حکایت ِسعدیؒ
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے بارے میں سنا کہ وہ سفرِ حجازمیں ہر ایک قدم کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتا تھا۔وہ راہِ خدا میں اس قدر گرم سفر (پر جوش وپر سوز)تھاکہ دوران سفر ببول کا کانٹا بھی پاﺅں سے نہ نکالتا تھا۔آخر کار پراگندہ وسوسے کی وجہ سے اسے اپنی نگاہ میں اپنا عمل بہت پسند آیا۔بالآخر ابلیس کے فریب سے وہ ایک کنویں میں گر گیا جو شاید اس کے لئے بہتر جگہ تھی۔اس موقع پر اگر رحمت ِ خداوندی اسے نہ گھیر لیتی تو اس کا غرور اسے راہِ حق سے پھیر دیتا۔ ایک فرشتہ نے اسے غیب سے آواز دی :” ایک نیک بخت و نیک سرشت! یہ گمان نہ کر کہ تو نے جو عبادت کی ہے وہ تو اس بارگاہ میں غذائے مہمانی لایا ہے۔ایک احسان سے ایک دل کو راحت پہنچانا ہر منزل پر ہزار رکعت ادا کرنے سے بہتر ہے“
اقوالِ واصفؒ
٭ عبادت سے مکمل تزکیہ¿ نفس نہیں ہوتابلکہ عبادت سے خطرہ¿ نفس ٹل جاتاہے ۔
٭ گناہ پر ندامت‘ اُس نیکی سے بہتر ہے جو غرور میں مبتلا کر دے۔
٭ عبادت اُس مقام تک نہیں پہنچاتی جہاں تک مخلوقِ خدا کی خدمت پہنچاتی ہے۔
٭ مایوسیوں کی دیوار وں میں اُس کی رحمت امید کے دروازے کھولتی رہتی ہے۔
٭ دوسروں کو حقوق سے زیادہ دینا احسان ہے۔
(مرتبّہ : محمد حمیرانور …. اَز بوستانِ سعدیؒ
مترجم : ظہور الدین احمد بشکریہ : پیکجز لمیٹڈ)

