خوشبو کی طرح پھیلتی جائے ہے تِری بات
پیہم ترے بیان سے اُٹھتے ہیں حجابات
یہ معجزہ¿ حسن ہے یا حسنِ کرامات
رفعت شناس ہونے لگے پستہ خیالات
تشنہ رہا نہ کوئی یہاں گوشہ¿ طلب
سیراب زندگی کے ہوئے سارے موضوعات
بدلے گا زمانہ تری تعلیم کے صدقے
مٹ جائیں گے باطل کے عقیدے و فسادات
حق گوئی ترا وصف کہ تُو واصفِ حق ہے
برحق ہے تری ذات‘ تو سچی ہے تری بات
پاتی ہے ترے در سے خرد ‘ دولتِ تسلیم
دیکھے ہیں یہاں قوتِ باطن کے کمالات
سیراب ہو گئی ہے بنجر زمینِ قلب
اُٹھی گھٹائے فیض‘ ہوئی نور کی برسات
کیا صورتِ انساں میں خدا بول رہاہے؟
حادث کی زباں لگتی نہیں تیرے بیانات
اے مظہرِ اوصافِ علی ؑ ‘ بانگِ سلونی
خیراتِ یقیں آپ سے پاتے ہیں سوالات
یوسف کرے کیا پیش ‘ فقط ایک دعا ہے
بڑھتے رہیں تا روزِ حشر ‘ آپؒ کے درجات
by
محمد یوسف واصفی

