پیلو پکیاں

بہار کا موسم‘ پیار کا موسم ‘ گم شدہ چہروں کے دیدار کا موسم ‘ تھل ‘ بیلے ‘ بار کا موسم ‘پیلو پکنے کا موسم در اصل وصالِ یار کا موسم بڑے انتظار کے بعد آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے ” پیلُو “ کو تکمیلِ عرفان بنا دیا۔

عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک کا فاصلہ بس ” پیلو پکنے “ کی دیر تک ہے۔ پیلو چننے سے ابتدا ہے۔ سب سنگی ساتھی مل کر چنتے ہیں ‘ پیار کی امرتیاں‘ محبت کے” پیلو“ پیلو چنتے چنتے آنکھیں ملتی ہیں‘ دل ملتے ہیں اور پھر جدائی کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے پیلو ختم ہو جاتی ہیں اور انتظار شروع ہو جاتا ہے۔ چہروں کی سرخیاں رخصت ہو جاتی ہیں اور انسان ” ہکّا بکّا “ رہنے لگتا ہے۔ پھر کب آئے پیلو کا موسم، اور یار مل کے پیلو چنیں۔

آ چنوں رَل یار ، پیلو پکیاں نی وے
(پیلو پک گئے ، آﺅ یار مل کر چنیں)

محبت سے آشنا ‘ محبت کی روح سے آشنا ‘محبت کے کرشموں سے آشنا ‘محبت کے اعجاز سے آشنا لوگ ہر موسم اور ہر رُت میں پیار کی بہار ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ ہر مجاز میں حقیقت تلاش کر لیتے ہیں ہر شے میں جلوہ تلاش کر لیتے ہیں ، ہر وجود میں محبوبِ حقیقی کو موجود پاتے ہیں وہ آشنائے راز ہوتے ہیں اور راز آشنا کرنا جانتے ہیں۔

اہلِ تصوف حضرات نے اپنے کلام میں بڑے بڑے عقدے کُشا کیے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی معمولی نظارہ بھی معمولی نہیں۔ ہر شے ہی غیر معمولی ہے۔ پھول کھِلے تو وہ غور کرتے ہیں کہ پھول کی ہستی ‘کیا ہستی ہے۔ عجیب راز ہے ۔ پھول کھلتا ہے ‘مرجھا جاتا ہے۔ چند لمحات کے لیے وہ مسکرایا اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک نا معلوم دنیا میں چلا گیا بس انسان کی زندگی پھول کی مسکراہٹ سی ہے۔ اِدھر آئے ‘ اُدھر گئے پھول اپنی زندگی پر کیا اِترائے گا ، کیا فخر کرے گا!


گُوڑھی رنگت دیکھ کے پھول گمان بھئے
کتنے باغ جہان میں لگ لگ سوکھ گئے

محبت سے آشنا ‘ محبت کی روح سے آشنا‘ محبت کے کرشموں سے آشنا‘ محبت کے اعجاز سے آشنا لوگ ہر موسم اور ہر رُت میں پیار کی بہار ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ ہر مجاز میں حقیقت تلاش کر لیتے ہیں…. ہر شے میں جلوہ تلاش کر لیتے ہیں ‘ ہر وجود میں محبوبِ حقیقی کو موجود پاتے ہیں….
وہ آشنائے راز ہوتے ہیں اور راز آشنا کرنا جانتے ہیں

اہلِ باطن در اصل ظاہر کی اصل کو پہچانتے ہیں ظاہر کی حقیقت معلوم کرنے والا دراصل اہلِ باطن ہے باطن کوئی نئی دنیا نہیں ‘ اسی دنیا کا نیا شعور ہے ماسوا میں ہی ماورا کے جلوے ہیں۔ باطن شناس انسانی منشا میں خدائی منشا کو پہچانتا ہے ”پیلو“ چھوٹا ‘ بہت چھوٹا جنگلی پھل سمجھ لیں پیلو کا کھانا اتنا پُر لطف نہیں ‘ جتنا پیلو چننا۔

پیلو چنتے چنتے انسان اپنا مقدر چنتا ہے۔ اور پھر ”ہکّا بکّا“ رہ رہ جاتا ہے کہ اس نے کیا چاہا اور اسے کیا مل گیا پیلو چنتے ہی یار آشنا ہو گیا اور محبت سے شناسائی ہوئی محبت فراق سے گزری پیلو چننے والی سنگتیں جدا ہو جاتی ہیں اور فراق تھل ”سُنجا“ نظر آتا ہے طالب وہیں روہی بیلے میں روتا رہتا ہے اور محبوب پیلو کی رُت کے ساتھ ہی غائب ہو جاتا ہے ۔ جلوہ رخصت ہوا لیکن خیرہ آنکھ حیرت کے تھل میں گم ہو گئی اس نے کیا دیکھ لیا کہ پھر کچھ دیکھنے کی آرزو ہی نہ رہی اس نے کیا سن لیا کہ اب کچھ اور سننے کی تاب ہی نہ رہی ۔ وصال آشنا فراق کے دشتِ بے اماں میں گُم ہو جاتا ہے۔

اہلِ باطن در اصل ظاہر کی اصل کو پہچانتے ہیں…. ظاہر کی حقیقت معلوم کرنے والا دراصل اہلِ باطن ہے…. باطن کوئی نئی دنیا نہیں ‘ اسی دنیا کا نیا شعور ہے…. ماسوا میں ہی ماورا کے جلوے ہیں۔ باطن شناس انسانی منشا میں خدائی منشا کو پہچانتا ہے

اور پھر رُت بدلتی ہے ‘ موسم آتے ہیں ‘ پیلو پکتی ہیں اور اب پیلو کچھ اور ہیں ‘ بہار کچھ اور ہے ‘ وصال کچھ اور ہے ‘ یار کچھ اور ہے ‘ جلوہ کچھ اور ہے اب وہ وصال ہے جس کا فراق نہیں۔ وہ حاصل ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ فریدؒ کہہ اُٹھتا ہے کہ دنیا جس کو تلاش کرتی ہے
‘ وہ تو فریدؒ کے پاس ہے، ہر دن ‘ہر آن ‘ ہر رنگ ‘ ہر انداز مجاز حقیقت بن چکا ہوتا ہے۔ اب تھل ‘ جل تھل ہو جاتا ہے۔
صوفیاءنے اپنے شعر کو عرفان رنگ بنا کر اُس سے وہ کام لیا ، جو بڑے بڑے علماءتقریروں سے نہ لے سکے۔ نعت کے چند اشعار انسان میں عشقِ نبی کے جلوے پیدا کر سکتے ہیں ، صوفیاءنے قلوب کو گرمایا ‘ جلوہ آشنا کیا ، اور بندوں کو حق کے تقرب سے آشنا کر دیا۔

اللہ بے مثل و بے مثال ہے۔ اسے کسی شے سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی بجا ہے ‘ درست ہے لیکن طالبانِ حق کو جب یہ سنایا جائے کہ:

الف اللہ چنبے دی بوٹی مُرشد من وِچ لائی ہُو
یعنی اللہ ایک خوشبودار چنبے کی بوٹی ہے اور مرشد ہی مرید کے دل میں عشقِ الہٰی کا خوشبودار پودا لگاتا ہے ….

یہ نظام صرف معاشیات اور ارتقاءکا نظام ہی نہیں بلکہ یہ حسن و جمال کی دنیاہے ، یہ حسنِ خیال کی دنیا ہے ، یہ جلوہ¿ لازوال کی دنیا ہے…. اس میں محبت کی پیلو ہیں ….پیلو چننے کے موسم ہیں ۔ چننے والی ”سنگتیں “ ہیں اور محبت کے جلوے ہیں…. ارتقائے محبت ہے …. اور عرفان و ایقان کی منازل ہیں …. یار یار کے قریب آئے ‘ بیلے پر بہار آئے…. اور پھر فراق زدہ دل کو قرار آئے

…. بات سمجھ میں آتی ہے کہ توحید صرف علم ہی نہیں ‘ اس علم کا کوئی عمل بھی ہے…. پیار کی فصلیں ‘ پیار کی پیلو پکتے پکتے طالب کو واصل کر دیتی ہیں ….عجب حال ہے۔ اسی دنیا اور دنیا کی انہی رونقوں اور جلوﺅں سے جلوہ¿ حق دریافت کرنا ہوتا ہے…….. چمگادڑوں کو جلوہ¿ آفتاب کبھی نظرہی نہیں آیا ….اس میں روشنی کا کیا قصور۔ تن کی دنیا میں ہی من کی دنیا آباد ہے۔ اگر یہ نہیں‘ تو وہ بھی نہیں۔ آنکھ نہ ہو تو جلوہ کیسا۔ ذہن نہ ہو تو خیال آرائی کیسی۔ دل نہ ہو تو دلبری کیا۔ لذّتِ جبیں سائی نہ ہو تو سنگِ درِ یار کا کیا قصور۔ ذوقِ بندگی نہ ہو تو بندہ نوازی کا لطف کون حاصل کرے گا…. لینے والا ہی نہ ہو تو دینے والا کیا کرے….پتھر دل پریت کو کیا جانے….ہوسِ زر پرستی‘ حق پرستی کیسے بنے…. جس دل میں نفرت اور کینے کے پھوڑے پک رہے ہوں ‘ وہ کیا جانے کہ پیلو پکنے کا کیا مفہوم ہے ….پیلو چنتے چنتے حیرت کے جلوے میں انسان ہکا بکا کب ہو جاتا ہے۔ جلوہ¿ محبوب جا بجا دیکھنے والے اور ہوتے ہیں وہ دل اور ہیں ، وہ نگاہیں اور ہیں، وہ روحیں اور ہیں…. اور بہت ہی اور ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں سب اسی کے رنگ ہیں۔
جانِ من با کمال رعنائی خود تماشا و خود تماشائی

فریدؒ نے پیلو کیا چنیں‘ درد چن لیا۔ ایسا درد جس کا مداوا بھی وہ خود ہی ہے۔ ایسا سفر جس کا انجام بھی سفر ہے ‘ جس کی منزل ایک نئی مسافرت ہے۔ ایسا راز کہ بیان بھی ہو اور فاش بھی نہ ہو۔ ایسا یار ملا کہ شہ رگ سے قریب ہو اور نگاہوں سے اوجھل بھی ہو!!

…. فریدؒ دردِ مزید مانگتا ہے اور پیلو چنتا رہتا ہے…. عجب رنگ سے نیرنگ نے بے رنگ کی راہ دکھائی…. بہار ہی بہار ‘ ہر طرف یار ہی یار‘ ہمہ وقت دیدار ہی دیدار….!!

وہ جانتے ہیں کہ حسن کے جلوے موجود ہیں…. یہ سب جلوے کسی اور کے ہیں…. یہ سب نیرنگ کسی ذات کے ہیں …. پہاڑوں سے نکلنے والے دریا خود سمندر کے لیے پیاسے ہوتے ہیں اور یہ کناروں کی پیاس بجھاتے ہوئے اپنے محبوب ساگر سے واصل ہو کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں …. یہ سب پریم نگر ہے۔ محبت نہ ہو تو چاند‘ چاند نہ رہے اور چکور‘ چکور نہ رہے…. تعلق سے دنیا قائم ہے۔

یہ نظام صرف معاشیات اور ارتقاءکا نظام ہی نہیں بلکہ یہ حسن و جمال کی دنیاہے ، یہ حسنِ خیال کی دنیا ہے ، یہ جلوہ¿ لازوال کی دنیا ہے…. اس میں محبت کی پیلو ہیں …. پیلو چننے کے موسم ہیں ۔ چننے والی ”سنگتیں “ ہیں اور محبت کے جلوے ہیں …. ارتقائے محبت ہے …. اور عرفان و ایقان کی منازل ہیں …. یار یار کے قریب آئے ، بیلے پر بہار آئے …. اور پھر فراق زدہ دل کو قرار آئے …. خواجہ غلام فریدؒ سچ کہتے ہیں:
آیاں پیلو چُنن دے سانگے اوڑک تھیاں فریدن وانگے

چھوڑ آرام قرار ہکیاں بکیاں نی وے
آ چنوں رل یار پیلو پکیاں نی وے

حسن کے جلوے موجود ہیں یہ سب جلوے کسی اور کے ہیں یہ سب نیرنگ کسی ذات کے ہیں پہاڑوں سے نکلنے والے دریا خود سمندر کے لیے پیاسے ہوتے ہیں اور یہ کناروں کی پیاس بجھاتے ہوئے اپنے محبوب ساگر سے واصل ہو کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں

یعنی سب سنگتیں ‘ سب سہیلیاں پیلو چننے کے بہانے اکٹھی ہوئیں ….اوّل اوّل تو شوقِ ملاقات تھا اور انجام کار سب فریدن جیسی ہو گئیں….یعنی آرام قرار سے بےگانہ …. ہکا بکا …. حیرت زدہ ….ہوش سے دست بردار۔ بس یہ سب پیلو کا کرشمہ ہے ، آرزو اور محبت اور وصالِ یار کے جلوے ہیں کہ ان کی منزل فراق اور وصال سے بہت آگے ہے
….حیرت ہی حیرت ‘ تحیّر ہی تحیّر۔ معمولی سی بات ‘ کتنا غیر معمولی نتیجہ….
ایک خوشی کا میلہ اور آخر کار حقیقت آشنا فریدؒ ، صرف اکیلا …. حیران و سرگرداں ‘ روہی کا تنہا مسافر ‘ قدم قدم پر رونے والا ‘جلوے کے تقرب میں خود سے بھی دور جا پہنچا …. ایسی منزل جس میں پیلو پکتی ہیں ‘ بہاریں آتی ہیں ‘ سنگتیں آتی ہیں لیکن دل میں دشت کی وسعت اور صحرا کی پیاس ہے…. کوئی یار ہو کہ جس کے ہمراہ پیلو چنی جائیں …. کوئی ہمراز ہو ‘ جس سے درد بیان کیا جائے ۔ کوئی درد شناس ہو‘ جس سے دل کی بات کہی جائے۔

فریدؒ نے پیلو کیا چنیں‘ درد چن لیا۔ ایسا درد جس کا مداوا بھی وہ خود ہی ہے۔ ایسا سفر‘ جس کا انجام بھی سفر ہے ‘ جس کی منزل ایک نئی مسافرت ہے۔ ایسا راز کہ بیان بھی ہو اور فاش بھی نہ ہو۔ ایسا یار ملا کہ شہ رگ سے قریب ہو اور نگاہوں سے اوجھل بھی ہو۔

یہ انعام ہے کہ سزا ‘ جو کچھ بھی ہے ‘ لطف ہے۔ اس کا الطاف ہے جو درد بن کے ساتھ رہتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے لیکن نظر نہیں آتا….جو جلوہ بن کر دل سے گزرتا ہے اور آنسو بن کر آنکھ سے ٹپکتا ہے۔

پیلو پک گئے اور عرفان کی منزل طے ہو گئی…. فریدؒ دردِ مزید مانگتا ہے اور پیلو چنتا رہتا ہے ….
عجب رنگ سے نیرنگ نے بے رنگ کی راہ دکھائی …. بہار ہی بہار، ہر طرف یار ہی یار ، ہمہ وقت دیدار ہی دیدار….ہکا بکا فریدؒ جنگل ‘ روہی ‘ بیلے میں اکیلے سفر پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رواں دواں ، ”ہر جا عین ظہور“ کے جلووں سے مسحور‘ ،اس کی یاد میں گم‘ جو پیلو کے موسم میں ملا اور ہر موسم کو پیلو کا موسم بنا گیا….

فریدؒ کی خزاں سدا بہار ہے۔ اس پر مخفی راز آشکار ہے …. جتنا آشکار ہے اتنا ہی پُراسرار ہے
…. کوئی فریدؒ کا یار ہو ‘
تو جانے کہ فریدؒ نے ”پیلو“ کے موسم میں کیا کیا دیکھا ….
کیا کھویا ‘ کیا پایا…. سب کچھ نثار کیا
اور سب کچھ پا لیا۔ فریدؒ نے اپنی ذات نثار کی اور حسن کی ذات کا عرفان پایا…. پیلو کی رُت ‘ فریدؒ کی عید ہے !!

حضرت واصف علی واصفؒ کی تصنیف ” دل دریا سمندر “سے انتخاب

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!