کردار ساز اقوال

اقوال کسی بھی مفکر کی تعلیمات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ذخیرہ اقوال کا مطالعہ کرنے سے ہمارے لئے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ہم کم سے کم وقت میں زیادہ افکار تک رسائی حاصل کر سکیں۔ایک صاحب ِ دانش کی تعلیمات کو اگر ایک درخت سے تشبیہ دی جائے تو اقوال اس شجرِ سایہ دار کا پھل ہوتے ہیں۔یو ں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اقوال کی صورت میںصدیوں کے تجربات چند لمحوں میں ہمارے حاشیہ¿ ذہن پر پھیل جاتے ہیں۔

تاریخِ اقوامِ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ مشاہیر کے اقوال نے قوموں کی زندگی میں کیا کیاانقلابات پیدا کیے۔ حضرت علامہ اقبال کا قول ہے کہ قومیںشاعروں کے تخیل میں جنم لیتی ہیں ….“

دورِ جدید میں ہم دیکھتے ہیںکہ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہی جس فکر نے انسانی ذہن کو اپنے طلسم میں لے رکھا ہے وہ ڈارون کا فکرDarwinian thought) ( ہے ۔ اس فکر نے انسانی ذہن کو مادہ پرستی سکھائی ہے۔ ایسے ایسے نعرہ نما اقوال انسانی معاشرے میں عام ہوگئے کہ خودغرضی اور نفس پرستی ایک نارم (norm)بن گئے اور اخلاص ‘ ایثار اور قناعت ماضی کے قصے بن کر رہ گئے ۔ مثلاً آپ ان کلیشے پر غور کریں جو عام روزمرّہ زندگی میں زبان زدِ عام ہیں ….struggle for existence …. survival of the fittest…. cut throat competition…. اس قسم کے اقوال غیر محسوس طریقے پر ہمیں ایک مہذب معاشرے کی بجائے جنگ اور جنگل کے ماحول میں لے کر جارہے ہیں ۔اِرتقاءاور ترقی کے نام پر ترقی ¿ معکوس کا یہ عمل گزشتہ چار سو سال سے جاری ہے۔ اس فکر کے برعکس ہماری خوش قسمتی ہے کہ آج کے دور میں ہمیں واصفؒ خیال (wasfian thought) سے آگاہی حاصل ہوئی ۔ یہ فکر ہمیں اخلاقی طور پر توانا کرتاہے۔ واصف خیال …. تسلیم و رضا ‘ ایثار اورقناعت جیسے جوہر کو ہمارے وجود میں اُجالتاہے۔واصف ؒ خیال ہمیں رفعتِ خیال کی دنیا میں لے جاتاہے جہاں بلند پروازی اور بلند نگاہی سے ہمیں آگاہی حاصل ہوتی ہے ۔

حضرت واصف علی واصفؒ کی کتابیں دانش کا مرقع ہیں۔ان کتابوں کے مطالعے سے روح کو غذا‘ قلب کو تقویت اور عمل کو تحریک ملتی ہے۔یہ کتابیں اپنی افادیت کے اعتبار سے ہزاروں کتابوں پر بھاری ہیں۔ہمارے اخلاقی ادب میں اقوالِ زریں کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔واصفؒ صاحب کی دانش دراصل انسانی تجربات کی وراثت ہے اور یہ تجربات ہر خطے‘ ملک‘ قوم اور ملت میں قریباµیکساںہوتے ہیں۔لہٰذا ہم سب کو مل کر اس مشترکہ میراث کو آگے بڑھانا چاہیے۔
بلاغت کی نہج سے دیکھا جائے تو اقوالِ واصف ؒ ہمیں ”نہج البلاغہ“ یاد دلاتے ہیں ۔ واصف ؒ صاحب کا ایک اپنا قول ہے کہ ” بلیغ کلام وہ ہوتاہے جس میں الفاظ کم سے کم ہوں اور معانی زیادہ سے زیادہ“ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو کلام واصفؒ کی ہر دوسری سطر ایک قول ِ بلیغ ہے ۔ آپ ہاتھ میں اگر highlighter پکڑ لیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتاہے کہ کس سطر کو مارک کیا جائے اور کس سے صرفِ نظر کیا جائے۔ دوسری طرف اقوال ِ واصف ؒ اخلاقی اقدارکو دل میں راسخ کرنے اور مثبت سوچ کی طرف ذہن کو راغب کرنے میں قابل ِمثال حد تک اثر پذیر ہیں ۔ قرونِ وسطیٰ میں روحانی اوراخلاقی اقدار کی ترویج اور کردار سازی کیلئے جو کام حکایات ِ سعدی ؒ اور مثنوی مولانا روم ؒ نے کیا تھا ، بعینہ یہی کام اقوال ِ واصف ؒ کر رہے ہیں۔
آج کے ملٹی میڈیا دَور میں جہاں ماس کمیونیکیشن ایک سائنس کی حیثیت اختیار کر گئی ہے ‘ اقوال کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں حکایات اور طویل مضامین پڑھنے اور پڑھ کر سنانے کا رواج ایک قصہ ¿ ماضی بن کر رہ گیا ہے۔ ایسے میں اقوال واصف ؒ کی صورت میں ہمارے پاس ready made اور readily available صورت میں اسلامی اور اخلاقی تعلیمات کا ایک خزانہ موجود ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی قوم میں کردار سازی کے حوالے سے اس خزانے سے کما حقہ¾ فائدہ اٹھائیں۔
واصفؒ صاحب کی کتابوں کی نئی نسل کو بہت ضرورت ہے کیونکہ ہماری نسل جس ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے اس میں مفاد پرستی‘ جذباتیت اور سطحیت عام ہے۔ زندگی کی اس تیز ترین دوڑ میں والدین کے لئے ممکن نہیں رہا کہ وہ بچوں پر زیادہ وقت صرف کریں حالانکہ ان نونہالانِ وطن کو وقت دینا ہمارا دینی‘ ملی اور قومی فریضہ بنتا ہے۔آج متمدن قوموں نے اپنے ہاں افراد کی تربیت اور اداروں کی تشکیل پر بہت محنت کی اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔اسلام‘ جس کا امتیاز ہی شخصیت سازی اور افراد کی تیاری اور تربیت تھا‘ مسلمان اس سے غافل ہو گئے تو زوال اور ناکامیوں نے انہیں گھیر لیا۔آج اس سے نجات کا واحد طریقہ نئی نسل کی مضبوط خطوط پر تربیت ہے۔اس مقصد میںواصفؒ صاحب کی کتابیں بہت معاون ہیں۔ان کتابوں سے استفادے کے حوالے سے ایک تجویز پیشِ نظر ہے۔وہ یہ کہ روزانہ ان کتابوں سے کسی ایک زریں قول کا انتخاب کیا جائے اور اسے اپنے گھر ، دفتر، سکول یا کسی مناسب جگہ پر‘ نمایاں مقام پر ‘ وائٹ بورڈیابلیک بورڈ پر اسے لکھ دیا جائے تا کہ اس مقام پر مصروفِ کار افراد کی نظر اس پر پڑتی رہے۔اساتذہ بچوں کے ہوم ورک کاپیز پر بھی روزانہ ایک قول تحریر کر سکتے ہیں۔اس طرح زندگی کے سنہرے اصول بچوں و نوجوانوں اور عام افراد کو ذہن نشین ہو جائیں گے۔
یہ ممکن ہے کہ کوئی ایک قول یا حکمت کی بات کسی شخص کی زندگی میںانقلاب لے آئے۔اس طرح یہ کتابیں ہر گھر، سکول اور ادارے کی لازمی ضرورت ہیں۔ جہاں ہم زندگی گزارنے کے لئے بے شمار سامان ِ زیست جمع کرتے ہیں‘ اللہ کرے اس میں واصفؒ صاحب کی کتابیں ہماری پہلی ترجیح ہوں۔کتاب سے دوستی رکھنے والی قومیں زندگی کی دوڑ میں کبھی پیچھے نہیں رہتیں۔واصفؒ صاحب کے افکار نصاب میں شامل ہونے چاہیئں کیونکہ ان میں انسانی تمدن و معاشرت کے وہ جامع اور اٹل اصول بیان کئے گئے ہیں جو اپنی جگہ نایاب ہیں۔انسانی قلوب میں نورانیت کا سامان مہیا کرنے والی یہ کتابیں انسان کو اخلاقِ رزیلہ سے بچا کر اخلاقِ حمیدہ کے اعلیٰ مدارج تک پہنچاتی ہیں۔

واصفؒ صاحب کے افکار میں سب سے نمایاں خصوصیت ”امید “ ہے۔

ز پاکستان نور ہے۔۔۔نور کو زوال نہیں!
ز ایک انسان نے کہا کہ جب مر ہی جانا ہے تو عمل کیا کرنا؟ دوسرے نے کہا‘ چونکہ مر
ہی جانا ہے اس لئے تو عمل ضروری ہے۔
ز مایوسیوں کی دیواروں میںاُ س کی رحمت اُمید کے دروازے کھولتی رہتی ہے۔
ز انسان پر راستہ کبھی بند نہیں ہوتا…. ہر دیوار کے اندر دروازہ ہے ‘ جس میں سے
مسافرگزرتے رہتے ہیں۔
ز اِنتظار ترک نہ کیا جائے ‘ رحمت ہوگی ، اُمید کا چراغ جلے گا۔
ز رحم اس فضل کو کہتے ہیں ‘ جو انسانوں پر ان کی خامیوں کے باوجود کیاجائے۔
ز دامن ِ اعمال خالی ہوتو ہو‘دامن ِ رحمت تو بھراہواہے !
آپ ؒ کے اقوال انسانی کردار میں بلند خیالی کا جوہر پیدا کرتے ہیں :
ز پست خیال انسان اپنے وجود کو پالتا ہے اور بلند خیال انسان اپنے وجود کو اُجالتاہے۔
ز بلند خیال اِنسان اَشیاءکے حصول اور اَپنے حصول پر غرور سے آزاد ہوتا ہے۔
آپ ؒ کے اقوال فصاحت و بلاغت کا ایک شاہکار ہیں اور ایک ایک قول اپنے اندر ایک پورا تھیسس thesis لئے ہوئے ہے۔آپ ؒ کے بیشتر اقوال ایک ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں:
ز دوسروں میں جہالت تلاش کرنا جاہلوں کا کام ہے۔
ز کوشش کو اگر ہاتھی کہہ لیا جائے تو نصیب ابابیل کی کنکر ی ہے۔
ز دوسروں کی خامی‘ آپ کی خوبی نہیں بن سکتی۔
ز سب سے بڑی قوّت ‘قوّتِ برداشت ہے۔
ز چھوٹے آدمی کو چھوٹا نہ سمجھو‘ بڑا آدمی بڑا نہ رہے گا۔
ز خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش رہے۔
ز جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے اور اللہ جو کرتا ہے‘ صحیح کرتا ہے۔
ز پریشانی حالات سے نہیں ‘ خیالات سے ہوتی ہے۔
ز اشکوں کے موتیوں کی مالا عالمِ بالا کی خبر لاتی ہے۔
ز جب ہماری تمنّا کے پاو¿ں حاصل کی چادر سے باہر نکل جاتے ہیں توہمیں سکون نہیں ملتا
ز بے علمی بد علمی سے بدرجہا بہتر ہے۔
ز ہم لوگ فرعون کی زندگی چاہتے اور موسٰیؑ کی عاقبت۔
ز زندگی صرف نیوٹن ہی نہیں ‘ ملٹن بھی ہے۔

byقاسم علی شاہ

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!