واصفؒ نے آدمی کو انساں بنا دیا
واصفؒ نے رنگ رنگ کو نیرنگ کر دیا
واصفؒ دیارِ غیر میں یوں رہنما بنا
منزل کا خواب اس نے ہی منزل بنا دیا
واصفؒ کا لفظ گویا ہر اک گفتگو میں ہے
واصفؒ کی ہر کرن نے اندھیروں کو گم کیا
واصفؒ جو کل تھا ‘ آج ہے‘ کل بھی رہے گا وہ
واصفؒ نے اپنی ذات کو یوں جاوداں کیا
واصفؒ ہر ایک سانس میں رچ بس گیا ہے یوں
”واصفؒ“ زباں سے نکلا ‘ کوئی نام بھی لیا
واصفؒ کا فیض جاری ہے‘ اس آستاں پہ بھی
واصفؒ جواب دیتا ہے ہر اِک سوال کا
واصفؒ علی کی بات کی کچھ اور بات ہے
واصفؒ نے بے وفا سے وفا کا سبق دیا
وہ خوش نصیب ہے جو رہے خوش ‘ نصیب پر
واصفؒ نے خوش نصیب کا مطلب بتادیا
واصفؒ ہی’ ’شب چراغ“ہے ‘ واصفؒ چراغِ شب
واصفؒ نے ”قطرہ قطرہ قلزم“ دکھا دیا
واصفؒ کا ”حرف حرف حقیقت“ کا شاہکار
واصفؒ کا دل سمندر ‘ دریا ہے اور کیا
واصفؒ کی”گفتگو“سے کھلے قفل قلب کا
واصفؒ گُرو تھا ایسا ‘ گرہیں کھولتا گیا
واصفؒ نے جذب و مستی سے بھی آشنائی دی
واصفؒ نے راز ‘ راز نہ رہنے کوئی دیا
واصفؒ کی ساری زندگی ‘ درسِ خلوص و شوق
واصفؒ نے سب کلام محبت سے ہے لکھا
واصفؒ کے چاروں اور یوں برپا ہے انقلاب
واصفؒ نے سب کو سوچ کا محور عطا کیا
واصفؒ سے میرا رشتہ فقط خون کا نہیں
واصفؒ ہے قبلہ کعبہ امجد کے قلب کا
by غیاث امجدملک

