حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
بمقام : فردوس کالونی گلشن راوی ، لاہور ٭ مورخہ : ۸ فروری ۱۹۹۱ئ
٭ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا کام ہر انسان کے حوالے سے الگ الگ ہے۔ سب سے اچھا کام وہ ہے ‘جو اللہ کے سب سے اچھے بندے کے لیے کیا جائے۔ اللہ کے حبیب سے محبت کرنا سب سے اچھا کام ہے۔ درود پڑھنا سب سے اچھا کام ہے۔ اس کے علاوہ اچھا کام ہر آدمی کے لیے الگ الگ ہے۔امیرظالم اور کنجوس آدمی کے لیے اچھا کام یہ ہے کہ وہ سخاوت کرے ‘ غریبوں میں پیسہ تقسیم کرے۔ جو‘ جو آدمی‘ جس جس مقام پر اللہ سے دُور ہو رہا ہے ‘ اس مقام کو ٹھیک کرے۔ عبادت پر غرور کرنے والے کے لیے اچھا کام یہ ہے کہ وہ عبادت نہ کرے تاکہ غرور سے بچ جائے۔ خاوند کی غیرتابعدار بیوی کے لیے اچھا کام یہ ہے کہ وہ خاوند کی تابعداری کرے۔ غرضیکہ ہر آدمی کے لیے اچھا کام الگ الگ ہی ہے۔ اگر آپ اپنے طور پر ‘ ذاتی طور پر اپنے حوالے سے اچھا کام پوچھو تو وہ اور بات ہے۔ اپنے طور پر سب سے اچھا کام وہ ہے جس کو آپ خود اچھا سمجھو۔ ہر آدمی کو اپنے اپنے کام کا پتہ چل جاتا ہے۔
٭ صبر….! ….کس حد تک برداشت کرنا چاہیے؟ اور اس کی کیا حد ہوتی ہے؟ ….یہ وہی ذات بتا سکتی ہے جس نے صبر کرنے کا حکم دیا…. صبر کے متعلق اللہ نے چار چیزیں بتائی ہیں …. اللہ نے فرمایا ہے کہ میری طرف سے خوف آئے گا۔ یہ خوف زیادتی کے ہونے کا ہے ‘یا کسی نعمت کے چھن جانے کا ہے۔خدا نہ کرے صحت خراب ہونے کا اندیشہ ہو، خدا نہ کرے کسی جاہل سے واسطہ پڑے…. یہ سارے خوف ہیں ‘ اندیشے ہیں۔ خوف کسی پسندیدہ ماحول کے چھن جانے کا اور کسی ناپسندیدہ ماحول کے قائم ہو جانے کا …. اس کے علاوہ اللہ نے فرمایا کہ ہم تمہیں بھوک سے آزمائیں گے۔ بھوک کیا چیز ہے؟ بھوک یہ ہے کہ کسی چیز کی تمنا اور ضرورت ہو اور وہ نہ ملے یعنی کسی چیز کی تمنا بھی ہو اور ضرورت بھی ہو اور وہ موجود نہ ہو …. اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں بھوک سے آزماﺅں گا۔ اور …. تمہارے مال میں نقص سے آزماﺅں گا۔ مال سے مراد پیسہ بھی ہو سکتا ہے اور دوسری چیزیں بھی ہو سکتی ہیں …. اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے مال میں نقص سے تمہیں آزماﺅں گا تو اگر کسی چیز میں اتفاقاََ نقص ہو جائے …. بالکل صحیح ہے۔ اب محتاط آدمی کے ہاںبھی نقص ہو سکتا ہے۔ اور لاپرواہ آدمی کے ہاں نقص نہیں بھی ہو سکتا…. پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں خوف آئے گا۔ اب آدمی چاہے بڑا ہو یا چھوٹا اسے خوف آسکتا ہے۔ بلکہ جو دوسروں کو زیادہ خوف زدہ کرتا ہو‘ اُسے زیادہ خوف آئے گا۔ ڈرانے والا بہت ڈرتا ہے۔ جتنا ڈر پیدا کرو گے‘ اتنا ڈر تمہیں واپس ملے گا۔خوف ‘ بھوک…. نقص من الاموال اور ثمرات…. نتیجہ تمہارے حق میں ہونا چاہیے لیکن نتیجہ تمہارے حق میں نہیں ہو گا….پھل ٹوٹ جائے گا۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ جو لوگ صبر کرنے والے ہیں اُن پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں ” ہم اللہ کی طرف سے ہیں اور اُسی کی طرف ہی رجوع کرنا ہے“ ….اب صبر کی حد کیا ہے ‘ صبر کہاں تک جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی مصیبت پڑ جائے….تو بولے نہ …. برداشت کر جائے ۔ اللہ کا فرمان ہے کہ ہر شخص پر مصیبت آتی ہے ‘ اس کی وسعت کے مطابق۔ اب اگر تمہارے خیال میں مصیبت زیادہ پڑ رہی ہے تو سمجھو کہ تمہیں وسیع بنایا جا رہا ہے۔ تمہیں صاحبِ ظرف بنایا جا رہا ہے …. یہ ایک درجہ ہے …. اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ صبر کو شکر بنا دو ، کہ اے اللہ ! یہ تمہارا حکم ہے تو ہمیں ایسے ہی منظور ہے اور ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں ۔ آسان لفظوں میں …. پسندیدہ چیزوں کا چھن جانا …. آپ کی خواہش کچھ اور ہے ، آپ کا حاصل کچھ او ر ہے …. ایسا مقام جہاں آپ کے ارادے اور اللہ کے ارادے میں فرق آ جائے…. اور ایسا اکثر ہی ہوتا ہے کہ آپ کی مرضی اور اللہ کی مرضی میں فرق ہو۔ آپ نے پھولوں کی آرزو کی ہو اور آپ کا دامن کانٹوں سے بھر گیا ہو …. یعنی حالات اور خواہشات میں فرق ہوگیا ہو۔ بس صبر اسی کو کہتے ہیں۔ اب جولوگ یہ کہتے ہیں کہ صبر کی ایک حد ہوتی ہے اور اس کے بعد صبر نہیں کیا جا سکتا …. تو اگر اُن سے صبر نہیں ہو سکتا ‘ تو وہ نہ کریں ….آسمان دُور تو نہیں …. زمین کے اندر جانا مشکل تو نہیں …. جب ایسے حالات آ جائیں کہ کوئی راستہ نہ ملے تو وہی مقام صبر کا مقام ہوتا ہے اور اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کر سکتے ہو تو کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” اے گروہِ جِنّ و اِنس ! اگر تم زمین اور آسمان سے نکلنا چاہتے ہو تو نکل جاﺅ …. مگر تم میری طاقت کے بغیر نہیں نکل سکتے “….مطلب یہ ہوا کہ اگر تم صبر نہیں کر سکتے تو تمہارے گرد جو حصار ہے تم اس سے بھی نہیں نکل سکتے۔ صبر کرنا ہی بہتر ہے…. کوشش سے حالات ٹھیک کر لو ، اگر نہیں ٹھیک ہوتے تو صبر کر لو اور حالات کو قبول کر لو۔ آپ جو پسند کرتے ہو وہ حاصل کر لو یا جو حاصل ہے اسے پسند کر لو….جھگڑا نہ کرو۔ ہم تمہیں کوئی چیز حاصل کرنے سے منع نہیں کرتے مگر نتیجہ کی ذمہ داری تم پر ہی ہو گی…. سمندر میں ڈوبنے کی خواہش ہو بھی تو نہیں ڈوب سکو گے۔ پہلے غوطے پر چیخ لگاﺅ گے اور دوسرے غوطے پر مدد کے لیے پکارو گے…. یعنی ہو سکتا ہے جن چیزوں کی تم خواہش کرتے ہو وہ تمہارے لیے تباہی کا باعث ہوں …. اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو چیز آئے اسے پسند کرو ‘ اس پر صبر کرو۔
٭ والدین کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ ” اُن کے آگے اُف نہ کہو۔ انہیں جھڑکو نہ۔ اور اُن کے ساتھ نرم الفاظ میں بات کرو“ …. جس نے ماں باپ کی تابعداری کی ‘ اُس نے تابعدار اولاد لی …. ماں باپ کا احترام کرو ‘ ادب کرو اور اگر کبھی اختلافِ رائے ہو تو بڑی خوبی سے ‘ بڑے حسن و جمال سے اپنی رائے کو ان کی رائے کے مطابق بناﺅ یا کم از کم باغی نہ بنو…. اپنی مرضی کو ان کی مرضی کے مطابق بنانا ہی تابعداری ہے۔ اس کے علاوہ اور تابعداری کیا ہے؟ اپنی چاہت کو ان کی چاہت پر چھوڑ دو …. ان کی چاہت پر عمل کرنے سے زیادہ سے زیادہ یہی نقصان ہو گا ناں کہ زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ تو ماں باپ کے لیے جان قربان کرنا سب سے بڑی شہادت ہے۔ ماں باپ کو ان کی خوبیوں سے نہیں پہچاننا‘ کوالیفیکیشن سے نہیں پہچاننا‘ علم کے ساتھ نہیں پہچاننا ‘ بلکہ ان کو ان کے مرتبے سے پہچاننا ہے، بالکل ایسے جس طرح سے وہ دوسرے خوبصورت بچوں کو چھوڑ کر تم سے پیار کرتے ہیں۔
٭ ڈویلپمنٹ دو طرح کی ہوتی ہے، ظاہری اور باطنی۔ ایک خیال سے ہے اور دوسری احوال سے ۔ آپ اگر اپنے آپ کو گردو پیش سے ماپنا شروع کر دو گے تو آپ کو اپنی ڈویلپمنٹ کا کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ جس طرح آپ اپنے روزمرّہ کے کام‘ اپنے دفتر کے کام‘ سماج کے کام کرتے ہو اسی طرح ڈویلپمنٹ بھی ہوتی رہتی ہے…. ڈویلپمنٹ در اصل باطن کی ہوتی ہے۔ اس کو اس طرح سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ درخت کی کبھی شاخیں بڑھتی ہیں اور کبھی جڑیں بڑھتی ہیں۔ جب جڑیں بڑھ رہی ہوتی ہیں تو آپ کو خبر نہیں ہوتی ۔ آپ کو اس وقت خبر ہوتی ہے جب شاخیں بڑھتی ہیں ۔ جڑوں کی ڈویلپمنٹ باطن کی ڈویلپمنٹ ہے اور شاخوں کا بڑھنا ظاہری ڈویلپمنٹ ہے …. آپ اپنا عقیدہ درست رکھو ‘ آپ کی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔ آپ کے بچے ڈویلپ ہو رہے ہیں تو آپ ہی ڈویلپمنٹ ہو رہے ہیں…. ماحول ٹھیک ہو رہاہے تو آپ ٹھیک ہو رہے ہیں۔ آپ کا خیال ڈویلپ ہو رہا ہے …. احساس ڈویلپ ہو رہا ہے…. اگر آپ کو خالی پن کا احساس ہو رہا ہے تو یہ خیال دراصل کسی حاصل کا نام ہے۔ آپ غور کرو کہ ایک ترقی یافتہ انسان نے ساٹھ سال کی عمر میں کیا حاصل کیا؟ اس نے صرف گھر سے قبرستان تک کا فاصلہ طے کیا۔ اب اگر باطنی طور پر تشنگی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ کوئی بھی زندہ انسان ڈھونڈ لو‘ جو آپ کے خیال میں قابلِ تکریم ہو…. اتنا قابلِ تکریم کہ اس کی ہر بات کو مانا جائے‘ اس کا کہا مانا جاسکے…. حتٰی کہ ناجائز کہا بھی مانا جا سکے۔ اگر آپ یہ کام کر لو تو آپ کا باطنی سفر آسان ہو جائے گا۔ یہ تسلیم کی بات ہے…. ایمان کی بات ہے ۔ ایمان ہے ہی اعتمادِ شخصیت کا نام…. وہ انسان سب سے اچھا ہے جو ظاہری طور پر تو اپنا روز مرہ کا کام کرتا ہے لیکن ڈویلپمنٹ بھی ساتھ ساتھ ہو رہی ہے۔ اگر آپ اپنی ڈویلپمنٹ چاہتے ہو‘ اپنی بخشش چاہتے ہو تو اپنے سے زیادہ کسی انسان کے لیے گواہی دے دو …. کہ میرے نزدیک فلاں شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لیے قابلِ اعتماد ہے …. دی پرفیکٹ نہیں ہے مگر ہمارے خیال میں قابلِ اعتماد ضرور ہے۔ ایسا آدمی دریافت کر لو ‘ تمہاری بخشش ہو جائے گی۔ آپ کا ایمان دراصل ”کسی اور پر“ ایمان کا نام ہے۔ اپنا عقیدہ درست کرتے جاﺅ‘ آپ کی فلاح ہو جائے گی۔آپ کا باطن انشاءاللہ روشن ہو جائے گا۔ کہتے ہیں جب بادِ بہار پاس سے گزر جاتی ہے تو پھول کھِل جاتے ہیں …. باطن روشن ہو جاتا ہے۔ باطن روشن کیسے ہوتا ہے؟ …. یہ کسی کا حسنِ خیال ہوتا ہے جو عطا کرتا ہے …. جب دینے والا کوئی حسنِ خیال دے دے تو باطن روشن ہو جاتا ہے۔
حسنِ خیال آپ کا نہیں ہے۔ حسنِ خیال اس کا ہے جو دے جائے…. وہ جاہے کوئی ہو …. اُس کا انتظار کرو …. اور غور کرو….!!
٭ عبادت کیا ہے؟عبادت ‘ عبد اور معبود کے درمیان رشتے کا نام ہے۔ معبود کا نام اللہ ہے۔ عبادت ‘ اللہ کے حکم پر عمل کا نام ہے ۔ اب اس عبادت میں محویت ملتی ہے کہ نہیں ‘ یہ بات ضروری نہیں۔ محویت ‘ عطا کی بات ہے …. آپ ساری زندگی نماز پڑھتے رہو ، ہو سکتا ہے کسی ایک نماز میں محویّت مل جائے۔ اللہ نے کہا ادھر منہ کر کے نماز پڑھو …. آپ ویسے ہی کرو۔ حج کے موقع پر حج کرو‘ زکوٰة کے موقع پر زکوٰة دو‘ قرضِ حسنہ دو …. یہ سب کام کرتے جاﺅ۔ جب عطا ہو جائے گی تو نماز میں بھی محویّت مل جائے گی اور زندگی کے اندر ایک اور زندگی نظر آئے گی۔
٭ آپ دینِ اسلام کے کسی ایک حکم کی ‘ جو آپ کی سمجھ میں ذرا ”کمزور“ ہو …. خوشی سے اطاعت کرتے جاﺅ…. آپ کو سارا راز مل جائے گا…. دین پر تنقید نہ کرو‘ جیسا بھی ہے ‘اس کومانو …. اللہ کی کائنات کو تسلیم کرو …. اپنے اپنے مقام پر ہر چیز افادیت والی ہے …. جو ذرّہ جس جگہ ہے ‘وہیں آفتاب ہے۔توجہ اس وقت ملے گی جس وقت کوئی دے گا …. محویت تب ملے گی جب عطا ہو گی….!
ز آپ کسی ذات پر یقین کے ساتھ اعتماد کرو ۔ اپنے آپ کو کسی کے حوالے کر دو۔ وہ تمہیں گاییڈ کرے گا کہ یہاں رُک جاﺅ‘ یہاں چل پڑو ۔
٭ آپ من صاف رکھو …. اللہ کو اپنے آپ میں تلاش کرو ….یا کسی پر اعتبار کرو …. یا اپنے آپ کو دریافت کرو۔ عکسِ جمال تمہارے دل میں آئے گا …. تم اپنا دل صاف کرو …. باہر کا عکس آ جائے گا …. خوبیاں پیدا ہو جائیں گی….!
٭ اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت میں یہ بات رکھ دی ہے کہ وہ ”تحقیق کرنے والا ہے“ آپ اس کائنات میں غور کرو تو آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ کائنات عین حقیقت ہے۔ انسان …. اس کائنات میں سب سے زیادہ علم والا ہے ….اور سب سے زیادہ خوبصورت انسان ہی ہے…. اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس انسان کو میں نے کام پر لگایا …. اس کو جاننے والا بنایا …. غور کرنے والا بنایا …. تدبر کرنے والا بنایا…. فکر کرنے والا بنایا ….!

