خوشبو کا جھونکا

بانوقدسیہ

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ”کرن کرن سورج“ کی تقریب ِ رونمائی کے موقع پر اظہار ِ خیال
مورخہ : 3 جولائی 1980 ء بمقام : ”پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور‘

صاحبِ صدر! جناب واصف صاحب!

خواتین و حضرات! جب واصف رحمتہ اللہ علیہ صاحب نے مجھے کہا کہ میں ”کرن کرن سورج“ پر مضمون پڑھوں تو میں حیران رہ گئی۔شاعری‘ القائے ربانی‘ خلیل جبران جیسی نثر‘ فلسفیانہ ملفوظات اور رب کی باتوں کو میں محسوس تو ضرور کرتی ہوں لیکن سمجھتی نہیں ہوں۔ کچھ خواتین کمرے میں گھستے ہی بتا دیتی ہیں کہ فضا میں کون سی خوشبو رَچی بسی ہے لیکن کچھ لوگ سونگھتے رہ جاتے ہیں لیکن بتا نہیں سکتے کہ کون سی خوشبو کس شخص سے آ رہی ہے وہ کمرے کی فضا سے آ رہی ہے کہ کھلی کھڑکی کے باہر پھولوں کی فرستادہ ہے۔”کرن کرن سورج“ بھی خوشبو کا ایک تحفہ ہے لیکن میں جانتی نہیں کہ پوری کتاب میں مہک ہے یا کسی خاص سطر سے آتی ہے۔خوشبو خیالات سے نکل رہی ہے یا صاحبِ کتاب سے‘ کہیں سے حاصل ہو سکتی ہے یا یہ عام مارکیٹ کے لئے نہیں ہے۔یہ جسم کو لگانے کے کام آئے گی یا روح کو خوشبودار کرنے کے کام آئے گی۔ اس کا بہتر تجزیہ نکھار کے ساتھ‘ آنے والے چند لوگ کریں گے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب کسی قابلِ ذکر انسان کی سواری کسی جلسہ میں آتی ہے تو پہلے پنڈال کی تیاری کے لئے مختلف انتظامات ہوتے ہیں۔فرش‘ گملے لگانے والے مالی‘ پھاٹک کو کیلے کے پتوں سے سجانے والے‘ تخت پر سرخ قالین بچھانے والے‘ روسٹرم اور مائیکروفون کے انتظام والے وغیرہ وغیرہ۔ اصل سواری سے پہلے ایک قیامت بپا ہوتی ہے۔میں بھی اسی قیامت کا ایک حصہ ہوں۔میرے بعد جو مقررین آئیں گے آپ ان کی باتوں کو سنیں گے تو آپ کو” کرن کرن سورج“ اور اس کے مصنف کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوں گی جن کی اہلیت مجھ میں نہیں ہے ۔میں تو صرف یہ جانتی ہوں کہ بزرگانِ دین کی ذات مجھ میں تحیر کا عالم بپا کرتی ہے۔ انسان کی زد میں کون سا گردوں ہے اور اس کے امکانات کی ممکنات کن سرحدوں سے ملتی ہیں‘ اس کی جھلکی سی دیکھ کر میرے لئے کچھ بھی کہنا آسان نہیں ہوتا۔کچھ بھولے بھالے جب واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ سے ملتے ہیں تو ان کے دل میں کرید ہوتی ہے وہ سوال کریں گے:

”اے جوگی! بتا تو کس پہاڑ سے اترا ہے ‘ کیا وہاں برف تھی؟بتا کہ کیا اونچے درخت ‘سدا بہار دھند میں ڈھکے رہتے تھے؟بتا! جوگی کیا تو جانوروں کی بولی بولتا ہے؟کیا تو آبشاروں سے‘ خودرو بیلوں سے گفتگو کر سکتا ہے؟بتا! کیا شیر اور ہرنیاں مل کر تجھ پر پہرہ دیا کرتے تھے؟کیا تو پہاڑوں میں اس لئے رہا کہ مردم گزیدہ تھا؟کیا پہاڑوں نے تجھے اس لئے کھینچا کہ وہاں نور کی سمتیں تھیں کہ کرنوں جیسی ان گنت آوازیں تھیں اور گھٹتی بڑھتی تجلیاں تھیں؟بتا جوگی!تیرا ماضی کیا ہے؟“معصوم روحیں اپنے ایمان کو مضبوطی دینے کے لئے تجسّس رکھتی ہیں جیسے بچہ اس کھوج میں رہتا ہے کہ ماں نے ٹافیاں کہاں چھپائی ہیں‘ وہ ماں کے کسی راز سے آگاہ نہیں ہونا چاہتا۔کچھ لوگ واصف رحمتہ اللہ علیہ صاحب کے متعلق اس لئے متجسس رہتے ہیں کہ وہ ازلی انکار کا شکار ہیں۔مثبت سے منفی اور منفی سے مثبت کادائرہ مکمل کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان کی شخصیت سے متاثر ہونے کے بعد ان وجوہات کی تلاش میں رہتے ہیں جن سے وہ اپنے انکار کی عادت کو تقویت دے سکیں۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ واصف صاحب کون ہیں؟ کس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں؟”کرن کرن سورج “ سے پہلے وہ کہاں تھے؟….کیا یہ صاحبِ جائیداد ہیں اور اگر ہیںتو ان کی زمینیں کہاں ہیں اور کتنی ہیں؟لوگ ہر لمحہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ”دیکھا! ہم نہ کہتے تھے‘ ہمیں پہلے ہی معلوم تھا“ جو شخص جیسی تلاش میں رہتا ہے اسے ویسے ہی جواب ملتے ہیں۔سبب اور کوائف ویسے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

ایک شام کا ذکر ہے ہمارے گھر کے باہر ایک وین کھڑی تھی اس میں چند ہپی چھوٹے سے تیل کے چولہے پر چائے پکانے کا عمل کر رہے تھے۔ اشفاق صاحب گھر لوٹے اور انہیں اندر لے آئے۔ دورانِ گفتگو پتہ چلا کہ وہ سب مختلف ممالک کے ہیں اور شاہراہوں پر دورانِ سفر ایک دوسرے سے ملے تھے۔ان میں سے ایک انگریز نے بتایا کہ وہ سری لنکا سے آ رہا تھا۔میں نے سوال کیا کہ سری لنکا واپس جائیں گے؟”جی نہیں،میں نے اس دیس کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا ہے“۔کیا وہ خوبصورت جگہ نہ تھی؟پھر آپ وہاں رہنا کیوں نہیں چاہتے ؟بڑی دیر تک وہ اپنی داڑھی کھجاتا رہا پھر بولا”غالباًگر وتھ گروتہ نہیں تھی‘ کچھ دیر کے بعد میں اردگرد کے سبزے کی طرح ویجیٹیبل vegetable) (بن جاتا‘ میں اس انجام کے لئے تیار نہیں تھا“۔اللہ کے برگزیدہ بندے سبزی بننا پسند نہیں کرتے‘ وہ جوانی میں بچپن‘ بڑھاپے میں جوانی اور حسنِ خاتمہ کے قریب انوالومنٹ involvement) (کے آرزو مند نہیں ہوتے۔اس لئے ان کا ماضی نہیں ہوتا۔ان کی صرف گروتھ ہوتی ہے۔ان کا ماضی بڑھوتری کا اونچا نیچازینہ ہوتا ہے۔جو باتیں عام زندگی میں گہری منافقت اور تضاد کی نشان دہی کر سکتی ہیں ‘ ان کے لئے فقط کوٹھالی کی آگ جیسی ہوتی ہیں جن میں تپ کر وہ کندن بنے ہوتے ہیں۔صاحبِ حال بھی کبھی بچہ رہا ہے‘ اس پر بھی کبھی جوانی نے والہانہ حملے کئے ہیںلیکن عام انسان اور بزرگانِ دین میں صرف یہی فرق ہے کہ ہر کرائسزcrises) (کو ہم نے کیسے فیسface) (کیا اور اس نے ان حالات سے کیسے ارتقاءکی سیڑھیاں بنائیں۔حالات سبھی کے سانجھے ہیں ‘بچپن میں سبھی کھاتے ہیں‘ کھیلتے ہیں‘ جھگڑتے ہیں‘جوانی میں سب مبتلا رہتے ہیں‘گھر بناتے ہیں‘ بچے پالتے ہیں‘ دوست بنانے اور دشمن بنانے کا یہ عہد ہوتا ہے۔فرق حالات‘ تجربات یا واقعات کا نہیںہے۔بلڈنگ بلاکس ہم سب کو ملتے ہیں۔ فرق روح کی لطافت اور ردِ عمل کا ہے ۔ عام آدمی غم اور خوشی کے شدیداحساس سے آگے نہیں بڑھتا ۔خاص انسان عام مواد سے لطیفہ پیدا کرتا ہے لیکن خاص الخاص کے ہاتھ میں یہ حالات شعبدہ بازی کی مضبوط رسی ہے جس سے وہ آسمان میں ٹھیکری لگانے کا کام کرتا ہے ا ور پھر پویا‘ پویا آسمانی مسافتوں کی جانب مضبوطی اور شکر گزاری کے ساتھ سفر کرتا ہے۔اس لئے مجھ جیسوں کو نہ تو واصف صاحب کی سمجھ آ سکتی ہے نہ ان کی کتاب ”کرن کرن سورج“کی۔ہم بیان کی غلطیاں دیکھنے والے ہیں۔ہم چاہے واصف صاحب سے ملیں‘ ان کی کتاب پڑھیںیا ان کی محفل سے اٹھ کر واپس آئیں‘ واپسی پر کار میں بیٹھتے ہی ہم تجزیئے کا شکار ہو جاتے ہیں‘ چھان پھٹک کی عادت ہو تو عمل سے گریز کی توجیہہ بھی مل جاتی ہے۔ ہمارے پاس خود اتنے سارے نظرئیے ہیں‘ پیمانے ہیں‘ ہم ملک سدھارنے والے ہیں‘ راہیں بچھانے والے ہیں‘ ہم اگر مان بھی جائیں گے ‘ اعتراف بھی کر لیں گے تو کتنی دیر ….منفی سے مثبت کا سفر آخر کتنی دیر رہ سکتا ہے۔

ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ہمارے درمیان سے ایک مردِ ابریشم خموشی سے سلیپر پہن کر چلا گیا۔جانے سے پہلے اس نے تمام لوگوں سے ملنے کی خواہش کی‘ کوشش کی‘ سب کے دکھ درد میں شریک ہوا۔مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میری سہیلی نثار عزیز نے قدرت اللہ شہاب کا نام مردِ ابریشم رکھ کر کسی بڑی ہی سخت چیز سے اس کو تشبیہ دی ہے۔ان کے جانے کے بعد لوگوں نے انہیں اور بھی سخت القاب دیئے‘ کسی نے انہیں کہا کہ بڑا اچھا سی ایس پی تھا‘ آئی سی ایس تھا۔کسی نے انہیں عالم کہا‘ کسی نے ادیب۔یہ نہیں کہ وہ یہ سب کچھ نہیں تھے۔ وہ مختلف اوقات میںیہ سب کچھ کر رہے تھے لیکن یہ سب مراحل طے کرنے میں‘ کرتے ہوئے‘ ان کی خامیوں‘ خوبیوں اور خرابیوں سے گزر کر وہ ”ابریشم“ ہوئے تھے۔جب غم شدید ہو تو ردِ عمل بھی شدید ہوا کرتا ہے۔فرطِ غم میں شہاب صاحب کے چاہنے والوں نے اپنے اپنے طور پر جان سے گزر جانے کا فیصلہ کیا‘ اپنا وجود نذر دے کر ان کی ذات کو بقا دینے کا ارادہ کیا۔ کچھ نے تجویز کیا کہ وہ سال بہ سال ایک تقریب منائیں گے‘ ایک صاحب نے مشورہ دیا کہ آﺅ باہم مل کر ایک کتاب لکھیں جس میں شہاب صاحب کی پیاری پیاری باتیں ہوں‘ ایک دو نے کہا کہ چلو قبر پر ایسا سنگِ مرمر کا روضہ بنائیں جو رہتی دنیا تک قائم رہے۔ہم سب اپنے اپنے طور پر انہیں ابدیت بخشنے کی کوشش کر رہے تھے۔کسی کو بھی خیال نہ آیا کہ جب تک ہم میں سے ایک اور مردِ ابریشم پیدا نہ ہو سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔

بڑے مزار اور چھوٹے مزار میں بزرگانِ دین کی چھوٹائی یا بڑائی کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ تمام بزرگانِ دین کا وجود ایک ہے ….بالکل ایسے جیسے آئینہ خانے میں ایک شمع روشن کریں تو چہار سمت موم بتیاں روشن ہوجاتی ہیں۔چھوٹے مزار اور بڑے مزار میں فقط مرید کا‘ ماننے والے کا فرق ہوتا ہے۔جب ماننے والا مولانا روم جیسا ہو تو شمس تبریز کی مِتھ بنتی ہے ورنہ بڑا آدمی تو بڑا ہی رہتا ہے چاہے اس کی یاد کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ان لوگوں کے پاس ہمارے جیسے پیمانے نہیں ہوتے۔یہ بے وفائی کی ملاوٹ کے ساتھ وفا کرتے ہیںاور بے وفائی میں بھی وفا کا خمیر ڈال دیتے ہیں۔ان کا سچ جھوٹ کے فریم میں اور بھی اچھا لگتا ہے اور جھوٹ کے آئینہ میں سچ کی تصویر ابدیت حاصل کرتی ہے‘ یہ لوگ شعبدہ باز ہیں۔ان سے انسانی ممکنات کے امکانات کھلتے ہیں‘ یہ ہمارے جیسی حرکتیں کرتے ہیں لیکن ان کا عمل ارتقاءکا آئینہ دار ہوتا ہے۔اس لئے یہ کیمیا گر دنیا کو دین بنانے کا فن جانتے ہیں۔

میں واصف صاحب کو بہت اچھی طرح سے نہیں جانتی۔میں ان کی کتاب”کرن کرن سورج“ کو خوشبو کا جھونکا سمجھتی ہوں‘ جو محسوس تو کیا جا سکتا ہے‘ سمجھا نہیں جا سکتا‘ پھر پتی پتی کرنے سے پھول میں باقی بھی کیا رہتا ہے۔اس لئے میں نے ان تجزیات سے گریز کیا ہے جو وقتاًفوقتا ًمیرے ذہن میں اُبھرے ہیں۔میں آپ کے اور ان کے درمیان زیادہ دیر تک حائل بھی رہنا نہیں چاہتی کیونکہ کچھ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔میری ایک ہی دعا ہے کہ وہ تا دیر اپنے چاہنے والوں سے بے وفائی نہ کریں اور ان کے پیچھے چلنے والوں میں سے کوئی ایسا ضرور ہو جو مجسم واصف صاحب ہو اور ان کی جلتی ٹارچ کو لے کر اولمپیا کی پہاڑی پر بھاگنے والا ہو…. دنیا کو دین بنانے کا نسخہ ضائع نہ ہو ….اور ایسے کیمیا گر آنے والی نسلوں کے لئے باعثِ رحمت ہوں ،جیسی رحمت آج واصف صاحب ہیں۔
واصف صاحب ! میری طرف سے مبارک باد اور اس حوصلہ افزائی کا شکریہ۔۔۔!!

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!