اِقتباساتِ گفتگو

بمقام : ۲۲ فردوس کالونی گلشن راوی ، لاہو ر ٭ بتاریخ : یکم فروری ۱۹۹۱ئ
سوال : قرآن مجید میں بیان ہوا ہے کہ ”تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کرتا ہوں“
انسان نے تو اللہ کو یاد کرنا ہوتا ہے…. اللہ تعالیٰ انسان کو کیسے یا دکرتا ہے؟

جواب : سوال یہ ہوا ہے کہ اللہ بندوں کو کیسے یاد کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بندوں کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں کرتا …. اللہ بندوں کو پیدا کرتا ہے ‘بندوں کا ذکر کرتا ہے ‘بندوں کے حالات دیکھتا رہتا ہے ‘بندوں کا جائزہ لیتا رہتا ہے ‘بندوں کی دعائیں سنتا ہے‘بندوں کے کام کرتا ہے…. اللہ ‘ اللہ ہو کے بندوں کی بات کرتا ہے …. اور آپ نے انسان ہو کے بھی اللہ کی بات پر غور نہیں کیا ۔ دراصل ذکر میں تین چیزیں ہوتی ہیں ۔ ذاکر ‘ ذکر اور مذکور…. ذکر رابطہ ہے ذاکر اور مذکور کے درمیان۔ بالکل ایسے جیسے محبت رابطہ ہے محبت کرنےوالے اور جس سے محبت ہو رہی ہے اس کے درمیان اور آواز رابطہ ہے بولنے والے اور سننے والے کے درمیان….ذکر کرنے والے کو ذاکر ‘ جس کا ذکر ہو رہا ہے اسے مذکور کہتے ہیں۔

اللہ کے ذکر میں لفظ اللہ ذکر ہے۔ ذکر کرنے والا ذاکر ہے اور مذکور خود اللہ ہے۔ اللہ وہ ذات ہے …. وراءالورائ۔ آپ کے خیالوں سے بلند ۔ جہاں تک سمجھ آتی ہے اس سے آگے ہی کوئی مقام ہے اس کا۔ ذکر میں ایسی سٹیج آسکتی ہے کہ ”ذکر“ ہی ”مذکور“ بن جائے …. اللہ لفظ ہے ‘ تمہاری زبان سے کہے ہوئے کروڑہا لفظوں میں سے ایک لفظ۔ اب اسی لفظ کو تم نے کبھی سُر میں آ کر بول دیا تو آگے اللہ ہی ہے۔ اللہ کرتے کرتے ایسا لمحہ آ سکتا ہے کہ آگے سے آواز آ جائے ”کیا کر رہے ہو؟کیا چاہتے ہو؟“ اب لفظ اللہ ذات بن گیا…. ایسا ممکن ہے کہ ایک انسان….فانی انسان…. کبھی یکسوئی کے عالم میں…. زمان و مکان سے الگ ہو کر…. خالقِ کون و مکاں کی یاد میں بیٹھ جائے…. کہیں لامکان کے اندر…. ایسا ممکن ہے کہ لفظ اللہ بولتے بولتے ‘ بولنے والا اس ذات کے اتنا قریب ہو جائے…. جس کا وہ اسم ہے ‘ ایسا ممکن ہے کہ ذات قریب ہو جائے…. اپنے نام کے…. ایک آدمی محویّت کے انداز میں پکارتا ہے ” یا مشکل کشا !“ اُدھر سے آواز آتی ہے ”بول کیا چاہتا ہے؟“ حالانکہ وہ صرف لفظ تھا۔ ذکر میں قرب اتنا ملتا ہے کہ ذاکر مذکور کا جلوہ لے لیتے ہیں۔ ذکر کرتے کرتے ایک ایسا وقت آتاہے کہ وہ انسان جس نے اللہ کو اتنے خلوص سے پکارا ‘ وہ اللہ کے قریب ہو گیااور اللہ اس کے قریب ہو گیا۔ اس انسان کو اللہ دوام بخشتا ہے۔

قرآن مجید میں ذکر ہوا کہ یہ کتاب لارَیب ہے ‘ اس میں کوئی شک نہیں اور اس میں صرف مُتّقِین کے لیے ہدایت ہے۔ آپ قرآن کو پڑھنے سے پہلے متقی بنو …. جس پر کتاب نازل ہوئی اس کی ذات سے محبت کرو…. ماں باپ کی محبت اور بچوں کی محبت سے زیادہ کرو پھر شاید اللہ کے قرب کا ذائقہ آپ کو مل جائے۔مگر ہوتا یہ ہے کہ شوق بھی تمہارا ہوتا ہے‘ دعویٰ بھی تمہارا ہوتا ہے اور بعد میں معذرت بھی تمہاری ہی ہوتی ہے…. لیکن اللہ اس چیز کو نہیں مانتا…. جو محبت کرنے والے ہیں ‘وہ معذرت نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ اے اللہ !ہم سے آپ کیا چاہتے ہو؟ ہم نے اپنی اولاد آپ پر قربان کر دی‘ اپنی ذات آپ پر قربان کر دی‘ اپنا قبیلہ حتّیٰ کہ سب کچھ آپ پر قربان کر دیا۔ اب آپ فرمائیں اور کیا چاہیے؟ تو اللہ کہتا ہے کہ اب تم بھی آ جاﺅ۔ اہم بات یہ ہے کہ جتنا تمہاری کائنات میں اللہ کا حصہ ہے ‘ اللہ کی کائنات میں اتنا ہی تمہارا حصہ ہے …. اور راز کی بات یہ ہے کہ اللہ ہمیشہ بندے کے ذریعے بولتا ہے…. اللہ کا بولنا‘ ہے ہی بندے کی زبان سے…. اللہ کادیکھنا ‘ہے ہی بندے کی آنکھوں سے…. اللہ نے کیسے دیکھ لیا ؟ اللہ نے تمہیں تمہاری آنکھوں سے دیکھا۔ اللہ کو یہ بات کیسے یاد آئی؟…. جو تمہاری یادداشت ہے‘ وہ اللہ کی یادداشت میں آ گئی۔
ذکر میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب ذکر ‘ ذاکر اور مذکور اکٹھے ہو سکتے ہیں …. ایسا وقت آتا ہے جب دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ رانجھے کے چہرے پر ہیر کی صورت آ سکتی ہے اور ہیر کے چہرے پر رانجھے کا جلوہ ہو سکتا ہے۔ ایک پیر نے دو آدمیوں کو سفر پر بھیجا اور کہا کہ دیکھو ہم تم دونوں کو رفیق ِطریق بنا رہے ہیں۔ تم دونوں نے ایک دوسرے کی صورت میں ”ربّ“ کو دیکھنا ہے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ محبوب کا جلوہ گھر میں ہی ہو جائے…. اصل میں بات ساری خلوص کی ہے۔ اللہ والا شام کے وقت صبح کااندیشہ نہیں رکھتا …. اللہ محبت میں پہل خود کرتا ہے ‘ تم نہیں کرتے۔ قرآنِ مجید میں ہے”جس نے ہماری راہ میں جہاد کیا ہم نے اُس کو راہ دکھائی“ ….نتیجہ کیا نکلا، جس کو اللہ نے راہ دکھائی اُسی نے جہاد کیا۔

ایک بات غور سے سمجھنے والی ہے۔ اللہ قدیم ہے اور انسان حادث ہے…. اللہ ”باقی“ ہے اور انسان ”فانی“ ہے۔ اب ”فانی“ انسان ہی نے ”باقی“ کے بارے میں سب باتیں بتائی ہیں۔ اللہ نے انسانوں سے انسانوں ہی کے ذریعے بات کی ہے۔ اللہ کو اپنی احسنِ تقویم مخلوق ”انسان“ پربڑا ناز ہے۔ اللہ نے اپنی کتاب میں پیغمبروں پر درُود بھیجے ہیں ‘ سلام بھیجے ہیں…. اگر آپ اللہ کا ذکر تنہائی میں کرو گے تو اللہ بھی آپ کا ذکر تنہائی میں کرے گا۔ اگر آپ اللہ کا ذکر انسانوں کی محفل میں کرو گے تو وہ بھی تمہارا ذکر فرشتوں کی محفل میں کرے گا۔

حدیث شریف میں ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺکہیں تشریف لے گئے۔ آپ نے دیکھا کہ ایک جگہ انسانوں کا ایک گروہ بیٹھا ہے۔ آپ اُن کے پاس گئے اور دریافت فرمایا کہ کیا کر رہے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ نے دوبارہ پوچھا کہ کیا کچھ اور بھی کر رہے تھے؟ کوئی دنیاوی بات؟ انہوں نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں جمع ہونے کی ‘اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی وجہ نہیں …. آپ نے فرمایا ” تمھیں مبارک ہو ! اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں ‘ میں اِن پر بہت خوش ہوں اور میں بھی ان کا ذکر کر رہا ہوں“ Great ہو تم لوگ جو فی سبیل اللہ اکٹھے ہوئے ہو اور دنیاوی طور پر کوئی وجہ بھی نہیں۔ جن لوگوں نے اللہ کا ذکر کیا اور درُود پڑھا‘ تبلیغ کی …. اُن کے آستانے آج تک زندہ ہیں۔ اللہ اپنے ذاکر کا اتنا ذکر کرواتا ہے کہ اس کو بھی مذکور بنا دیتا ہے …. یہ بات کوئی بہت ہی Selected لوگوں کی نہیں ہے ‘ آپ ہی کی ہے…. آپ جو اللہ کو مانتے ہو‘ اللہ کے حبیب کے قرب میں رہنے کی خواہش کرتے ہو۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایک درویش نے یہ نسخہ بتایا ہے کہ …. اللہ ایک آئینے کی مانند ہے ، تم آئینے کے قریب جاﺅ تو وہ بھی قریب آ جاتا ہے …. تم پیچھے ہٹو تو وہ بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے ‘ تم چھپ جاﺅ تو وہ بھی چھپ جاتا ہے …. اور بقول شاعر:

احساس ہو رہا ہے جفائے حبیب کا
شاید رہِ دوستی سے بھٹک گئے ہیں ہم

ذکر کے بارے میں درویش لوگ ایک راز کی بات کہتے ہیں کہ…. اللہ اپنے نام کا آپ ہی ذکر کرتا ہے تم لوگ اگر ”میں“ کو مار لو گے تو اِس راز کو پا لو گے۔ اگر تم ”میں “ سے غافل ہو جاﺅ ‘ اس کو نکال دو تو پھر ”تُو ہی تُو“ کا جلوہ ہے ۔ اگر زمین پر ایک آدمی محبت سے لااِلہٰ اِلااللہ کا ذکر کرتا ہے…. تو آسمانوں سے جواب آتا ہے …. محمد الرّسول اللہ…. اللہ جو انصاف سکھاتا ہے ‘ انصاف کرتا بھی ہے۔ اگر کسی انسان نے رائی کے برابر اللہ کی خدمت کی ہو تو اللہ اس کا Regard بھی کرتا ہے اور اس کی خدمت کو Record بھی کرتا ہے …. اللہ کے ہاں کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ اگر تم ایک قدم چلتے ہو تو وہ ستّر قدم تمہاری طرف آئے گا ۔ اگر نیّت اللہ ہو تو سارا سفر ہی اللہ ہے …. اللہ جب چاہتا ہے تو یہ ساری باتیں آسان کر دیتا ہے…. خوبصورت انسان کو اُس کی پیدائش سے پہلے ہی خوبصورت کر دیا۔ محبت کا پہلا کام اُس نے خود ہی کیا …. اللہ فرماتا ہے ”میں چھپا ہوا خزانہ تھا ‘ میں نے چاہا کہ ظاہر ہو جاﺅں“…. اللہ کا چھپا ہوا خزانہ کیا ہے؟ …. انسان …. اب تم نے اللہ کا خزانہ بننا ہے۔ تم نے اللہ کا Master Creation بننا ہے …. تم نے ہی خلیفةالارض بننا ہے۔ تقرّب الہٰی کا جلوہ تمہارے ہاں ہی ہے ۔
اللہ نے کسی مرغابی کو قریب نہیں کرنا…. اشرف المخلوقات میں ہی سار اراز ہے …. سارے جلوے اللہ ہی کے ہیں ۔ کبھی آپ سوچو ، بیج بے رنگ ‘ مٹی بے رنگ ‘ پانی بے رنگ تو یہ رنگ کے جلوے کدھر سے آگئے؟ اگر شعور رکھتے ہو تو یہاں سے اللہ ظاہر ہو جائے گا…. مٹی کی تاریکی میں بیج کو پالنے والا اللہ ہی ہے اور تمہیں اِدھر سے اُدھر لے جانے والا بھی اللہ ہی ہے۔ جہاں پر وجوہات اور نتائج ختم ہو جاتے ہیں وہاں سے اللہ کافضل شروع ہوتا ہے۔ اللہ کے ہاں وجوہات کے بغیر نتیجہ نکلتا ہے …. اللہ کا فرمان اور حضور پاک ﷺ کا عمل ہی اصل زندگی ہے…. حضور پاک کے زمانے میں جو اِسلام تھا ‘ اس وقت کتنے شیعہ تھے؟ کتنے سُنّی تھے؟ کتنے اہلحدیث تھے؟ بریلی اور دیوبند ہندوستان کے دو مقام ہیں ….اور وہاں سے ہمارا عقیدہ ہی نہیں چلتا۔ آپ اللہ کو مانو ، اللہ کے حبیب ﷺ کو مانو، اپنے بھائی کو اس کا حق دو، انسانوں کی زندگی آسان بنا دو …. اگر تمہارے ملک سے مظلوم اور محروم ختم ہو جائیں تو یہ ملک کامیاب ہو جائے گا…. اللہ تیرے یقین کا نام ہے …. اُس کا ہونا تیرے ہونے سے ہے …. جہاں تک ہم ہیں‘ وہاں تک اُس کا تذکرہ ہے۔ جہاں ہم نہیں ‘وہاں اُس کا تذکرہ بھی نہیں۔ بغیر کسی دنیاوی نقصان ‘ غلطی اور تکلیف کے …. تیری آنکھ کا آنسو ہی اللہ ہے…. جہاں محبت ہے ‘وہیں اللہ ہے۔ کہتے ہیں دوست ناراض ہو جائے تو اللہ ناراض ہو جاتا ہے…. خواب کے عالم میں جس نے جان لیا کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے ، اس کو بات سمجھ آ سکتی ہے۔اللہ کے بارے میں تصوّر کے لیے اپنی مرضی سے آنکھ بند نہ کرو …. آنکھ اُس کے کہنے پر بند کرو ‘جو آنکھ کھلوانا جانتا ہو۔ اللہ کے حوالے سے کچھ بھی کرنا اللہ کا ذکر ہے …. خوبصورت کائنات کو دیکھنا بھی اللہ کا ذکر ہے۔

بزرگوں نے فرمایا ہے کہ دنیا کا طالب مو¿نث ہے ، عقبیٰ کا طالب مخنّث ہے…. مولا کا طالب مذکّر ہے۔ نوّے فیصد عافیّت خاموشی میں ہے۔ خاموشی دانا کا زیور اور احمق کا بھرم ہے۔ لاعلمی کا احساس رکھا کرو ‘ شعور پیدا ہو جائے گا ۔

یا اللہ ! ہماری غلطیاں جو ہمارے علم میں ہیں اور جو ہمارے علم میں نہیں ہیں ‘ اُنہیں معاف فرما۔ یا اللہ ! تُو ہی ہماری اصلاح فرما…. یا اللہ ! آنے والے حالات کی روشنی میںہمارے دلوں کا اندھیرا دور فرما ‘تاکہ ہم تیرے قریب رہنے کا شوق پیدا کریں …. ہم پر اپنا رحم فرما۔
مرتّبہ : ضمیر حسین قریشی

Wasif Ali Wasif (15 January 1929 – 18 January 1993) was a teacher, writer, poet and sufi from Pakistan. He was famous for his unique literary style. He used to write short pieces of prose on topics like love, life, fortune, fear, hope, expectation, promise, prayer, happiness, sorrow and so on. He was the regularcolumnist of Pakistan Urdu Newspaper Nawa-i-Waqt. In his life most of his columns were combined to form books with his own selected title. He did poetry inUrdu and Punjabi languages. Probably no contemporary Urdu writer is more cited in quotations than he is. Later years he used to answer questions in specially arranged gatherings at Lahore attended by the notable community. Some of these sessions were recorded in audio and were later published asGuftgoo (talk) series. His mehfils never had a set subject nor did he lecture on chosen topics. His way was to ask people if they had questions and then he responded to these in his highly original style. He has left behind about 40 books to his credit and his thought was more on mysticism, spirituality and humanity.

Got something to say? Go for it!