حضرت واصف علی واصفؒ کی دعائیں

دنیا کی زندگی اور اس کے فوائد و لوازمات عارضی اور ناپائیدار ہیں کہ انسان کی آنکھ بند ہوتے ہی دنیا خواب و خیال ہو جاتی ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی اور پائیدار ہے۔ اس کے باوجود انسان کا دل دنیا کی آرزوﺅں‘ خواہشوں اور چاہتوں سے لبریز رہتا ہے۔ وہ تمام عمر اپنی خواہشوں کے حصول میں گزار دیتا ہے۔ جدوجہد کی توفیق بھی خدا تعالیٰ کی عطا ہے لیکن جب انسان کی تدبیریں ناکام اور کوششیں تھک کر چور ہو جاتی ہیں ‘ تب وہ سب سے بڑی قوت یعنی خدا تعالیٰ کے حضور رجوع کرتا ہے۔ اسے مدد کے لیے پکارتا ہے…. کبھی چپکے چپکے ‘ کبھی بلند آواز سے ‘ کبھی التجا کر کے ‘ کبھی آنسوﺅں کی زبان میں۔ اس پکار کا نام دعا ہے۔ خدا کاشکر ہے کہ اس نے انسان کو دعا کی تعلیم دی۔ دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ورنہ انسان کی بے بسی اسے نباتات و جمادات بنا کر رکھ دیتی۔ جن قوموں کے پاس دعا کا سہارا نہیں‘ ان میں خودکشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے ….کہ دعا جدوجہد کو راستہ دکھاتی ہے‘ تدبیروں کو روشنی فراہم کرتی ہے‘ اُمید کو بیدار رکھتی ہے‘ حوصلوں کو جوان رکھتی ہے اور انسان کو جینے کی اُمنگ عطا کرتی ہے ۔ دعا ذہن کی عکاس ہے ….اور روح کا نغمہ….کہ انسان جو کرنا چاہتا ہے‘ وہی سوچتا ہے اور جو سوچتا ہے وہی مانگتا ہے۔ اگر اپنی آرزو خدا سے بیان کی جائے تو وہ دعا کہلاتی ہے۔ دعا نہ صرف یہ کہ عبادت کا مغز ہے ….بلکہ دعاخود عبادت بھی ہے کیونکہ یہ انسان کے عجز کا اظہار ہے اور خدا کی عظمت کا اِقرار۔ قرآنِ پاک میں خدائے عزّ و جلّ کا ارشادِ گرامی ہے:

”اور اللہ آسمانوں اور زمینوں اور جو کچھ ان میں ہے‘ کا بادشاہ ہے۔“ وہ ایسا مالک ہے جو دے کر خوش ہوتا ہے ۔ دعا جہاں طالب کی تمنائے طلب کو متحرک رکھتی ہے ‘ وہاں خدائے بے نیاز کے اندازِدادودہش کے اظہار کاسبب بھی بنتی ہے ۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم اپنی کتاب ”من کی دنیا“میں قبولیت دعا کی سائینسی توجیہہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”امواجِ اثیر یا Cosmic Vibrations ایک سائینسی حقیقت ہیں جس میں نہ صرف بجلیوں کی کڑک ‘ طیارے کی پرواز یا ٹرین کی حرکت ہی سے لہریں اٹھتی ہیں بلکہ ایک ہلکی سی آواز یا تارِ رباب کی جنبش سے بھی وہاں ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ روح کی تازہ تحقیق کے مطابق وہاں ارادہ و خیال سے بھی لہریںاٹھنے لگتی ہیں۔ جب ہم کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد نیاز و گداز میں ڈوب کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں تو ہمارے اندرونی جذبات کی قوت (ایموشنل انرجی) کاسمک ورلڈ میں زبردست لہریں پیدا کرتی ہے ۔ جب یہ لہریں فیض رساں طاقتوں سے ٹکراتی ہیں تو انہیں بے چین کر دیتی ہیں۔ وہ یا تو خود ہماری مدد کو دوڑتی ہیں یا خیال کی کوئی لہر وہاں سے چھوڑتی ہیںجو ہمارے دماغ سے ٹکرا کرایک ایسی تجویز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں جس پر عمل پیرا ہونے سے ہماری تکلیف دور ہو جاتی ہے “
ایک مستشرق صوفی کیڈبیئر دعا کے متعلق کہتا ہے کہ”دعا کیا ہے؟ Cosmic World میں قوت کے خزانوں کا منہ کھول دینا“

حضرت شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں
گرچہ تیر از کماں ہمی گزرد از کماندار بیند اہل خرد
”اگرچہ تیر کمان سے گزرتا ہے۔ لیکن اہلِ خرد کو کمان کے پیچھے ایک کمان والا بھی نظر آتا ہے“
حضرت موسیٰؑ سے کسی نے پوچھا کہ جب اللہ کے تیر…. مرض‘ مرگ اور حادثات و غم کی صورت ہر سُو چل رہے ہوںتو ہم کیسے بچیں؟ تو آپؑ نے فرمایا تیر انداز کے پہلو میں آ جاﺅ۔
قرآنِ حکیم میںارشادِ خداوندی ہے:©©”ہمارے سوا کوئی ہے جو بے قرار و مضطرب کی پکار کا جواب دے“ ( نمل ۲۶)۔ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اللہ ہی اہلِ ایمان اور اہلِ کردار کی دعائیں سنتا ہے اور ان پر زیادہ نوازشات کرتا ہے“( شوریٰ ۶۲)۔قرآنِ حکیم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ُدعا کس کے حضور کی جائے۔ دعا کس طرح مانگی جائے یہ رہنمائی بھی قرآن ِ کریم سے ملتی ہے….”اللہ کے سب نام حسین ہیں ، اُن کے واسطے سے دعا مانگا کرو“ (اعراف ۰۸۱)۔یوں لگتاہے جیسے اللہ تعالیٰ نے دعائیں قبول کرنے کا ایک قانون وضع کر رکھا ہے۔ وہ قوموں یا افراد کی تقدیر سنوارنے کے لیے پہلے ایک صاحبِ دعا کا تقرر کرتا ہے۔ پھر اپنے بندہ¿ خاص کے لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ کا بھرم رکھتے ہوئے اس کی دعاقبول فرما لیتا ہے۔
قرآنِ حکیم انفرادی اور اجتماعی دعاﺅں کا خزانہ ہے جو مختلف انبیاءکرامؑ اور صالحین نے مختلف مواقع پر مانگیں ۔ اگر قرآنِ حکیم میں حضرت آدمؑ کی دعا اور حضرت یونسؑ کے قصے کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں دو دعائیں ملتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروںکو خود ہی عطا فرمائی ہیں:ایک حضرت آدم ؑکو تعلیم فرمائی …. ربّنا ظلمنا انفسنا واِن لّم تغفرلنا و ترحمنا لنکوننّ من الخسرین (اعراف ۳۲) …. اور دوسری دعا بھی استغفار ہے جس کی برکت سے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے رہائی نصیب ہوئی….لا الٰہ الاّ انت سبحنک انّی کنت من الظلمین ( انبیاء ۷۸)۔یہ دونوں دعائیں خود اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں عظیم الشان پیغمبروں کو ودیعت فرمائیں۔ جیسے کوئی مہربان افسر اپنے ماتحت کی خطا معاف کرنے کی غرض سے عرضی کے الفاظ بھی خود ہی بتادے۔ ان دعاﺅں کے علاوہ بھی قرآنِ حکیم انبیاءکرامؑ کی بہت سی دعاﺅں سے لبریز ہے۔
حضرت موسٰیؑ کو جب خدا تعالیٰ نے فرعون کے دربار میں جانے کا حکم فرمایا تو آپ نے اپنی لکنت کو محسوس کرتے ہوئے یہ دعا فرمائی۔”اے خدائے بزرگ و برتر! میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکے“ (طہٰ ۸۲)….حضرت ابراہیمؑ نے جب خدا کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل ؑ اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ ؓ کو مکّہ مکرّمہ کے لق و دق صحرا میں چھوڑا تو اپنی تمنا کو الفاظ کا جامہ اس طرح پہنایا:”اے ہمارے ربّ! میں نے بسایا ہے اپنی اولاد میں سے کچھ کو ایسی وادی میں جہاں کھیتی باڑی بھی نہیں ہوتی‘ تیرے محترم گھر کے قریب ‘ تاکہ وہ تیر ی نماز قائم کریں ( ابراہیم ۷۳)….حضرت ایّوبؑ نے بیماری کے عالم میں خدا کو پکارا”اور جب حضرت ایّوبؑ نے اپنے ربّ کو پکارا کہ مجھے سخت تکلیف پہنچی ہے تو سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے“( الانبیاء۳۸) ….فرعون کی بیوی حضرت آسیہؓ نے مسلمان ہونے کے بعد خدا کے حضور یہ دعا فرمائی:”انہوں نے اپنے ربّ سے عرض کی کہ میرے لیے جنت میں اپنے پاس گھر بنا دے“ (التحریم ۱۱)….حضرت نوحؑ نے نہایت ملتجی حالت میں اپنے ربّ سے دعا فرمائی: ” اے میرے ربّ میں مغلوب ہو گیا ہوں ، تُو میری مدد فرما“(القمر ۰۱)……..ان دعاﺅں کے علاوہ سورہ¿ اٰلِ عمران میں ایک بہت خوبصورت اجتماعی دعا موجود ہے۔”اے ہمارے ربّ ! ہمارے دل ٹیڑھے نہ کربعد اس کے کہ تُو نے ہمیں ہدایت بخشی اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ بے شک تُو بڑا عطا کرنے والا ہے“(آلِ عمران ۸)
قرآنِ حکیم کے علاوہ احادیثِ مبارک میں بھی انسانی زندگی کے تمام معاملات و حاجات کے متعلق بے شمار دعائیں ملتی ہیں۔ حضور رحمتِ عالم ﷺکی ظاہری زندگی میں ایک عام انسان کی زندگی کے تمام معاملات بھی موجود تھے۔ اسی لیے آپ کی تمام دعائیں بھی ہر انسان کے لیے قابلِ عمل ہیں۔ چاند دیکھنے کی دعا ، پانی پینے اور کھانا کھانے کی دعا، سفر کے آغازوانجام کی دعا، سونے اور جاگنے کی دعا، سورج اور چاند گرہن کی دعا، نئے کپڑے اور جوتا پہننے کی دعا، کھانے کے اختتام کی دعا، خوشی اور غم کی دعا۔
دعا دراصل ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا معاملہ ہے۔ ہر مشکل کو اُسی کی طرف لوٹانے کا عمل ہے۔ جس کی سب سے بہترین مثال سرکارِ عالی مقام ﷺ کے سفرِ طائف کی دعا ہے۔ جب کوشش کی راہیں اور نتائج کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوں تو یہ دعا مانگنے والوں کیلئے مشعلِ راہ بن جاتی ہے ۔آپ نے فرمایا:
” اے میرے خدا ! اے سب سے رحیم! تُو ہی ضعیفوںکا پروردگار ہے۔ تُو ہی میرا ربّ ہے۔ مجھے جس کے چاہے سپرد کر دے۔ اگر تیرا غضب مجھ پر نازل نہ ہو تو پھر مجھے کسی مصیبت کی کوئی پرواہ نہیں۔ لیکن تیری عافیّت و کرم زیادہ وسیع ہے۔ میں تیرے اس نور کے واسطے جس کی ضیا پاشی سے دنیا کے سب اندھیرے دور ہو گئے اور دنیا و آخرت کے سارے معاملے سلجھ گئے‘ میں تیرے غضب سے اور تیرے غصّے سے پناہ مانگتا ہوں۔ جب تک تُو راضی نہ ہو جائے‘ تیری رضا کا طلبگار رہوں گا۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت تیرے ہی عطا کرنے سے ہے“
تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو ہجرت ِ مدینہ سے لے کر فتح مکہ تک تاریخ اسلام کے تمام مراحل اسی دعاکی قبولیت کی داستان ہیں۔ سفرِ طائف درحقیقت سفرِمعراج کا دیباچہ ثابت ہوا۔
تاریخ ِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ بے شمار اولیائے کرامؒ منصبِ دعا پر فائزتھے ۔ لوگ ان کے پاس دعاﺅںکے لیے حاضر ہوتے اور مرادوں کی جھولیاں بھر کر لے جاتے۔ اُن میں عام آدمی سے لے کرکج کلاہوں اور بادشاہوں تک شامل ہوتے۔ اولیاءکرامؒ نے فیضِ دعا کو عام کردیا ۔ دعا اگر تقدیر سازہے تو پھر علامہ اقبالؒ کو خدا نے اُمت مسلم کی تقدیر سازی کے لیے پیدا فرمایا ۔ صاحب ِدعا ہوناایک مقام ہے …. وہ صاحبِ دعا تھے …. اوراپنے اشکِ سحر گاہی سے مسلمانوں کی بنجر روحوں کو سیراب کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی تدبیر کو دعا سے وابستہ کر رکھا تھا۔ ان کا سارا کلام لوحِ دعا پررقم ہے۔ بانگِ درا کی ایک دعا بہت ہی پُر اثر اور بلیغ ہے:

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
پھر وادی¿ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے پھر ذوقِ تقاضا دے
میں بلبلِ نالاں ہوں اک اُجڑے گلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں محتاج کو داتا دے

اور بہت سے دعائیہ اشعار سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بالِ جبریل کے ”ساقی نامہ“ کے آخری چند اشعار کا مطالعہ کیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنوں انگیز کیفیت اور بے تاب تمنّاﺅں کے حصار میں اقبالؒ کا پورا وجود دعا میں ڈھل گیا ہے لیکن اس میں صفاتِ الہٰی کا ذکر کس وارفتہ انداز میں کرتے ہیں:

ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر
جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق میری نظر بخش دے
تڑپنے بھڑکنے کی توفیق دے
دلِ مرتضےٰؑ سوزِ صدّیقؓ دے
دعا کی قبولیت کیلئے خدا کی ذات پرمکمل اعتماد اور الفاظِ دعا کی جامعیت کے علاوہ ذہن و قلب میں پوری ہم آہنگی بھی اہم ہے ۔حسن دہلوی اس کی تفسیر یوں کرتے ہیں:
حسن دعائے تو گر نیست مستجاب مرنج
ترا زبان دگر ، دل دگر ، دعا چہ کمند

”حسن اگر تیری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو رنج نہ کر کہ تیری زبان اور ہے ‘ دل اور ہے، دعا کیا کرے“
حضرت واصف علی واصفؒ زمانے کے لبِ آہ پر ایک دعا بن کر تشریف لائے۔ ان کی دعاﺅں میں ایک فرد سے لے کر پوری قوم تک کی آرزوئیں جھلکتی ہیں۔ انہوں نے حرفِ دعا ‘ اندازِ دعا اورفلسفہ¿ دعا پر پوری قدرتِ کلام سے روشنی ہی نہیں ڈالی بلکہ ہر دل کی آواز کو حسین ترین دعاﺅں میں ڈھال کر لوگوں کو دعا کی حقیقت سے آشنا کر دیاہے۔ ”دل دریا سمندر “ کے ایک مضمون ”دعا“ میں رقم طراز ہیں :

”ہاتھ اٹھانا بھی دعا ہے اور ملتجی نگاہ کا اٹھنا بھی دعا ہے۔ شبِ تاریک کی تنہائیوں میں ٹپکنے والا آنسو بھی دعا ہے۔ سرِ نیاز کا بے نیاز کے سامنے جھک جانا بھی دعا ہے۔ کسی بے بس کی نگاہ کا خاموشی سے سوئے فلک اٹھنا بھی دعا ہے۔ کسی مضطرب دل کی دھڑکن بھی دعا ہے۔ دعا دراصل ندا ہے، فریاد ہے مالک کے سامنے۔ دعا مانگنا شرط ہے ‘ منظوری شرط نہیں کیونکہ دعا پر اعتماد ‘ ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے“

آپ ؒنے دعا کے ضمن میں فرمایا کہ”تین چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چوتھی چیز نتیجہ ہے۔ تین چیزیں کیا ہیں ؟ ایک دعا کرنے والا ‘ ایک دعاسننے والا اور ایک ہے دعا کا انداز۔ پھر نتیجہ ہے کہ فوراََ منظور ہو یا کچھ دیر کے بعد“ آپ ؒ محفلِ سوال کے بعد اجتماعی دعا فرماتے۔ یہ دعا بڑی با معنی ‘ بلیغ اور ہمہ جہت ہوتی۔ محفل کا ہر سامع یہی سمجھتا کہ یہ میرے دل کی آواز ہے۔ یہ میری ہی آرزو کی کہانی ہے۔ایک محفل میں آپؒ نے دعا فرمائی:
” خدا تعالیٰ آپ لوگوں کی صحت قائم رکھے۔ آپ لوگوں پر جو اُفتاد پڑی ہے یا جو مشکلات پڑتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آسان کرے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے محسنوں کے قریب رکھے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس مشکل زمانے میں ایمان قائم رہے۔ اللہ آپ کا ایمان محفوظ رکھے اور غریبی کے باوجود ہمیں راضی رکھے۔ ہماری حفاظت تُو آپ ہی کر۔ ہم پر احسان کر۔ آسانی عطا کر اور مہربانی کر“

ایک اور محفل کے اختتام پر آپؒ نے دعا فرمائی:
”یا اللہ ! ہم لوگوں کو آخری وقت تک صحت اور عافیت سے رکھ۔ یا ربّ العالمین! جو ہمارے عزیز بیمار ہیں‘ ان کو شفا عطا فرما۔ جو لوگ اندیشے میں ہیں ان کے اندیشے دورفرما۔ جو لوگ ضرورت مند ہیں ان کی ضرورتیں پوری فرما اور جن کے حالات کمزور ہیں ان کے حالات بہتر فرما۔ یا ربّ العالمین! ہمیں دین اور دنیا کے اندر بہتری عطا فرما۔ اور استقامت عطا فرما۔ ہماری یہ زندگی اور وہ زندگی دونوں بہتر ہوں۔ اپنا فضل رکھ اور حبیب پاک ﷺ کی محبت عطا فرمائے رکھ۔ اللہ آپ کے گھروں میں سکون عطا فرمائے۔ گھروں میں رہنے والوں کو خوشی عطا فرمائے۔ جن صاحبان کے حالات میں کوئی کمی بیشی ہے اسے اللہ تعالیٰ پورا فرمائے۔ خدا آپ کو بہت خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے “

ایک محفل میں گفتگو کے بعد آپؒ نے دعا فرمائی کہ :
”اللہ تعالیٰ آپ کو شیطان سے بچائے۔ اپنے دین پر بدگمانی سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو نفس کے شر سے بچائے۔ دنیا کی محبت سے بچائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے رستے پر چلائے۔ اللہ کے راستے کا مطلب ہے اللہ کے پسندیدہ بندوں کاراستہ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنا پسندیدہ بندہ بنا لے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس دنیا سے آسانی کے ساتھ نکال لے۔ اور اپنی راہ پر چلائے اور ایسی زندگی عطا فرمائے کہ تم بھی راضی رہو اور اللہ کریم بھی راضی رہے“
ایک ایسی دعا جو سب کے لیے مفید ہے اور سب کی ضرورت ہے۔ آپؒ اکثر فرماتے کہ:”اللہ تعالیٰ سب کو آسانی عطافرمائے اور مشکل آسان ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگی کو آسان اور خوش بنا دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے گھروں کو قائم رکھے۔ یا ربّ العالمین ! ہم سب پر رحم فرما۔ ہمارے دین و دنیا کے حالات بہتر فرما۔ ایسی زندگی ہو کہ بزرگ راضی رہیں اور اولاد تابعدار رہے۔ اللہ آپ کو صحت کے ساتھ سلامت رکھے۔ یا اللہ !غریبی سے بچا۔ یااللہ ! اپنا خاص کرم فرما۔ یااللہ ! دلوں کا حال درست فرما۔ دلوں کو اپنی محبت سے آباد کر۔ آمین“

پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ اس سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے قیام اور استحکام کی خواہش اور کوشش میں اللہ والوں نے خصوصی دلچسپی رکھی ہے۔ حضرت واصفؒ نے اپنی بیشتر دعاﺅں میں پاکستان کا ذکر فرمایا ہے۔” گفتگو“ کے مختلف والیم اس بات کے گواہ ہیں کہ آپؒ نے بے شمار جگہ پاکستان اور پاکستانیوں کے حالات کے متعلق ، حکمرانوں کی اصلاح کے علاوہ کشمیر کی آزادی کے بارے میں بڑی درد مندی سے دعائیں کی ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں:
”یا ربّ العالمین ! ہمیں ملکی طور پر خوشحال بنا ۔ہمارے ملک کے حالات بہتر بنا۔ یا للہ ! اگر حکمرانوں میں کوئی نیکی ہے تو یہ ہم پر آشکار کر۔ اگر کوئی خامی ہے تو پھر کوئی بغیر خامی والا بھیج۔ یا اللہ ! پاکستان کے حالات آسان فرما۔ اس ملک کے لیے آسانی پیدا فرما۔ یا اللہ ! ہمارے ملک کے حالات بہتر بنا۔ کوئی ایسا بندہ عطا فرما جو قوم کو ایک کنارے پر لگا دے اور دنیا کی تاریخ میں اس قوم کا نام بہتر فرما۔ یہ قوم اسلام کے حوالے سے بہتر ہو جائے۔ یا ربّ العا لمین ! ہم سب پر رحم فرما۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے رحم فرما۔ پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہم پر رحم فرما۔ یااللہ ! ملک کے اندر جنگ یا جھگڑا نہ ہو۔ فساد نہ ہو۔ جیتنے والے نرم ہو جائیں۔ ہارنے والے تھوڑے سے خوش ہو جائیں اور مل جل کر کام کریں۔ اس ملک پر اللہ تعالیٰ احسان فرمائے۔ کشمیر کے مسائل حل ہو جائیں۔ یا اللہ ! اس قوم کو متفقہ امیرِملت عطا فرما تاکہ یہ قوم اپنے مسائل سے آزاد ہو جائے۔ یہ ملک تیرا ہی ہے، تیرے لیے‘ تیرے نام کی عظمت کے لیے ‘ تیرے ہی فضل سے بننے والا یہ ملک تیرے اور صرف تیرے ہی کرم سے قائم رہ سکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ عطا کر جس میں نہ کوئی مظلوم ہو ‘ نہ محروم۔ میرے اللہ ! یہ دور کبھی آئے گا؟ تُو چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ تُو نے حرفِ کُن کہنا ہے اور پھر بدل جائے گا یہ نظامِ ہستی“

مختلف مقامات سے لی گئیں حضرت واصفؒ کی یہ دعائیں وطن اور اہلِ وطن کے لیے دھڑکتے ہوئے ایک دردمند دل کی صدا ہیں۔ آپؒ نے اپنی کتابوں ” دل دریا سمندر“ ،” قطرہ قطرہ قلزم“ اور” حرف حرف حقیقت “میں مختلف دعائیہ مضامین بھی تحریر فرمائے ہیں اور بڑی حقیقت افروز ‘ امید افزا ‘روح کی گہرائیوں میںاِرتعاش پیدا کرنے اور خدا کی بے پایاں رحمت میں جنبش پیدا کرنے والی دعائیں بھی کی ہیں۔ ایک جگہ آپؒ فرماتے ہیں:

”الٰہی ! مجھے بھول جانے کی طاقت دے ۔ صداقت کی یاد میری زندگی کے کذب کو بے کیف بنا رہی ہے۔ مہر ووفا کی یاد میری جفا پرستی کو بے لطف کر رہی ہے۔ مجھ پر ایسی تنہائی گزر رہی ہے کہ اب میں بھری محفلوں میں تنہا ہوں۔ میرے اللہ تُو قادر ہے۔ مجھے بھول جانے کا عمل سکھا دے۔ مجھے میرے ماضی سے نجات دے۔ مجھے میری یاد کے کرب سے بچا۔ میرے اللہ ! ایک ایسی چیخ لگانے کی قوت دے کہ بے حسی کی قبر سے غافل مردے نیند کا کفن پھاڑ کر نکل آئیں اور اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھیں جو دیدہ¿ بینا کو نظر آتا ہے۔ ہماری تنہائی پر رحم فرمامیرے مولا۔ ہمیں انسان آشنا کر۔ ہمیں انسانوں کی قدر کرنا سکھا۔ ہمیں پہچان عطا فرما۔ ہمیں زندگی کی عزت کرنا سکھا۔ ہمیں عاقبت سے غافل نہ کر۔ ہمیں وفا سکھا۔ وفا تنہا نہیں ہوتی۔ ہمیں صداقتِ فکر دے۔ صداقتِ ذکر دے۔ ہمیں ایک عقیدہ دیاہے تو ایک منزل بھی عطا کر۔ ایک سفر‘ ایک منزل اور ایک وحدت“

ایک اور جگہ حالات کی حقیقت سے قریب تر دعا فرماتے ہیں:
”میں دعا کرتا ہوں اے اللہ ! مریضوں کو ظالم ڈاکٹروں کے عذاب سے بچا۔ شریعت کو علمائے سُوءسے بچا۔ طریقت کو خرقہ¿ِ سالوس کی دسترس سے بچا۔ میرے اللہ ! ہمیں ہمارے اعمال اور خیال کی عبرت سے بچا۔ میں یہ دعا نہیں کرتا کہ دشمن مر جائے۔ میں کہتا ہوں کہ دوست زندہ ہو جائیں۔ جذبے بیدار ہو جائیں۔ عزم بیدار ہو جائے۔ وحدتِ افکار و کردار حاصل ہو جائے۔ اس قوم میں یقین کی دولت عام ہو جائے“
”قطرہ قطرہ قلزم“ سے لی گئی ایک خوبصورت دعا پیش کرنا بہت ضروری ہے:

”اے اللہ ! یہ ندامت اور شرمساری کے نذرانے تیرے سامنے حاضر ہیں، قبول فرما۔ اپنی شانِ غفّاری دکھااور ہمارے اشکوں کو پذیرائی عطا فرما اور ہماری ملّی اور انفرادی لغزشوں کو در گزر فرما اور عطا کر ہمیں اسلاف کا سوزِ دروں اور جذبہ¿ صداقت۔ ہماری التجا اور فریاد اور مدعا صرف یہی ہے کہ ہمارے ان موتیوں کو اپنی شانِ کریمی کی تاجداری عطا فرما۔ تُو جانتا ہے کہ ہم بے کس و بے بس ہیں ۔ تیرے حبیب ﷺ کے نام لیوا ہیں “

اس مختصر سے مضمون میںاُن تمام دعاﺅں کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں جو گلشنِ ہستی کے ہر پھول پر شبنم کے قطروں کی طرح پھیلی ہوئی ہیں۔ انہیں پڑھ کر اندازہ ہو تا ہے کہ دعاﺅں کا یہ خوانِ نعمت اتنا وسیع ہے کہ جیسے کسی غنی کا دستِ سخاوت۔ جس طرح اللہ کے بندوں کا لنگر وسیع ہوتا ہے اسی طرح اُن کی دعاﺅں کا دسترخوان بھی کشادہ ہوتا ہے۔ ان کا دستِ مسیحائی پوری مخلوق کی نبض پر ہوتاہے اور ان کے دامنِ شفاعت سے آرزوﺅں کے تمام پھول بہاروں کے امین ہوتے ہیں۔ حضرت واصفؒ نے نثر کے علاوہ نظم میں بھی دعائیں لکھی ہیں جو آرزو کی لَو پر رکھے ہوئے دل کی آواز ہیں۔
”شب راز“ کی ایک دعائیہ نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
معصیت معرفت میں ہو تبدیل

اے شہِ اِنس و جاں حکیم و حلیم
اپنے محبوب کی محبت بخش

دل سے ہوں دُور خواہشاتِ زعیم
خاک ہو جائے ماسوا کی طلب

صرف تیری لگن ہو عزمِ صمیم
اپنے اسلام کی حفاظت کر

لوگ کرنے چلے ہیں کچھ ترمیم
اُمّتِ مسلمہ ، اسلام اور پاکستان کا غم حضرت واصفؒ کی ہر نظم میں جھلکتا ہے:
کرم کی اِک نظر ہو جانِ عالم یا رسول اللہ
بنایا تھا تمہارے نام سے جو آشیاں ہم نے
بڑے دم خم سے آزادی کی صبحِ نو کو دیکھا تھا

تری امّت پہ ہے اُفتادِ پیہم یا رسول اللہ
گِری ہے اس پہ ہو کے برق برہم یا رسول اللہ
سِتم ہے دم رہا اس میں نہ اب خم یا رسول اللہ

اِسی طرح التجائیہ انداز میں ایک اورنعت ”شب چراغ“ میں موجود ہے۔ نظم کیا ہے غم سے پگھلتے ہوئے دل کی فریاد ہے:

یانبی تیرا کرم درکار ہے
دشمنانِ دین کے نرغے میں ہوں
دین پر دنیا مسلّط ہو گئی
عہدِ ماضی میں جو امّت تھی چٹان

آزمائش میں مرا کردار ہے
حادثاتِ دہر کی یلغار ہے
تیری امّت بے کس و نادار ہے
آج وہ گِرتی ہوئی دیوار ہے

”دعا“ کے عنوان سے ایک اور طویل دعائیہ نظم ”شب چراغ“ ہی میں موجود ہے جس کا ہر شعر حالات کے جبر کی سچی تصویر ، انسان کے صبر آمیز کرب کی داستان اور دعاﺅں کے حصار میں کلبلاتی ہوئی زندگی کا نوحہ ہے:

وطن کی جان پر ہی بن گئی ہے

بڑی دولت تھی ہاتھوں سے لُٹی ہے
زمانے بھر میں ہم رُسوا ہوئے ہیں

ہمارے تذکرے کیا کیا ہوئے ہیں
کہیں اخبار کی سُرخی جمی ہے

کہیں دوشیزگی لُوٹی گئی ہے
کوئی بچہ کہیں اغوا ہوا ہے

مرے مولا ہمیں کیا ہو گیا ہے
کوئی تخریب کا پیغام بر ہے

کوئی دشمن کا منظورِ نظر ہے
محافظ دین کے پیرانِ جعلی

لبادے اوڑھ کر بیٹھے ہیں خالی
خدایا بس تری رحمت ہے درکار

ہمیں معلوم ہے ہم ہیں گنہگار
وطن تقسیم پھر ہونے نہ پائے

کہیں یہ شمع ہی گُل ہو نہ جائے
مریضوں کو مرے مولا شفا دے

غریبوں کو کشائش یا خدا دے
الٰہی بخش دے سب کی خطا کو

قبولیّت ملے میری دعا کو

آپؒ نے دعا کے کچھ اور اہم پہلو بھی بیان فرمائے ہیں۔ آپؒ کا ایک مضمون تقدیر اور دعا ہے جس میں دعا کے تین پہلو بیان کیے گئے ہیں۔ ایک پہلو ہے گناہ اور دعا۔ فرماتے ہیں:
”گناہ دعا کا شعور چھین لیتا ہے۔ گناہ کی وجہ سے دعا پر اعتماد نہیں رہتا“
دوسرا پہلو ہے تقدیر اور دعا۔ یہ پہلو بہت تابناک ہے۔ فرماتے ہیں:

”تقدیر پر راضی رہو اور دعا کرتے رہو۔ جس نے مقدّر لکھنا ہے ‘ اسی نے دعا سکھائی ہے۔ دعا کا منظور ہونا بھی اسی کی طرف سے ہے اور دعا کا شعور بھی اسی کی طرف سے ہے۔ دعا منظور کرنے والے سے محبت کیا کرو۔ سارے مسائل کی فائل اللہ کے حوالے کر دو“
دعا کا تیسرا پہلو ہے …. دُعا اور تسلیم و رضا۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دعا مانگنا ضروری ہے تو اہلِ تسلیم و رضا کا کیا مقام ہے؟ آپؒ فرماتے ہیں:”تسلیم و رضا والے دعا نہیں مانگتے ۔ مشکل کشا وہ ہے جو اپنی مشکلیں حل نہ کرے “

دعائیں نا منظور ہونے سے انسان کے دل میں مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ اسی مایوسی سے بچانے کے لیے دعا کا ایک اور تابناک پہلو بیان فرمایا ہے کہ:
”دعا کا منظور ہونا اگر فارمولا بن جائے تو دنیا میں کوئی مشکل ہی نہ رہے۔ دعا مانگا کرو کہ یا اللہ ! ان دعاﺅں سے بچا جن کو منظوری کا شرف حاصل نہیں ہونا۔ جو منظور نہ ہوں ان کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔ بس تقدیر پر راضی رہنے کی توفیق دے۔ جو دعا منظور ہونی ہے وہ بغیر مانگے ہی منظور کر لے۔ آمین یا ربّ العٰلمین“

حضرت واصف علی واصفؒ خود بھی صاحبِ دعا تھے….دعا ‘ فلسفہ¿ دعا اور حقیقتِ دعا سے آشنا تھے بلکہ رازِ دُعا بھی ان پر آشکار تھا…. اور اُنہوں نے اخفائے راز سے کام نہیں لیا ‘ بلکہ اپنے عقیدت مندوں اور قارئین پر یہ راز پوری طرح طشت از بام کر دیا ہے۔ دوسری بے شمار دعاﺅں کی طرح آپؒ نے اولاد کے لیے دعا کا طریقہ سکھایا ہے۔ فرماتے ہیں:

”اگر آپ نے اپنی اولاد کے لیے دعا کرنی ہو تو اپنے ماں باپ کے پاس جا کر کیا کرو۔ اگر وہ زندہ ہوں تو ان کو شامل کر کے اولاد کے حق میں دعا کراﺅ۔ اگر وہ وصال پا گئے ہوں تو اُن کے مزاروں پر جا کر اپنی اولاد کے لیے دعا کرو۔ یہ ضروری ہے۔ اپنی اولاد کے لیے دعا کرنا بہت مستحسن ہے۔ تہجد میں اپنی اولاد کے لیے دعا کرو۔ آنے والی اولاد کے لیے۔ آ چکنے والی اولاد کے لیے اور روحانی اولاد کے لیے دعا کیا کرو۔ دعا کرنا بہت مفید ہے۔ دعا میں یہ طاقت ہے کہ آپ اولاد کو تعلیم کی بجائے دعا کے ذریعے بچا سکتے ہو“

ایک اور جگہ آپؒ نے اپنے سامعین اور قارئین کی تربیت فرماتے ہوئے کہا کہ اللہ سے کیا دعا مانگنی چاہیے:….”دعا یہ مانگنی چاہیے کہ یا اللہ ! مجھے اپنے فیصلوں پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرما۔ مجھے تُو اپنے فیصلوں پر کاربند رہنے کی توفیق عطا فرما اور مجھے حوصلہ دے کہ میں اپنا مال جو تیرے فضل سے ملا ہے تیری راہ میںخرچ کر سکوں۔ یا اللہ ! مجھے حوصلہ عطا فرما کہ میں بچوں کی طرف بھی رجوع کروں اور ماں باپ کی طرف جانے کے لیے بھی قدم اٹھاﺅں۔ میں تیری نعمتوں کا مخفی نہیں برملا شکر ادا کروں۔ یااللہ ! جو کچھ تُو نے مجھے دینا ہے وہ بن مانگے دے اور جو نہیں دینا اس کے مانگنے کی توفیق ہی نہ دے۔ یاربّ العٰلمین ! ہمیں یہ دنیا دیکھنے کا موقع بھی دے اور دنیا چھوڑنے کا حوصلہ بھی دے۔ یااللہ ! آخری دم تک ہمارے اعضاءمضمحل نہ ہوں اور چلتے پھرتے ہی تیرے پاس آ جائیں اور یہ نہ ہو کہ لوگ گھسیٹ کے آپ کے پاس لے آئیں۔ یا اللہ ! ہمیں انسانوں کے خوف سے بچا۔ ہمیں انسانوں کے ظلم سے بچا۔ تُو ہمیں اپنا ہی بنا کے رکھ۔ یاربّ العٰلمین ! تُو ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی محبت عطا فرما۔ یااللہ ! ہماری حفاظت کرنا اور خود ہی مہربانی کرنا۔ آمین یا ربّ العٰلمین“

اگر آپؒ کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو دعاﺅں کے موضوعات کے حوالے سے تنوع دیکھ کر آپؒ کی بصیرت، آپ ؒکی عقل و دانش اور انسانی خواہشوں پر آپؒ کی گہری نظر دیکھ کراِنسانی عقل ورطہ¿ حیرت میں ڈوب جاتی ہے اور اقبال ؒ کے اس شعر کی صداقت پر ایمان لانا پڑتا ہے ‘ جس میں ایسے لوگوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ

©©”ید بیضا لئے بیٹھے ہیں آستینوں میں ©©“
دعاﺅں کے مختلف ٹکڑے آپؒ کی دردمندی اور فہم و فراست کی مثال ہیں:
¿٭ خدا ہمارے روحانی رابطوں کی حفاظت فرمائے۔ انہیں ہمارے لیے دعا دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ان کاشکریہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے استادوں کی خیر۔ ہمارے بزرگوں کی خیر۔ ہماری تاریخ کی خیر اور ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمانے والوں کی خدمت میں سجدہ¿ نیاز۔
٭ خدا ہمیں بیدار بخت اور بیدار ضمیر بنائے۔
٭ خدا بُرا امیر اور بُرا غریب ہونے سے بچائے۔
٭ خدایا ! یہ آرزو ہے کہ میں سلامت رہوں‘ سب کی سلامتی کے ساتھ کیونکہ میرا ہونا دراصل میرے وابستگان کا ہونا ہے۔ جنّت میں بھی ہونا سب کے ساتھ ہوناچاہیے۔
٭ خدایا میری یہ تمنّا ضرور پوری فرما کہ میرے آنسو خشک نہ ہوں اور میرے آنسو رائیگاں نہ ہوں۔ ان قطروں میں کئی قلزم پنہاں ہیں۔ یہ آنسو عہدِ گذشتہ کی نجات ہو سکتے ہیں اور انہیں کے دم سے عہد آئندہ تابندہ و پائندہ ہوسکتاہے۔
٭ اے خدا ! اپنے ماننے والوں کو اور اپنے محبوب ﷺ سے محبت کرنے والوں کو ‘ سب کو معاف فرما۔
٭ اے ربّ العٰلمین ! تیری ہی عنایات کا سہارا ہے۔ تُو ہمارے دلوں کو اپنے نور سے زندہ کر دے۔ ہماری راتوں کو اپنی یاد سے آباد کر۔ ہمیں سوزِ دروں سے نواز دے۔ ہمیں نمائش اور آلائش سے بچا۔ ہم پر نازل فرما اپنے کرم کی بارش۔ ہم پر آسان فرما اپنی معرفت کی منزل۔ ہمیں ایک بار پھر وہی جامِ الفت دے۔ آباد کر اُجڑے ہوئے آشیانے کو۔
٭ یا الٰہی ہمیں لیڈروں کی یلغار سے بچا۔ ہمیں ایک قائد عطا فرما۔ ایسا قائد جو تیرے اور تیرے حبیب کے تابع فرمان ہو ۔
٭ اے اللہ ! ہماری زندگی کے تقاضے اور دین کے تقاضوں میں جو فرق آ چکا ہے ‘ اسے دور فرما۔
٭ میرے اللہ ! مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معاف فرما۔ میں تیرے دربار میں سوائے ندامت کے چند آنسوﺅں کے اور کچھ نہ لا سکا۔ میرے پاس خجالت اور ندامت کے سوا کچھ نہیں۔ انہیں چند موتیوں کا حقیر نذرانہ پیش کرتا ہوں اور وہ بھی ایک ٹوٹے ہوئے پیمانے میں۔
میں نے حضرت واصفؒ کی دعاﺅں کے خزانے سے چند موتی پیش کیے ہیں۔ حضرت واصفؒ فرماتے ہیںکہ:

”دعا مانگنے والا یہ اعلان کر رہا ہے کہ اللہ کریم ایک ایسی ذات ہے جو میرے لفظ کے قریب ترین سماعت رکھتا ہے۔ “

ایک اور جگہ آپؒ نے اسی بات کو ذرا کھول کر بیان فرمایا ہے کہ:….”دعا کوئی چٹھی تو نہیں ہے جو آپ نے لکھی ہو۔ ٹیلی گرام نہیں جو آپ نے بھیجا ہو۔ اخبار نہیں جو چھاپا ہو۔ آپ کی دعا آپ کی تنہائی میں خاموش بیٹھی تھی اور آپ کو یقین تھا کہ سننے والا سن رہا ہے۔ منظور کرنے والا ہی دعا عطا فرماتا ہے۔ کمال اس کا یہ ہے کہ جس کو اس نے تقرب نہ دینا ہو‘ وہ دعا پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ پہلے دعا پر یقین عطا فرماتا ہے …. دعا ایمان کا اعلان ہے۔ گناہ کی سزا اگلے جہان میں تو ہو گی مگر اللہ تعالیٰ جو سزا اس دنیا میں دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کا دعا سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ ہم جس تکلیف کے لیے دعا مانگ رہے ہیں وہ حل نہیں ہو رہی ہے اور دعا جاری ہے۔ آنسو جاری ہیں…. آنسو جاری ہیں‘ تو یہ اس کے تقرّب کی نشانی ہے۔“

گویا آپؒ کے اس فرمان کے مطابق دعا قبولیت کے لیے نہیں مانگنی چاہیے بلکہ تقرّب کے لیے مانگنی چاہیے، کیونکہ اگر تقرّب الٰہی حاصل ہو جائے تو قبولیت اس کا انعام ہے۔ دعا یا توقبول ہو جاتی ہے یا پھردعا کی نوعیت بدل جاتی ہے….جیسا علامہ اقبالؒ نے فرمایا ہے کہ:

تیری دعا ہے کہ ہو میری آرزو پوری
مری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے

اگر حضرت واصف علی واصفؒ کی دعاﺅں ‘ ان کے نتائج اور ان کی وجوہات پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دعا درد کا انعام ہے‘ نا امیدوں کے لیے امید کا پیغام ہے‘ فرش والوں کے لیے عرش کا اکرام ہے‘ فنا کی وادیوں میں بھٹکنے والوں کے لیے نسخہ¿ دوام ہے‘ خرامِ ناز کے لیے نیاز کا مقام ہے‘ آوارگانِ خاک کے لیے چرخِ نیلی فام ہے‘ جہاد کرنے والوں کے لیے تیغِ بے نیام ہے اور عبادت گزاروں کے لیے خدا سے شرفِ کلام ہے۔
اب تک” گفتگو “کے پچیس والیم شائع ہو چکے ہیں۔ ان سب میں حرفِ دعا پر اتنی تفصیل سے لکھا گیا ہے اور عالمِ انسانیت کی اتنی معنی خیز اور زندگی سے قریب تر دعائیں کی گئی ہیں کہ شاید پورے صوفیانہ لٹریچر اور روحانی دنیا میں اس قدر دعائیں نہ کی گئی ہوں اور نہ ہی دعاﺅں کی حقیقت ‘ ان کی حدود و قیود اور ماہیت میں اس انداز سے روشنی ڈالی گئی ہو۔ کسی بھی صاحبِ دعا کا یہی احسان کافی ہے کہ اس کی تعلیمات اور شخصیت کی تاثیر کے پنجے میں انسانوں کے اندر دعا پر یقین پختہ ہو جائے اور بظاہر ناقبول دعاﺅں پر بھی خدا کی ذات سے مایوسی پیدا نہ ہو جائے۔ حضرت واصفؒ نے یہ کام بھر پور انداز میں کیا ہے کیونکہ آپؒ صاحبِ دعا تھے۔ اس کاحوالہ جناب میر جہانگیر صاحب یوں پیش کرتے ہیںکہ جب حضرت واصفؒ علاج کی غرض سے لندن روانہ ہونے کے لیے ائر پورٹ کے لاﺅنج میں سٹریچر پر تھے اور مختلف عقیدت مند ملاقات کے لیے آ رہے تھے تو ایک طرف ڈاکٹر اور نرس کھڑے تھے اور دوسری طرف میں بھی موجود تھا۔ نرس نے جب اظہارِ عقیدت کے مناظر دیکھے تو اس نے متاثر ہو کر حاضرین سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس سے پہلے کہ کوئی مناسب الفاظ میں تعارف پیش کرتا آپ نے خود ہی اسے مخاطب ہو کر فرمایا ”بیٹا میں دعا کرنے والا ہوں“

حضرت واصفؒ کاخصوصی کمال یہ ہے کہ آپؒنے دعا کی اہمیت واضح کرنے کے ساتھ تعلق کا ایک اور فارمولا پیش کیا ہے جو دعا سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ فرماتے ہیں:

”اللہ سے دعا کرنے کی بجائے دوستی کر لو اور دوستی تب ہو سکتی ہے جب ہم اس کی مرضی پر چلنا شروع کر دیں۔ یہ نہیں کہ اپنی منوانا شروع کر دو۔ مانتے جاﺅ۔ ماننے والے کا اللہ ہے۔ تسلیم والے کااللہ ہے۔ باقیوں کے لیے تو اللہ حساب کتاب کا نام ہے“

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!