واصفؒ خیال

معروف صوفی دانشور‘شاعراور صاحب طرز ادیب حضرت واصف علی واصفؒ سے کون واقف نہیں۔ اُن کا آبائی تعلق ضلع خوشاب سے تھا تاہم ان کازیادہ وقت شہرِ ادب لاہور میںگزرا۔ واصف صاحبؒ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور انہوں نے 1962 ءمیں لاہور کے تاریخی بازار پرانی انار کلی کے چوک کے قریب نابھہ روڈ پر ”لاہور انگلش کالج“ کے نام سے ایک نجی تعلیمی ادارہ قائم کیا ۔ اس کالج میں صبح کے وقت میٹرک اور شام کے وقت ایف۔اے اور بی۔اے کی کلاسیں ہوتی تھیں۔ واصف صاحبؒ چونکہ ایک صاحبِ طرز شاعر بھی تھے اس لیے تدریس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اور طلباءکے ذوق کی خاطر یہاں مشاعرے اور ادبی مجالس کا اہتمام کروانا بھی شروع کیا۔ بقول میرزا ادیب”یہ ادارہ فقط ایک تدریسی ادارہ ہی نہ تھا ‘ شہر کے ادباءاور شعراءکی نشست گاہ بھی تھا۔ یہاں فرصت کے لمحوں میں علمی و ادبی باتیں بھی ہوتی تھیں اور تازہ نظمیں اور غزلیں بھی سنائی جاتی تھیں“۔اس کے علاوہ رات کے پچھلے پہر دیر گئے تک اس کالج میں ایسے لوگوں کی آمد و رفت رہتی جن کا تعلق تصوّف سے تھا۔

واصف صاحبؒ کے افکار و خیالات کی ترویج کے لیے ان کے وصال کے بعد ان کے ایک مریدِ خاص ڈاکٹر اظہر وحید نے ایک سہ ماہی ادبی مجّلہ” واصف ؒخیال“ کے نام سے شروع کیا ہے ‘جس کے اب تک پانچ شمارے منصہ¿ شہود پر آ چکے ہیں۔ زیرِ نظر شمارہ نمبر ۵ میں بطورِ مدیر ڈاکٹر اظہر وحید نے ” امید انتظار اور رحمت“ کے عنوان سے ایک خوبصورت اداریہ تحریر کیا ہے جس میں سے ذیل میں اقتباس پیش کیا جا رہا ہے:

”امید سے ہونا ایک فطری عمل ہے۔ فطرت امید کو بار آور کرتی ہے اور مایوسی کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔مایوس ہونا رحمت سے منقطع ہونا ہے۔ جو امیداور انتظار سے محروم ہوتا ہے رحمت سے منقطع ہوتا ہے دشمنِ دین و دل ہوتا ہے اور بےشک وہ جڑ کٹا ہوتا ہے۔ زمینی حقائق کا سبق دینے والا آسمانی اسباق بھول چکا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زمین کا زیرِ آسماں ہونا از خود ایک آسمانی حقیقت ہے۔ مایوس کن زمینی حقائق حق اور حقیقت سے دُور کر دیتے ہیں انسان کے سفر کو بوجھل کر دیتے ہیں اور اسے زمین سے اٹھنے سے پہلے ہی زمین بوس کر دیتے ہیں۔

بس چلتے چلیں اور امید اور انتظار کے دیے میں اپنے حصے کا تیل ڈالتے چلیں بعد میں آنے والوں کا راستہ روشن رہے گا اور اپنا مابعد !! سچ کہا مرشدِ صادق ؒ نے ” حسنِ انتظار ہی حسنِ عمل ہے“ اور یہ کہ :

آنے والے کمال کے دن ہیں
عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں

واصف صاحبؒ ایک عمدہ نثر نگار اور کالم نویس بھی تھے ، ان کے کالم برس ہا برس روزنامہ نوائے وقت میں ”گفتگو“ کے عنوان سے چھپتے رہے۔ ان کے کالم پڑھ کر لوگ دور دراز سے انہیں خط لکھتے اور اپنے مسائل بیان کرتے۔ واصف صاحبؒ اُن کے خطوں کے جواب با قاعدگی سے دیتے۔ اکثر لوگ ان کے کسی سابقہ اشاعت کے کالموں کے بارے میں استفسار کرتے۔ چنانچہ بعض احباب کی فرمائش پر آپؒ نے اپنے کالموں کی افادیت کے پیشِ نظر انہیں کتابی صورت میںشائع کرنے کا سلسلہ¿ شروع کیا۔ چنانچہ ان کے نوائے وقت میں چھپنے والے کالم ”دل دریا سمندر“، ”قطرہ قطرہ قلزم“ اور ”حرف حرف حقیقت“ کتابی صورت میں آج بھی ان کے افکار سے آگہی کا ذریعہ ہیں۔ زیرِ نظر شمارے میں بھی ان کی مذکورہ تصانیف میں سے اقتباسات قارئین کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔واصفیات کے گوشے میں واصف علی واصفؒ کی شعری و نثری نگارشات ” بندہ و بندہ نواز ، معراج کی رات ، وطن کا مجاہد ، خوش نصیب ، خوف اور شوق ، اقتباساتِ گفتگو شامل ہیں۔ واصف صاحبؒ کے حالاتِ زندگی اور ان کی علمی و ادبی خدمات اور ان کے صوفیانہ افکار پر مشتمل تحقیقی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں جن میں پروفیسر محمد ظہیر بدر کا لکھا مقالہ ”واصف علی واصف ؒ، احوال و آثار“ کتابی صورت میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ زیرِ نظر مجلے ”واصف ؒخیال“ میں بھی ان کا لکھا ہوا ایک کالم ”سورج بھی تماشائی“ شاملِ اشاعت ہے جو گوشہ¿ ”تفہیماتِ واصفؒ“ کے حوالے سے ایک اہم تحریر ہے۔ اس کے علاوہ معروف کالم نگار جاوید چودھری ،

محمد حمیر انور اور محمد اقبال انجم کی تحریریں بھی شامل ہیں۔

نوادراتِ واصفؒ میںآپ ؒ کے ایک غیر مطبوعہ خط کاعکسِ تحریر شامل ہے جبکہ واصفانِ واصفؒ اور فیضانِ واصفؒ کے گوشوں میں قاسم علی شاہ کی نثری اور محمدیوسف واصفی ‘ کامران شاہین اور کوثر محمود کے شعری ہدیہ¿ عقیدت شاملِ اشاعت ہیں۔ الغرض ”واصفؒ خیال“ واصف علی واصفؒ کے فن و شخصیت اور افکار سے روشناس ہونے کے لیے ایک اہم ادبی مجلہ ہے ۔ آخر میں واصف صاحبؒ کا ایک شعر:

ڈھلتا رہا خیال مرا حرف و صوت میں
تحلیلِ جاں کے بعد ملا گوہرِ سخن

by
کاظم جعفری

(روزنامہ ”الشرق “ کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہونے والے تبصرے پر مشتمل ایک تاثراتی کالم ۔
تبصرہ نگار محترم کاظم جعفری روزنامہ ”الشرق “کے ادبی ایڈیشن کے ایڈیٹر ہیں )

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!