روشنی ‘ کائنات کی خوشبو
چار سُو حُسنِ ذات کی خوشبو
فاصلے وقت کے سمٹتے ہیں
جب مہکتی ہے رات کی خوشبو
دل کی گہرائیوں سے جب نکلے
پھیلتی جائے بات کی خوشبو
آدمی کو عدم سے لاتی ہے
عالمِ شش جہات کی خوشبو
تا قیامت رہے گی شرمندہ
کربلا میں فرات کی خوشبو
اک تعفّن غرور کی دنیا
عاجزی میں نجات کی خوشبو
اپنے اپنے مزار میں واصف
اپنی اپنی صفات کی خوشبو
************************************
تیری نگاہِ لُطف اگر ہمسفر نہ ہو
دشواریِ حیات کبھی مختصر نہ ہو
اتنا ستم نہ کر کہ نہ ہو لذّتِ ستم
اتنا کرم نہ کر کہ مری چشم ‘ تر نہ ہو
یہ بھی درست ‘ میرے فسانے ہیں چار سُو
یہ بھی بجا کہ آپ کو میری خبر نہ ہو
میری شبِ فراق نے دی مجھ کو یہ دُعا
دامن میں تیرے آہِ سحر ہو ‘ سحر نہ ہو
اس دہر میں عروج کا ملنا محال ہے
ہستی کے ہر زوال پہ جب تک نظر نہ ہو
اُس پر کرے گا کون زمانے میں اعتماد
اپنی نظر میں ہی جو بشر معتبر نہ ہو
واصف عبث ہے بحث امیر و غریب کی
جب تک عبور فلسفہ خیر و شر نہ ہو

