All posts in Edition 8

مزاج ….سفر ….اورمنزل

ہم مزاج ہونا …. ہم سفر ہونا ہے …. اور ہم سفر ہونا ‘ہم منزل ہوناہے …. جلد یا بدیر!! دراصل ہم مزاج ہی ہم جنس ہوتا ہے….اور لوازماتِ سفر میں یہ لازم ہے کہ غیر جنس کے ساتھ کبھی عازم ِ سفر نہ ہونا چاہئے ….

بارگاہِ صمدیت میں

تو ایک قلزمِ رحمت وسیع و بے پایاں
میں ریگزارِ تمنا میں تشنہ باراں

معراج کی رات

بامِ اقصیٰ سے چلا رشکِ قمر آج کی رات
فرشِ رہ ہو گئی تاروں کی نظر آج کی رات

لا فتیٰ

بس رہی ہے فضاﺅں میں خوشبو
پھر کھنکنے لگے ہیں جام و سُبو

خواجہ جی

خواجہ رحمتہ اللہ علیہ ملن کی پیاس ہے دل میں نینوں میں برساتیں ہیں
تنہائی کے چُپ آنگن میں میری اُس سے باتیں ہیں

منفعت

منفعت طلبی یا افادیت پرستی یا سادہ الفاظ میں فائدے کی تمنایا خود غرضی کا سفر بڑا ہی بے رونق اور بے کیف سا سفر ہے۔ انسان ہر حال میں اگر یہی سوچتا رہے کہ اُس کا فائدہ کس بات میں ہے تو وہ اس کائنات سے کٹ کر رہ جائے گا۔ ہر بات تو انسان کی منفعت کے لیے نہیں۔ یہ کائنات دوسروں کی منفعت کی بھی کائنات ہے۔

غزل الغزلات

روشنی ‘ کائنات کی خوشبو
چار سُو حُسنِ ذات کی خوشبو

مقابلہ

انسان ، انسان سے مقابلہ کرنے کو کامیابی اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ زندگی کو زمانے سے مقابلہ کرنا ہے‘ بادِ مخالف سے ٹکرانا ہے‘ زندگی کو راہ کی دیواریں گرانا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے:

اقتباساتِ گفتگو

٭ اللہ کے نزدیک سب سے اچھا کام ہر انسان کے حوالے سے الگ الگ ہے۔ سب سے اچھا کام وہ ہے ‘جو اللہ کے سب سے اچھے بندے کے لیے کیا جائے۔ اللہ کے حبیب سے محبت کرنا سب سے اچھا کام ہے۔ درود پڑھنا سب سے اچھا کام ہے۔

رُخصتی

ہم پردیسی اس آنگن میں
دیس ہمارا دُور…. بابل یہ کیسا دستور
چھوڑ کے تیری نگری کو ہم
جانے پر مجبور…. بابل یہ کیسا دستور

توشہِ انتخاب

را زِ ہستی دعا کروکہ ہم کم از کم اپنی زندگی پر تو راضی رہیں۔بس! جو اپنی زندگی پر راضی ہو گیا وہی اللہ پر راضی ہو گیا اور جو اللہ پر راضی ہو ا‘ اللہ اس پر راضی ہو ا۔ جس اِنسان پر انسان راضی ہو گئے وہ رضائے الٰہی پا گیا۔جو انسانوں سے راضی رہا ‘ وہ رازِ ہستی پا گیا….یہی راز ہے۔

خوشبو کا جھونکا

خواتین و حضرات! جب واصف رحمتہ اللہ علیہ صاحب نے مجھے کہا کہ میں ”کرن کرن سورج“ پر مضمون پڑھوں تو میں حیران رہ گئی۔شاعری‘ القائے ربانی‘ خلیل جبران جیسی نثر‘ فلسفیانہ ملفوظات اور رب کی باتوں کو میں محسوس تو ضرور کرتی ہوں لیکن سمجھتی نہیں ہوں۔ کچھ خواتین کمرے میں گھستے ہی بتا دیتی ہیں

درد کا سفر.. درد سے واصف تک

”دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو“ خواجہ میر درد نے یہ بات بڑی سہولت سے شعری قالب میں ڈھال کر انسان کوصبر و تحمل کا درس دیا تھا۔ گویا اس کے تجربات و مشاہدات اور ریاضتوں کا مآحصل یہی سنہری بات تھی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ازل سے ابد تک پھیلے انسانی زندگی کے احوال و آثار اسی حقیقت میںپنہاں ہیں۔

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

علامہ اقبال رح جدید دانش اور قدیم حکمت کا نقطہ معراج تھے“ یہ الفاظ سید عطاءاللہ شاہ بخاری نے ایک محفل میں کہے تھے۔ علامہ اقبال رح کے وجود میں ظاہری اور باطنی علوم نے یکجا ہو کر انہیں دورِ حاضر کا ایک عظیم انسان بنا ڈالا۔ ان کا دماغ جدید و قدیم علوم کا خزانہ اور ان کا دل روحانیت کی آماجگاہ تھا۔

مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شروعات مروجہ اسلامی علوم اور سکول کے نصاب سے کی اور پھر ہر طرح کے ادوار سے گزرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر رائج علوم میںکامل دسترس حاصل کی۔ اس دوران میں وہ مشر ق اور مغرب کے فلاسفہ‘ حکماء‘دانش مندوں اور داناں کے علوم سے بھی بہرہ مند ہوئے ۔

کردار ساز اقوال

اقوال کسی بھی مفکر کی تعلیمات کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ذخیرہ اقوال کا مطالعہ کرنے سے ہمارے لئے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ہم کم سے کم وقت میں زیادہ افکار تک رسائی حاصل کر سکیں۔

سعدی اور واصف

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس کی محبت کے متوالوں کا عجب حال ہے۔خواہ انہیں زخم لگے خواہ مرہم ملے ‘ یہ وہ فقیر ہیں جو بادشاہی سے نفرت کرتے ہیں۔اس کی تمنا میں فقیری میں بھی صبر کرتے ہیں وہ مسلسل غم کی شراب پیتے ہیں۔زمانے کی تلخیاں دیکھتے ہیں پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔شراب کے سرور میں خمار کی بلا شامل ہے پھول کے بادشاہ کے ساتھ مسلح کانٹا بھی ہے۔

حضرت واصف علی واصف سکون کے پیغام کے پیغام بر

حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ صرف ایک نام نہیں بلکہ امید‘ آسرا‘ سہارا اور حوصلہ ہیں‘ ان لوگوں کے لئے بالخصوص جو شکستہ دل ہیں اور حالات کی گرفت میںہیں۔

منقبت

واصفؒ نے آدمی کو انساں بنا دیا
واصفؒ نے رنگ رنگ کو نیرنگ کر دیا

حضرت واصف علی واصف ..کچھ یادیں کچھ باتیں

جو بے چراغ گھروں کو چراغ دیتا ہے
اسے کہو کہ میرے شہر کی طرف آئے
اسی کے نام سے آنکھوں میں چاند اترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے