درد کا سفر.. درد سے واصف تک

”دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو“ خواجہ میر درد نے یہ بات بڑی سہولت سے شعری قالب میں ڈھال کر انسان کوصبر و تحمل کا درس دیا تھا۔ گویا اس کے تجربات و مشاہدات اور ریاضتوں کا مآحصل یہی سنہری بات تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ازل سے ابد تک پھیلے انسانی زندگی کے احوال و آثار اسی حقیقت میںپنہاں ہیں۔ جس نے اس راز کو پا لیا‘ وہ شانت ہوگیا۔ جسے اس کا شعور نہ ملا ‘وہ بے چین ،اور جو جاننے اورنہ جاننے کے درمیان رہا’ وہ مضطرب۔ زندگی کی کہانی میں آنسو زیادہ اور قہقہے کم ہیں، اور ہوں کیوں نہ کہ پانی تو بنائے حیات ہے۔بہتا رہے تو نعمت ‘ رُک جائے تو زحمت۔
دنیا میں پیغمبروں کے سوا جتنے بڑے لوگ آئے‘ وہ اس بنیادی حقیقت سے بہر حال آشنا تھے اور اسی لئے انہوں نے انسان کے رگ و پے میں رواں دواں پانی کو ہمیشہ حرکت میں رکھنے کی سبیل کی۔ پیغمبر تو اللہ سے براہ ِ راست ہدایت پاتے رہے اور نوع ِ انسان کے دکھوں کامداواکیا۔ پیغمبروں کی سنّت پر عمل کرنے والوں نے پہلے اپنے نفس کی پہچان کی اور پھر پہچان کے اس رستے پر چلنے والوں کو حیرت کی طلسمی گھاٹیوں سے آشنا کیااور ”شام ِ شہرہول میں شمع روشن کر دی“
آنکھوں سے بہتا پانی توازن اور تناسب کا معیار ٹھہرا۔ اب ایک تو ذات کی نفسیاتی کیفیتوں کی بالیدگی کا سفر طے ہوااور اسی کے ساتھ ساتھ ہم سفروں کی د ل گیری و دل پذیری کے اسباب بھی پیدا ہونے لگے۔ فرد آنسووں کی ایک ایک بوند سے جیسے زنجیر کی کڑیوں کی طرح باہم ہو کرمثالی معاشرے کی طرف عازم سفر ہوا۔ آنسو دوسروں کے کام آنے لگے اور فرد کی یہ دعامستعجاب ہوئی
” خدا کرے مرے آنسوکسی کے کام آئیں“

واصف صاحب کی محافل میں سوال و جواب کا سلسلہ چلتا ‘ محبت کی بات ہوتی اور یوں فرد کا فرد سے کمزور ہوتا ہواتعلق آشنائی کے مضبوط دھاگوں میں بندھتا چلا جاتا….روح کے نہاں خانوں میں چراغ جلتے تو مخفی خزانوں کی خبر ہونے لگتی۔ اپنے اپنے کاندھوں پر اپنے مسئلوں کے بوجھ لے کر آنے والے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اپنا بوجھ ہلکا کرتے اور شانت ہوجاتے ….انہوں نے دین و تصوف کی کسی اصطلاح کو استعمال کئے بغیر جو کچھ بھی کہا وہ دین اور تصوف کے دائرے سے باہر نہیں تھا

اس تمہید کا مقصد صرف اتنا ہے کہ تصوف کو انسانی حیات سے منعکس اور متعلق جان کر اہلِ تصوف کے طرزِ عمل کو جانا جاسکے۔ گزشتہ صدی سیاسی سماجی اور ثقافتی اتّصال و تصادم کی صدی رہی۔ فرد نے فرد پر یلغار کی اور ذہنی اور جسمانی ہلاکتوں کی طویل داستان تاریخ کے اوراق میں محفوظ کر دی ۔ ایسے میں کچھ اہلِ دل سامنے آئے اور خلفشار کی اندھا کر دینے والی دھند میں اپنے آنسووںکی شمعیں روشن کر دیں۔ ایسے ہی اہلیانِ درد میں جنابِ واصف بھی گزرے جنہوں نے من کے اندر بہنے والے آنسووں کا رُخ تبدیل کیااور اظہار کیلئے نئے نئے دریچے وا کیے۔ یہ دریچے روح کی کتنی ہی تصویروں کو نمایا ں کرنے لگے۔ الہام و تجرید کی کئی اشکال با معنی ہونے لگیںاور ایک بالکل جدید اندا زمیںاُلجھنیں سلجھنے لگیں۔نئے زمانے کا مایوس و منکر فرد مناسب اور معتبر راستوں کا مسافر ہوا۔ واصف صاحب نے کلام کیا، مکالمے کا از سرِ نو ڈول ڈالا اور اپنی خلوت کے مشاہدات و تجربات کو جلوت میں عام کرنے لگے۔ یہ بیسویں صدی کے آخری تین دھاکوں کی بات ہے جب وطنِ عزیز کی فضاﺅںمیں بے کسی اور بے چینی کے بادل اُمڈ چکے تھے اور سمتیں ان کالی گھٹاﺅں میں کہیں کھو رہی تھیں۔ واصف صاحب کی محافل میں سوال و جواب کا سلسلہ چلتا ‘ محبت کی بات ہوتی اور یوں فرد کا فرد سے کمزور ہوتا ہواتعلق آشنائی کے مضبوط دھاگوں میں بندھتا چلا جاتا۔ تربیت کا انداز بالکل بالواسطہ ہوتا۔ بات مجاز کے پیرائے میں ہوتی لیکن حقیقت کی طرف اشارے کرتی ۔ اسلو ب مروجہ ہوتا لیکن روایت کے تمام عناصر سے مملو و مزین ۔ روح کے نہاں خانوں میں چراغ جلتے تو مخفی خزانوں کی خبر ہونے لگتی۔ اپنے اپنے کاندھوں پر اپنے مسئلوں کے بوجھ لے کر آنے والے ایک ڈیڑھ گھنٹے میں اپنا بوجھ ہلکا کرتے اور شانت ہوجاتے ۔ درد کی حقیقت اور آنسووں کے موتی شعور کی منزل بن جاتے۔ واصف صاحب بظاہر ایک سیدھے سادے انسان تھے لیکن ان کا طرز عمل انہیں خاص کا درجہ دیتارہا۔ انہوں نے دین و تصوف کی کسی اصطلاح کو استعمال کئے بغیر جو کچھ بھی کہا وہ دین اور تصوف کے دائرے سے باہر نہیں تھا۔ وہ مروجہ اسلوب میں وہ سب کچھ کہتے رہے جو نبی صل اللھ علیھ وسلم آخرالزماں سے منکشف ہے ۔ وہ اندر کی پاکیزگی کو معتبر جانتے اور تضادات اور تعصبات کی نفی کر کے ایک مثالی معاشرے کی تعمیر کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ان کی محبت اور عقیدت کا مرکز و محور محمد مصطفےٰ صل اللھ علیھ وسلم کی ذات ِ عالی مقام تھی اور اُنہی کی سنّت پر عمل کا درس دے کر وہ حرکت و عمل کے بکھرے نظام کو منضبط کرنے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ کاش وطنِ عزیز میں فکرِ محمدی کا بول بالا ہو اورعیسیٰ علیھ السلام کی بھیڑوں سے بدتر اُمّت کو نویدِ صبح ملے ۔ آمین!!

ڈاکٹر ناہید شاہد

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!