حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ” دل دریا سمندر “سے انتخاب
انسان ، انسان سے مقابلہ کرنے کو کامیابی اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ زندگی کو زمانے سے مقابلہ کرنا ہے‘ بادِ مخالف سے ٹکرانا ہے‘ زندگی کو راہ کی دیواریں گرانا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے:
”انسان کی راہ میں ستم ہائے روزگار حائل ہیں“
”انسان کو گردشِ لیل و نہار سے مردانہ وار گزرنا ہے“
”انسان مسافر ہے‘ جس کی راہ میں فاصلے کی دیوار ہے“
”انسان کو انسانوں کے اژدہام سے راستہ لینا ہے“
”انسان کو فطرت کے ظلم سے نجات حاصل کرنا ہے“
”انسان کو خطرناک ‘ ناہموار ‘ اونچے اور دشوار پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنا ہے“
”انسان کا ہر شے سے ‘ ہر موسم سے ‘ ہر انسان سے ‘ ہر بات سے مقابلہ ہے“
”انسان کی زندگی آزمائشوں کی زندگی ہے‘ دشواریوں کا زمانہ ہے‘ دکھوں اور آہوں کا تسلسل ہے۔اور یہ زندگی انسان کے لیے ایک مشکل امتحان ہے‘ ایک کڑی منزل ہے‘ ایک بے آب و گیاہ صحرا ہے“
”انسان ایک کشتی کی طرح سمندر کی تند موجوں کے رحم و کرم پر ہے“
”انسان دنیا میں اس لیے آتا ہے کہ وہ ایک شیشے کی طرح پتھروں سے ٹکراتا چلاجائے انسان اس بے رحم جہاں میں ظالم فلک کے نیچے اپنی قوتِ برداشت کو ڈھال بنائے‘ اپنے جذبے کو تلوار بنائے‘ اپنے حوصلے کو بلند رکھے اور انجام کاراِس دشمنِ جاں زمانے کو زیر کرے “
”انسان کو صرف کوشش اور مسلسل کوشش‘ صرف مقابلے اور مسلسل مقابلے کے لیے پیدا کیا گیا ہے“
” انسان کی راہیں اس کی بے مائیگی نے مسدود کر رکھی ہیں۔انسان کو انسان سے بچناہے کیونکہ انسان انسان کو ڈستا ہے ۔انسان ‘ انسان کو ہڑپ کر لیتا ہے‘ نگل جاتا ہے۔ انسان ‘ انسان کا استحصال کرتا ہے۔ انسان ‘ انسان کو مجبوریاں دیتا ہے۔ انسان‘ انسان کاسکون برباد کرتا ہے۔ انسان‘ انسان کا سرمایہ لُوٹ لیتا ہے۔ انسان‘ انسان کی عزت خاک میں ملاتا ہے۔ انسان‘ انسان کو حیوان بنا کے رکھ دیتا ہے۔ انسان‘ انسان سے نجات صرف مقابلے سے ہی پا سکتا ہے۔ مقابلہ نہ ہو تو انسان‘ انسان نہیں بن سکتا ‘ ترقی نہیں کر سکتا‘ مہذب نہیں ہو سکتا‘ متمدن نہیں ہو سکتا بلکہ کچھ بھی نہیں ہو سکتا“
مقابلے کا یہ تصور انسان کو اس کی اعلیٰ روحانی اقدار سے محروم کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔ مقابلہ بین الطبقاتی ہو یا بین الاقوامی ، ایک بے روح‘ مادی اور غیر فطری وباءہے۔ زندگی کسی مقابلے کا نام نہیں۔ زندگی تو بس زندگی ہے ‘ ایک عطا ہے‘ ایک انعام ہے‘ ایک نوازش ہے‘ ایک ایسا کرم جس کے لیے شکر ضروری ہے۔
تاریخِ عالم فتوحات و شکست ‘ جرائم و سزا کا ایک ریکارڈ ہی نہیں بلکہ یہ محسنین کی داستان بھی ہے۔ مقابلہ کرنے والا کچھ لینا چاہتا ہے اور محسن کچھ دینا چاہتا ہے۔ بادشاہ مقابلے کرتے رہے اور آخر کار کھنڈرات کی شکل میں اپنی عبرت کی داستان چھوڑ گئے۔ ظلِّ سبحانی اور عالم پناہ کہلانے والے آنجہانی اور فانی ثابت ہوئے۔
مقابلہ انسانوں میں نفرت کا بیج بوتا ہے اور مقابلے کی انتہائی شکل جنگ ہے، تباہی اور بربادی۔انسانوں کی کھوپڑیوں پر بیٹھ کر شاہی فرمان جاری کرنے والے ہلاکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قابلِ نفرت رہے۔
انسانی خون کے دریا بہانے والے آخر اسی دریا میںغلطاں نظر آئے۔ مقابلہ اپنے لیے فتح چاہتا ہے اور دوسروں کے لیے شکست اور یہی مقابلے کی برائی ہے۔
زندگی کو جہادِ مسلسل کہنے اور اسے جد و جہد گرداننے والوں نے نہ جانے اسے کیا کیا بنا دیا۔ ہر ایک سے الجھنا ‘ ہر مقام پر لڑنا‘ ہر بات پر بحث‘ ہر امر پر تبصرہ‘ ہر انسان سے دست و گریبانیاں ‘ ہر موضوعِ سخن پر لن ترانیاں‘ ہر شے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنا‘ ہر ایک کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہنا‘ ہر مقام اور صاحبِ مقام کی خامی بلکہ خامیاں تلاش کرنا‘ ہر نظام پر برہم ہونا‘ نکلتے سورج سے خائف رہنا‘ ڈوبنے والے ستاروں سے نالاں رہنا‘ صاحبِ حیثیت کو صاحبِ استحصال کہنا‘ غریب کو بزدلی اور بے غیرتی کے طعنے دینا‘ اپنے ماں باپ سے ناراض‘ اپنی اولاد کے شاکی‘ اپنے وجود سے بیزار‘ دوسروں سے برسرِ پیکار‘ زندگی کو تیشہ¿ جاں اور حالات کو سنگِ گراں کہتے رہنا‘ خود کو ناقابلِ فہم کربِ مستقل میں مبتلا پانا‘ ہر طرف ظلم ‘ استحصال دیکھنا‘ ہر جہاز کو پانی کی تہہ میں اترتے دیکھنا‘ ہر سفر کو مجبوری‘ ہر واقعے کو حادثہ کہنا‘ محبت کرنے والوں کو احمق سمجھنا‘ اپنی خود ساختہ دانائی کے قطب مینار سے زمین پر رینگنے والے ”کیڑے مکوڑوں“ کو تمسخر سے دیکھنا‘ کاوشِ پیہم کا راگ الاپنا غرضیکہ ہمہ حال بد حال رہنا ہی ایسے لوگوں کا مزاج بن کر رہ جاتا ہے۔
زندگی کو احمقانہ جھگڑالو پن سے علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ نعمت ایک احسان ہے‘ ایک تحفہ ہے‘ ایک مسکراتا ہوا پھول ہے‘ خوشبو اور رنگوں کا امتزاج۔ زندگی رواں دواں ایک پاکیزہ دریا ہے‘ جو کناروں کو سیراب کرتا ہوا چلتا رہتا ہے۔ فیض ہی فیض تعاون ہی تعاون‘ برکت ہی برکت
انسان کو کیا ہو گیا ہے۔ انسان کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ اس مسیحا کو کیا عارضہ لاحق ہے۔ اس معالج کو کیا روگ لگ گیا ہے‘ اس اشرف نے ہر شرف برباد کر دیا ہے۔
ہمیشہ رہنے کی خواہش نے زندگی کو عذاب بنادیا ہے۔ انسان زندہ رہنے کے لیے مرتا جا رہا ہے‘ سسکتا جا رہاہے۔ ہر شے کو ڈراتے ڈراتے خود ہی سہم گیا ہے۔
زندگی کو جہادِ مسلسل کہنے اور اسے جد و جہد گرداننے والوں نے نہ جانے اسے کیا کیا بنا دیا۔ ہر ایک سے الجھنا ‘ ہر مقام پر لڑنا‘ ہر بات پر بحث‘ ہر امر پر تبصرہ‘ ہر انسان سے دست و گریبانیاں ‘ ہر موضوعِ سخن پر لن ترانیاں‘ ہر شے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنا‘ ہر ایک کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہنا‘ ہر مقام اور صاحبِ مقام کی خامی بلکہ خامیاں تلاش کرنا….
انسان کے اندر موہوم خطرات کے الارم بج رہے ہیں‘ صحت بیماری کی زد میں ہے‘ بیماری ڈاکٹر کے عذاب میں ہے۔ مسافر رہزن سے لرزاں ہے۔ اچانک کسی انہونی کے ہونے کا اندیشہ کھائے چلا جا رہا ہے۔
آج کے انسان کا یقین متزلزل ہے۔ اس کا ایمان ختم ہو چکا ہے۔وہ بھوکا ہے مال کا‘ اسے ڈر ہے غریب ہونے کا‘ اس لیے اسے نفرت ہے ماضی سے‘ حال سے‘ مستقبل سے۔ اسے مقابلے کی دعوت ہے۔ اسے مقابلے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسے مقابلے کی اہمیت سکھائی گئی ہے اور اسی تعلیم میں اس کی صفاتِ عالیہ ختم ہو گئی ہیں۔
جب تک انسان اپنے عقیدے کی اصلاح نہیں کرتا ‘ وہ اسی طرح سرگرداں رہے گا۔ وہ ٹکراتا رہے گا‘ اپنا سر پھوڑتا رہے گا‘ زندگی کا گلہ کرتا رہے گا‘ زندگی سے الجھا رہے گا اور اسی الجھاﺅ میںاس کی سانس اکھڑ جائے گی اور پھر یہ سارے مقابلے‘ ساری فتوحات‘ سارے تمغے‘ سارے سرٹیفیکیٹ‘ سارے سرمائے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
وہ دنیا سے اپنے حاصل کو لاحاصل چھوڑتا ہوا رخصت ہو جائے گا آندھی اور چراغ کو بر سرِ پیکار دیکھنے والوں نے زندگی کو کیا دیکھا آنکھ والے اندھے رہے۔
آندھی آتی ہے‘ چڑیا کا نشیمن اُڑ جاتا ہے۔ صبح وہی چڑیا اپنی تسبیح و مناجات میں نغمہ سرا ہوتی ہے۔ اسے کسی واقعے اور سانحے کی پرواہ نہیں ۔ وہ بس مجسم تشکر ہے‘ سراپا نغمہ ۔
زندگی کو احمقانہ جھگڑالو پن سے علیحدہ کر کے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ نعمت ایک احسان ہے‘ ایک تحفہ ہے‘ ایک مسکراتا ہوا پھول ہے‘ خوشبو اور رنگوں کا امتزاج۔ زندگی رواں دواں ایک پاکیزہ دریا ہے ‘جو کناروں کو سیراب کرتا ہوا چلتا رہتا ہے۔ فیض ہی فیض تعاون ہی تعاون‘ برکت ہی برکت
انسان غور نہیں کرتا کہ اسے بنانے والے نے کیا بنایا اور کیسے بنایا انسان غور نہیں کرتا کہ اس کی بینائی کیا ہے آنکھ بنانے والے نے بینائی کو نظاروں کی خوراک مہیا کی ہے۔ نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے انسان نے خود کو کج بیں بنا کے رکھ دیا۔وہ حسن و رنگ تلاش کرنے کے بجائے ان کے نقائص کا متلاشی ہو کر رہ گیا ہے، اس لیے کہ اسے مقابلے کا علم دیا گیا ہے‘ مطالعے اور مشاہدے سے محروم ، مقابلہ ہی مقابلہ‘ جہالت ہی جہالت‘ حماقت ہی حماقت۔
انسان محفوظ ہونے کی آرزو میں غیر محفوظ ہونا محسوس کرتا ہے اور اس احساس کو مقابلے کے میدان میں لے جا کر اپنی زندگی برباد کرتا رہا ہے۔ وہ پستول کو اپنی جان کا محافظ سمجھتا ہے اور خود پستول کی حفاظت کرتا رہتا ہے۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کون کس کا محافظ ہے۔
وہ دولت اکٹھی کرتا ہے تاکہ غریبی سے بچ سکے اور پھر اس دولت کو خرچ نہیں کرتا کہ غریب نہ ہو جائے اور اس طرح دولت کی موجودگی میں غریبانہ زندگی بسر کرتا ہوا آخر کار ہلاک ہو جاتا ہے۔ غریبی کا مقابلہ کرتا ہے اور غریبی ہی میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اپنے حال کے خود ہی مقابل ہے اور خود ہی خود کو ہلاک کرتا ہے۔
صاحبانِ عقل و بصیرت ! زندگی ایک مختصر عرصہ ہے‘ ایک محدود قیام‘ ایک قلیل دور۔ اسے بے مقصد دوڑ میں ضائع نہ کریں یہ محبت سے ملنے والا انعام ‘ محبت ہی کے لیے ہے۔ اسے نفرتوں اور جھگڑوں میں برباد نہ کیا جائے یہ خالق کی اطاعت اور پہچان کا زمانہ ہے‘ اسے مخلوق سے مقابلے میں خرچ نہ کیا جائے !
وہ امن چاہتا ہے اور اس کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے جنگ کی تیاری کرتا ہے۔ امن کی خاطر جنگ مقابلے کا کرشمہ ہے۔
انسان ترقی کرنا چاہتا ہے ‘ فیکٹریا ں لگاتا ہے‘ مکان بناتا ہے اور ہر لمحہ ‘ ہر لمحے سے مقابلہ کرتا ہوا فیکٹری اور مکان کو چھوڑتا ہوا ایک مٹی کے تاریک گھروندے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے روپوش ہو جاتا ہے۔
وہ بڑے بڑے ایّام مناتا ہے‘ یادیں مناتا ہے‘ مقابلے بیان کرتا ہے پرانے مقابلے‘ پرانے واٹر لُو پرانے پانی پت پرانے ابنِ قاسم‘ پرانے غزنوی پرانے سومنات
وہ پرانی فتوحات پر نئے چراغاں کرتا ہے پرانی خانقاہوں پر نئے عرس مناتا ہے اور نئے چراغاں کے باوجود اس کے اپنے دل میں پرانے اندھیرے رہتے ہیں انسان نہیں سمجھتا ۔ وہ کیسے سمجھے ؟ !! ڈھول کی تھاپ پر اور طبلے کی تال میں دھمال ڈالنے والا انسان بھول جاتا ہے کہ انسان کو عقل نام کی دولت بھی ملی ہوئی تھی۔ نہ جانے یہ دولت کہاں ضائع ہو گئی وہ تو صرف مقابلہ کرتا ہے ڈھول کا ڈھول سے‘ طبلے کا طبلے سے‘ آواز کا آواز سے اور اسی مقابلے میں اتنا محو ہوتا ہے کہ اصل واقع ہی بھول جاتا ہے۔ بس مقابلہ یاد رکھتا ہے، دما دم مست قلندر نعرے لگاتا ہوا غافل انسان خاموش ہو جاتا ہے۔ یادیں مناتا ہوا خود فراموش ہو جاتا ہے۔
اتنا پھیلو کہ سمٹنا مشکل نہ ہو‘ اتنا حاصل کرو کہ چھوڑنا مشکل نہ ہو۔ سکونِ قلب آسائشوں کے حصول سے نہیں‘ اصلاحِ ایمان سے حاصل ہو گا ترقی کسی ایسی دوڑ کا نام نہیں جس کے آگے آگے لالچ ہو اور اس کے پیچھے خوف اور ندامت۔ ترقی ٹھہرنے‘ دیکھنے اور لطف لینے کا نام ہے یہ مقابلے یہ گردشیں‘ یہ کوششیں ‘ یہ ہلاکتیں کس کام !!
عقیدے کی اصلاح نہ ہو تو مقابلہ جاری رہے گا۔ خیال کا مقابلہ وہم سے‘ ہوا کا مقابلہ ہوس سے‘ روایت کا مقابلہ حقائق سے‘ خواب کا مقابلہ حقیقت سے‘ مذہب کا مقابلہ ضرورت سے‘ ذات کا مقابلہ کائنات سے اور سیاست کا مقابلہ سیّاٰت سے۔
عقیدے کی اصلاح یہ ہے کہ ہم یقین کر لیں کہ زندگی دینے والے نے ان تین باتوں کا فیصلہ کر رکھا ہے:
۱۔ زندگی کتنا عرصہ قائم رہے گی اور کب ختم ہو جائے گی۔ اسے کوئی حادثہ وقت سے پہلے ختم نہیں کر سکتا اور کوئی احتیاط اسے وقت کے بعد قائم نہیں رکھ سکتی۔ جب عرصہ¿ قیام مقرر ہو چکا‘ تو مقابلہ کیا ہے۔زندگی کا انجام جب موت ہی ہے ‘ تو پھر یہ کوشش اور مقابلہ کیا ہے؟
۲۔ عزّت اور ذلّت کوشش کے درجے نہیں ‘ نصیب کے مقامات ہیں۔ ذرّے کو آفتاب کب بننا ہے اور آفتاب کو گرہن کب لگنا ہے ‘ اس کا فیصلہ ہو چکا پیدائش کے ساتھ ہی نیک نامی اور بدنامی کے ایام پیدا ہو جاتے ہیں اب مقابلہ کس بات کا؟
۳۔ رزق مقرر ہو چکا مال کا رزق ‘ سانس کا رزق‘ بینائی کا رزق‘ عقل کا رزق‘ ایمان و ایقان کا رزق۔ کوئی کوتاہی خوشحالی کو زوال نہیں دے سکتی۔ یہ فیصلہ ہو چکا۔ مقابلہ واہمہ ہے۔
تو ….صاحبانِ عقل و بصیرت ! زندگی ایک مختصر عرصہ ہے، ایک محدود قیام‘ ایک قلیل دور۔ اسے بے مقصد دوڑ میں ضائع نہ کریں یہ محبت سے ملنے والا انعام ‘ محبت ہی کے لیے ہے۔ اسے نفرتوں اور جھگڑوں میں برباد نہ کیا جائے یہ خالق کی اطاعت اور پہچان کا زمانہ ہے ‘ اسے مخلوق سے مقابلے میں خرچ نہ کیا جائے یہ ایثار اور خدمت کے لیے ہے۔ اسے ہلاکت کی نظر نہ کیا جائے یہ متاعِ قلیل ہے ‘ کافرانہ طرزِ حیات کی تمنا میں صرف نہ کی جائے۔ اتنا پھیلو کہ سمٹنا مشکل نہ ہو، اتنا حاصل کرو کہ چھوڑنا مشکل نہ ہو۔ سکونِ قلب آسائشوں کے حصول سے نہیں‘ اصلاحِ ایمان سے حاصل ہو گا ترقی کسی ایسی دوڑ کا نام نہیں جس کے آگے آگے لالچ ہو اور اس کے پیچھے خوف اور ندامت۔ ترقی…. ٹھہرنے‘ دیکھنے اور لطف لینے کا نام ہے یہ مقابلے یہ گردشیں‘ یہ کوششیں ‘ یہ ہلاکتیں کس کام !!
ترقی خوبصورت اثاثوں کا نام نہیں‘ بلکہ خوبصورت احساس کا نام ہے‘ خوبصورت دل کا نام ہے۔ مکانات ترقی یافتہ نہیں ہوتے ‘ مکین ترقی یافتہ ہوتے ہیںاور مکین انسان ہیں اور انسان کبھی سکون نہیں پائے گا ، مگر اپنے خالق کے تقرب میں اشیاءکا تقرب ہمیں افراد سے دُور لے جا رہا ہے اور انجام کار مقابلہ کرتے کرتے ہم اپنے آپ سے بہت دور نکل جاتے ہیں اور جب ہم ہی ہم نہ رہے تو مقابلوں سے کیا حاصل ؟


Life is somone’s great bestowel.
زندگی کو جہادِ مسلسل کہنے اور اسے جد و جہد گرداننے والوں نے نہ جانے اسے کیا کیا بنا دیا۔ ہر ایک سے الجھنا ‘ ہر مقام پر لڑنا‘ ہر بات پر بحث‘ ہر امر پر تبصرہ‘ ہر انسان سے دست و گریبانیاں ‘ ہر موضوعِ سخن پر لن ترانیاں‘ ہر شے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنا‘ ہر ایک کو نیچا دکھانے کے لیے کوشاں رہنا‘ ہر مقام اور صاحبِ مقام کی خامی بلکہ خامیاں تلاش کرنا