خاکِ کفِ پا اُن کی اور اُس پہ جبیں میری
اے کاش نکل جائے اب جان یہیں میری
بے بس ہوں تڑپتا ہوں گُنبد کی زیارت کو
فریاد ذرا سن لو خضریٰ کے مکیں میری
بے صوت ہے گُنبدِ جاں ‘بے نام ہے کتبہ¿ روح
آ باد ہو بستی ¿ دل ‘اے عرش نشیں میری
دیکھ آیا ہوں روضے کو‘ چوم آیا ہوں جالی کو
کیونکر نہ بلائیں لے اب فلک ِ بریں میری
آنا تو ہے تُو نے اجل ‘اُس وقت ہی آ جانا
جب خاک ِ مدینہ پر رکھی ہو جبیں میری
علم اور محبت کا مرکز ہو یہ ارضِ وطن
یہ آرزو ہو پوری‘ شہ¿ِ دین ِ متیں میری
آقا کی جو مدحت ہے ‘ اُ ن کی ہی عنایت ہے
اِک لفظ بھی خود کہنا ‘ اوقات نہیں میری
عبدالرزّاق

