تخلقو باخلاق اللّٰہ ….”خود کو اللہ کے اخلاق سے متصف کرو“….اب ظاہر ہے اللہ غیب میں ہے …. مخلوق اللہ کے اخلا ق کا مشاہدہ کیسے کرے ؟ اللہ غیب میں ہے …. اُس کا رسول توشہود میں ہے….اور اُمتی اپنے رسول کے مشہود ہونے کی شہادت دے سکتاہے…. بذریعہ¿ اخلاق ِ محمدیA …….. بطریقہ ¿اتباع ِکردارِ محمدیA !!

کردار کی اتّباع اس وقت تک ممکن نہیں جب تک صاحب ِ کردار سے مزاج آشنائی نہ ہو۔ دراصل مزاج ِ حبیب سے آشنائی ہی ذات سے شناسائی کا ایک ذریعہ ہے ….اور مزاج آشنائی کا واحد ذریعہ محبت ہے۔ محبت ہی وہ زبردست قوت ہے جو انسان کو اُس کے مزاج کی کشش ِثقل سے نکل جانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔محبت بھی ایک ہجرت ہے ….اپنے مزاج سے نکل کر محبوب کے قریہ¿ مزاج میں داخل ہونے کانام۔ سچ فرمایا‘سچ فرمانے والےؒ نے ….
دین کیا ہے ‘ تیری اُلفت کے سوا دین کابس اک یہی معیار ہے

آدم ؑتا اِیں دم ….کُل عالَم کے عالِم …. میدانِ فکر کے شاہسوار …. اخلاقیات کے معلّمین ومتعلّمین ‘ مدبّرین و متدبّرین ….اپنا اپناکاسہ¿ طلب لئے ….جس منزل کی تلاش میںعازمِ سفر ہیں….وہ کردارِ محمدیA ہے….کُل عالمِ کائنات اور کُل کائناتِ عوالم …. امکانات کے سب دائروں میںجس ذات کے عرفان کی جستجو میں محوِ طواف ہیں …. وہ صرف اور صرف ذاتِ محمدA ہے….!!

byڈاکٹر اظہر وحید

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!