رجب …. حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کی مناسبت سے حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ کے شعری مجموعہ ”شب چراغ“ سے قارئین کی نذر
خواجہ رحمتہ اللہ علیہ ملن کی پیاس ہے دل میں نینوں میں برساتیں ہیں
تنہائی کے چُپ آنگن میں میری اُس سے باتیں ہیں
خواجہ رحمتہ اللہ علیہ مرے کا راز نرالا ، خواجہ ملے تو رین اُجالا
درس بِنا جَگ گھور اندھیرا دِن اپنے بھی راتیں ہیں
جگت گرو کی آنکھ کا تارا ، خواجہ معین الدّین ہمارا
دولہا ہے اجمیر نگر کا ، گھر گھر میں باراتیں ہیں
وحدت ‘ کثرت ‘ عین طریقت ، ہر چہرے میں ایک حقیقت
قطب ‘ فرید ‘ نظام اور صابر ایک صفت کی ذاتیں ہیں
چشت نگر میں نِس دن میلے ، عشق یہاں محفل میں کھیلے
آنکھ میں آنسو ‘ لب پہ ترانے ، یہ چشتی سوغاتیں ہیں
رہنا ہے ہر حال میں راضی ، خواجہ سنگ ہے جیون بازی
خواجہ جی کی جیت ہمیشہ ، مجھ پاپن کی ماتیں ہیں
آنکھ سے اوجھل دِل میں بسیرا ، من موہن ہے خواجہ میرا
واصف اُس کی پریت نرالی ، اس کی انوکھی گھاتیں ہیں

